سیلاب نے سندھ کے اہم شہر کی طرف رخ جانب کر لیا، 30 سے زائد دیہات زیر آب

جامشورو: سیلاب نے رخ دادو شہر کی جانب کر لیا ہے، جس سے 30 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہیں، جب کہ انتظامیہ غائب ہے، متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی کھیرتھر کینال میں پانی کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس سے کینال میں شگاف پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کھیرتھر کینال کے گڑنگ ریگولیٹر پر گیٹ بند ہونے کے باعث کینال ڈیم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اگر کینال میں شگاف پڑ گیا تو گڑھی خیرو تعلقہ زیر آب آ سکتا ہے۔

منچھر جھیل کا سیلابی پانی بھان سعید آباد شہر تک پہنچ گیا، ریسکیوذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی بھان سعید آباد شہر کے محفوظ بند کو بھی کراس کرنے لگا ہے۔ سیلابی پانی سے گرڈ اسٹیشن بھان سعید آباد مکمل طور پر ڈوب گیا ہے، جہاں 5 سے 8 فٹ پانی جمع ہے، سیلابی پانی کا ریلا یونین کونسل شیخ کو متاثر کر کے شہر کی طرف بڑھنے لگا ہے۔

تحصیل گڑھی خیرو کا دیہات سے 20 دن سے رابطہ منقطع ہے، خیرپور میں پیروسن میں سیلاب سے تباہی مچ گئی ہے، 100 سے زائد دیہات زیر آب ہیں، مہران ہائی وے کے اطراف 15 فٹ تک پانی جمع ہو گیا ہے۔سیلابی ریلوں کے باعث سیکڑوں افراد محصور ہو گئے ہیں، کئی علاقوں سے مکینوں نے نقل مکانی کر لی ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے۔نیشنل ہائی وے پر نوشہرو فیروز، کنڈیارو اور مورو کے اطراف میلوں تک ٹریفک جام ہے، ٹرالر، آئل ٹینکرز کئی دن سے پھنسے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں