اتالیق /باسط علی

خلیق الرحمن صاحب کی یاد میں(قسط نمبر1)

جمعرات 8 ستمبر کی صبح ڈیوٹی پہ جاتے وقت بھونٹ چوک پہ گاڑیوں اور انسانوں کا غیر معمولی ہجوم دیکھ کر کچھ پریشانی ہوئی۔ ابتدائی مشاہدے اور معلومات کے مطابق ایسا ہی لگا جیسے کوئی حادثہ رونما ہوا ہو۔ سڑک کے نچلے کنارے موٹر سائیکل پڑا تھا۔ جس کےخستہ حال ہینڈل شیشے اورمیٹر کسی حادثے کی بری خبر کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ ٹیکسی میں موجود ڈرائیور نے کسی راہ گیر سے پوچھا بھائی سوار بچ گیا ہے؟ نہیں فوت ہوگۓ۔۔۔۔! کون تھے؟ کوئی استاد تھے عینی شاہد نے جواب دیا۔ کافی سارے لوگ کنارے پہ کھڑے نیچے نالے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ لوگوں کے چہروں پہ تاسف اور افسوس کے آثارنمایاں تھے۔ لگتا ایسے تھا کہ موٹر سائیکل دیوار سے ٹکرانے کے بعد سوار نالے میں گر گۓ۔جہاں بڑی بڑی چٹانوں اور پتھروں سے ٹکرا کرزخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓدم توڑ گۓ۔

مرحوم کا جسد خاکی سامنے کسی سرکاری گاڑی میں رکھ کر ضلع ہسپتال کی طرف روانہ ہوۓ۔ پولیس اور انتظامیہ بھی ساتھ چل دئیے۔ یوں رکی ٹریفک رواں ہوئی۔ تاحال مرحوم کے بارے میں ہماری گاڑی کے سواروں کو کچھ خبر نہ تھی۔ کون تھے؟ کہاں سے تھے؟ حادثہ کیسے پیش آیا؟ سب کے چہروں پہ افسردگی کے آثار نمایاں تھے۔ بےحس و حرکت ڈید باڈی دیکھ کر اعصاب پہ ایک نامعلوم بوجھ اور تھکاوٹ طاری رہی۔ دن گیارہ بجے کے قریب فیس بک کو ٹٹولتے ہوۓ۔ یہ بری خبر عیاں ہوئی کہ دوران حادثہ جاں بحق ہونے والے مرحوم و مغفور استاد محترم خلیق الرحمن صاحب تھے۔

غم کی شدت مزید بڑھ گئی یقیناً موصوف سے ایک روحانی تعلق تھاجو سترہ اٹھارہ سال قدیم تھا۔ ذہن میں وہ پرانی یادیں کسی فلم کی ریل کی طرح ریوائنڈ ہو رہی تھیں۔ سال 2004غالبا اپریل کا مہینہ تھا۔ ہائی سکول ناڑ شیر علی خان میں سالانہ نتائج کے بعد ہماری کلاس نویں جماعت میں پروموٹ ہوئی۔ گاوں کے سادہ لوح لڑکے، ملیشیاء کا سیاہ جوڑاسرکاری سکول کا یونیفارم ہوتا تھا۔ اکثر لڑکوں کو پہاڑی پیچیدہ راستوں پہ گھنٹوں سفر کرنا پڑتا جس کے لئے زیادہ تر پلاسٹک کا کالا جوتا ہی پہنا جاتا تھا۔ اس بیک ورڈ دور افتادہ گاوں میں پڑھائی کو زیادہ اہمیت و افادیت حاصل نہیں تھی۔ غریب طلباء چھٹی والے دن محنت مزدوری کرتے، جنگل سے لکڑیاں لانا، اسوج میں سکول کے بعد گھاس کاٹنا، مال مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا اور ڈھوکوں سے لکڑیاں یا گھاس وغیرہ لےکر گراں آنا، ایک طالب علم کی واجب الادا ذمہ داریاں ہوا کرتی تھیں۔ تہذیب و تمدن سے نا آشنا یہ سادہ لوح طالب علم خود اعتمادی اور بے باکی کا فقدان لئے جب میٹرک کی کلاسز میں پروموٹ ہوتے تو ایک استاد کے لئے ان کی تعلیم و تربیت کرناجواۓ شیر لانے کے مترادف ہوتا۔

اس دور میں میٹرک میں پاس ہونا ایک بہت بڑی کامیابی گردانی جاتی تھی۔ اکثر سرکاری اداروں میں بورڈ کا نتیجہ دس فیصد سے کم ہی رہتا۔ زیادہ تر طالب علم آرٹس کے مضمون کا ہی انتخاب کرتے۔ اور آرٹس کے ساتھ میٹرک کرنے کو پورے عقیدت و احترام سے سلیبریٹ کیا جاتا۔ سپلی آنے پہ گاوں والے امیدوار کو غیر معمولی خراج تحسین سے نوازا کرتے۔ ہم ستر کی کلاس میں سے بیس لوگ سائنس گروپ میں شامل ہوۓ۔ آرٹس کے ساتھی ہم سائنس والوں کو سائنس دان کہا کرتے اور اپنے خیال میں ہمیں انتہائی ذہین فتین اور دانشور سمجھتے۔ ہماری فراست اور ذہانت پہ رشک کرتے۔ آرٹس کے اساتذہ کے حلقے میں بھی ان مخصوص طلباء کو کافی عزت اور اہمیت حاصل تھی۔

سکول میں بائیولوجی اور کیمسٹری کے نئے استاد آۓ تھے۔ انتہائی شفیق ملنسار چھوٹی چھوٹی سیاہ داڑھی، سفید اجھلی سادہ شلوار قمیض پاوں میں پشاوری چپل پہنے۔ یہ محترم خلیق الرحمن صاحب تھے۔ جو سنئیر سائنس ٹیچر کے عہدے پہ براجمان تھا۔ طلباء کے نزدیک سکول میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور قابل استاد تھے۔ اس کے ساتھ سائنس کا استاد ہونا زیادہ اعزاز کی بات تھی۔ محترم اپنی موٹر سائیکل پہ سوار ہو کر سکول آتے تھے اس دور میں بشمول ہیڈ ماسٹر صاحب سکول کے کسی استاد کے پاس یہ سہولت نہیں تھی۔ ہم جیسے اجڈ، پینڈو،اور تہذیب و تمدن سے ناآشنا طلباء کو بائیو کیمسٹری جیسے تکینکی مضامین اس مہارت اور دلجمعی سے پڑھانا شروع کئے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اگلا سبق پڑھنے کا بے چینی سے انتظار رہتا۔

سکول میں ایک چھوٹی سی سائنس لیب تھی جس میں پیچھے شیلفوں پہ کیمسٹری، بائیو اور فزکس کا سامان بڑے سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔ جن میں گنے چنے گلاس وئیر دوچار کمیکلز اور سالٹس کی علاوہ خراب مائیکروسکوپس اور بائیولوجی کے سیمپلز تھے۔ سکول کی یہ پرانی ایکسپائرڈ تجربہ گاہ میں بیٹھ کر ہم پھولے نہ سماتے۔ گاوں کے ہر فرد بڑے چھوٹے سے بڑے فخر سے چرچا کرتے کہ میں سائنس کا طالب علم ہوں خلیق الرحمن صاحب ہمارے مدرس ہیں جو سنئیر سائنس ٹیچر ہیں اور ہمیں بائیولوجی اور کیمسٹری پڑھاتے ہیں۔ وہ انتہائی شفیق محنتی اور قابل استاد تھے۔ متعلم کو ان سے کوئی روحانی انسیت یا لگاو رہتا.
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں