چٹان/ عائشہ نور

سیلاب : قدرتی آفت یا بدانتظامی

رواں برس آنے والا سیلاب بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب ہے ۔ پاکستان کو 1950 سے لے کر اب تک 21مرتبہ سیلابی صورتحال سے واسطہ پڑا ۔ رواں برس سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی شرح بھی گزشتہ برسوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ اس وقت یہ موضوع بھی زیربحث ہے کہ یہ قدرتی آفت ہے یا بد انتظامی ؟ حکمرانوں نے ہمیشہ اسے قدرتی آفت قرار دے کر خود کو کلین چٹ دی ، ہر مرتبہ سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کے نام پر دوسرے ممالک سے امداد​ی رقوم لی گئیں ، فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کے تعاون سے معاملات نمٹائےگئے۔ عوام الناس کی ذہن سازی بھی اس طرح کردی گئ کہ وہ سیلاب کو قدرتی آفت ہی سمجھتےہیں اورہر سال آنےوالے سیلاب کی وجوہات جاننے اور ان کے بروقت تدارک کا مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ رواں برس بھی صورتحال مختلف نہیں تھی ، ملک میں بھرپور سیاسی افراتفری مچی رہی ، حصول اقتدار کی جنگ میں مشغول سیاست دانوں کے پاس عوام کیلئے کچھ سوچنے کا وقت ہی کہاں بچتاہے؟ حالانکہ 2022 میں ممکنہ سیلابی صورتحال کی پیشگوئی کئ ماہ پہلے کردی گئ تھی۔ اربابِ اختیار کے پاس عوام کو یہ بتانے کا وقت نہیں تھا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں (Global warming) کے زیراثر ہے ، پاکستان کا موسم بدل رہا ہے ، تیزی سےماحولیاتی تغیرات رونما ہورہے ہیں ، ۔ موسم گرما میں درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے کے سبب گلیشئیرز پگھل رہے ہیں ، اور مون سون بارشیں بھی معمول سے زیادہ ہورہی ہیں ، جس کی وجہ سے دریاؤں کا پانی بےقابو ہوتاجارہاہےاور سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے انتظامات کا فقدان ہے،

جنگلات کی غیرمعمولی کٹائی میں اضافہ ہورہا ہے، نئے درخت نہ لگانے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہےاور درجہ حرارت بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہم ہر سال بھارتی آبی جارحیت کی شکایت کرتے ہیں ، مگر اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم نے کوئی تیاری نہیں کی ۔ اگر یہ ہی صورتحال رہی تو آئندہ آنے والے برسوں میں بھارت جب چاہے گا ہمارے حصے کا دریائی پانی روک کر ہماری زمینیں بنجر کرےگا اور جب چاہے گا اپنےڈیموں کا سیلابی پانی ہمارے دریاؤں میں چھوڑ کر ہماری بستیاں ڈبوتا رہےگا۔ یہ داستان کافی طویل ہے ، مختصر یہ کہ ہم اپنے ملک میں نئے آبی ذخائر تعمیر نہیں کرسکے ، کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہوگیا۔ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر ہم نے کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ اگر ہمارے پاس کئ چھوٹے بڑے ڈیمز ہوتے تو یقیناً ہم سیلابی پانی کو ذخیرہ کرکے آبادیوں کو نہ صرف سیلابی​ ریلوں کی شدت سے بچاسکتے بلکہ خشک سالی کے ایام میں بھی اپنی زمینوں کو بنجر ہونے سے بچا پاتے اور بجلی کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا۔ یوں ہم بھارتی آبی جارحیت اور ماحولیاتی تبدیلیوں دونوں سے نمٹنے کے قابل ہوجاتے۔

المیہ یہ بھی ہے کہ دریاؤں اور برساتی نالوں کے اردگرد غیرقانونی تعمیرات بھی نہیں روکی گئیں، دریاؤں پر حفاظتی پشتے تک تعمیر نہیں کیےگئے، شہروں سے نکاسی آب کا بندوبست نہ ہونے کے باعث urban flooding سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ 2010کی بات ہے کہ ملک کا پانچواں حصہ سیلاب میں ڈوب گیا اور 2کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔پاکستان میں ہرسال اوسطاً 7لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جدید مواصلاتی نظام Early warning system کو بہتر نہیں بنایا جاسکا۔ پاکستان کو سیلاب کے قبل از وقت تدارک کیلئے چین سے سیکھنا چاہیے، چین کا تیسرا بڑا دریا ینگتزی 6300 کلومیٹرلمبا ہے، یہ چین کے 19 صوبوں سے گزرتا ہے، اس دریا کے سبب چین میں کئ سیلاب آئے، سب سے بڑا سیلاب 1998 میں آیا، جس میں 4 ہزار لوگ مرے، اور معیشت کو 25ارب ڈالرز کا نقصان ہوا،اس کے بعد چین نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، چین نے فطرت سے لڑنے کی بجائے مل کر رہنے کی پالیسی اپنائی، جنگلات میں اضافے اور ان کے کٹاؤ کو روکنے، مرطوب زمینی علاقوں میں اضافے اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر کو یقینی بنایا گیا، ایک مرکزی منیجمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ، دریائی امور اس کی نگرانی میں دے دیئے گئے۔

جبکہ ہمارے ہاں یہ حال ہے کہ اس وقت پاکستان میں چوتھا نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان چل رہاہے،جسے 2025 تک چلنا تھا مگر خدا خدا کرکے 2018 میں اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے رقم مختص ہوپائی، جو تقریباً332 ارب روپے کے لگ بھگ تھی، 291 ارب روپے انفراسٹرکچر جبکہ 41ارب روپے Early warning system کےلیے مختص ہوئے، اور پاکستان میں ایک عدد river act بھی منظورکیا جاچکا ہے جس کی رو سےدریاؤں کے آس پاس زمین پر ناجائز اور غیرقانونی تجاوزات اور آبادیوں کو روکنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، مگر ان تمام تر اقدامات کے باوجود نہ تو ہم انفراسٹرکچر بہتر بناسکے اور نہ ہی غیرقانونی تجاوزات کو روکا جاسکا۔ پالیسیاں​ بنانے اور ان پر عملدرآمد کیلئےہمیں چین جیسے طرزِ عمل کی ضرورت ہے ، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے بنائے گئے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ افسوس کہ اس کی بجائے ہمارے ہاں سیاسی شخصیات سیلاب آنے کے بعد چندہ مہم میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر ذاتی تشہیر میں مصروف ہیں ۔ پاکستانی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بہترین لیڈر وہ نہیں ہوتا کہ جس نے سب سے زیادہ چندہ جمع کیا ہو ، بلکہ بہترین اور مثالی لیڈر وہ ہوتاہے کہ جو ایسی نوبت ہی نہ آنے دے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں