چٹان/ عائشہ نور

سیلاب کی تباہ کاریاں

ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارشوں کے سبب کئی مقامات پر دریاں اور ندی نالوں میں شدید طغیانی ہے جبکہ کء علاقوں کو بھارتی آبی جارحیت کا بھی سامنا ہے۔ اب تک سینکڑوں افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں جب کہ ہزاروں کچے پکے مکانات بہہ گئے ، سینکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکیہیں ، ہزاروں مویشی ڈوب مرے اور کھڑی فصلیں تباہ و برباد ہوچکی ہیں۔سیلاب زدگان کا شکوہ بجا ہے کہ اس قدر تباہ کاریوں کے باوجود انہیں وہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی ، جوملنی چاہیے تھی ۔سوشل میڈیا پر بھی ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر کافی اضطراب پایا جاتا ہے ۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی رسہ کشی کی بجائے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی امداد اور بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔حالیہ سیلاب سے متاثرہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قیامت صغری کے مناظر دیکھنے کو مل رہیہیں ۔

سرائیکی وسیب کے علاقوں تونسہ شریف, ڈیرہ غازی خان، فاضل پور, راجن پور کی تمام تحصیلیں سیلاب میں مکمل طورپر ڈوب گئی ہیں ۔ صورتحال مقامی افراد اور فلاحی تنظیموں کے بس سے باہر ہوچکی ہے۔ سیلاب زدگان ریاستی اداروں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت ہے ، مختلف وبائیں پھوٹنے کا بھی امکان ہے ۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ، ہزاروں لوگ پناہ گاہوں کے بغیر کھلے آسمان تلے زندگی اور موت کی جنگ لڑرہیہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مٹی سے سینکڑوں لاشیں نکالی جا رہی ہیں ، بلوچستان اور سندھ میں بھی حالات جنوبی پنجاب سے مختلف نہیں ہیں۔ جنوبی پنجاب میں تقریبا 38 ہزار سے زیادہ مکانات، 33 کلومیٹر طویل سڑکیں متاثر ہوئیں جبکہ NDMA کے اعداد و شمار کے مطابق 7 پلوں کو نقصان پہنچا ہے اور 26 اگست تک ڈیرہ غازی خان خان اور تونسہ شریف میں بڑا سیلابی ریلہ آنے کا خدشہ ہے۔قومی سطح پر NDMA کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور بلوچستان میں اب تک 225 اموات ہو چکی ہیں۔کوئٹہ کراچی ہائی وے کے علاوہ ایم ایٹ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ہے ۔ NDMA کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں 26 ہزار مکانات، 710 کلومیٹر طویل شاہراہیں، 18 پل اور پانچ لاکھ سے زیادہ مویشی سیلاب سے متاثر ہوئے۔ نصیر آباد کے علاقے” ربی” میں قومی شاہراہ مکمل طور پر زیر آب ہے اور کوئٹہ کا زمینی راستہ سکھر قومی شاہراہ سے منقطع ہے۔

جبکہ سندھ کے 23 اضلاع سیلاب سے متاثرہ ہیں۔NDMA کا کہنا ہے کہ سندھ میں 17 اضلاع سب سے زیادہ متاثرہ ہیں ، جن میں 19 لاکھ سے زیادہ آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ صوبے میں 120 بچوں اور 35 خواتین سمیت کم از کم 239 اموات ہوئی ہیں جبکہ 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔سندھ کی 2135 طویل شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں، 45 پل ٹوٹ گئے ہیں اور 3 لاکھ سے زیادہ گھر و عمارتیں جزوی یا مکمل تباہ ہوئیں اور 3150 مویشی بھی سیلاب کی نذر ہوئے ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرپور، مٹھی اور چھور کے مقامات پر زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور 26 اگست تک سندھ کے بعض اضلاع میں شہری سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ موسلا دھار بارشوں سے کراچی، حیدرآباد، ٹنڈو جام اور ٹھٹھہ میں سیلاب کا خدشہ ہے۔24 اور 25 اگست کو لاڑکانہ، جیکب آباد اور سکھر میں سیلابی ریلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔سیلابی ریلوں نے ضلع قمبر شہداد کوٹ میں بھی شدید تباہی مچائی ہے۔

سندھ میں جاری غیر معمولی بارشوں کے باعث نواب شاہ ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیاہے۔ NDMA کے مطابق خیبر پختونخواہ کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کے اضلاع سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔خیبر پختونخواہ میں 86 بچوں سمیت کم از کم 168موات ہو چکی ہیں جبکہ 228 افراد زخمی ہوئے ہیں۔صوبے میں 26 اگست تک مزید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے ایبٹ آباد اور مانسہرہ سمیت دیگر علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سوات کے مختلف علاقے سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف شاہراہیں بند ہیں۔سوات کے سیاحتی مقام مینگورہ میں بھی سینکڑوں مکانات زیرِ آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ NDMA کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 اموات ہوئیں جہاں بالترتیب چھ اور دس اضلاع کے تقریبا 10 ہزار افراد متاثر ہوئے اور 900 کے قریب مکانات متاثر ہوئے ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جانی و مالی نقصانات کے متعلق جاری کردہ ابتدائی سرکاری اعدادوشمار سے کہیں تباہ کاریوں کا خدشہ ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومتوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر امدادی سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیاہے مگر اس کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں سیلاب زدگان تک امدادی ٹیمیں ابھی تک نہیں پہنچ سکی ہیں اور وہاں کے حالات کی تاحال کوئی خبر نہیں ہے ۔ چنانچہ سیلاب زدگان کی امداد و بحالی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ حکومتی سطح پر اقدامات کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی چاہیے کہ مختلف فلاحی تنظیموں کے توسط اس کارخیر میں ضرور ہاتھ بٹائیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں