اتالیق /باسط علی

خلیق الرحمن صاحب کی یاد میں(قسط نمبر2)

2004 کے دور میں سرکاری اساتذہ کی کوئی منظم بازپرس نہیں ہوتی تھی۔ اساتذہ غیر حاضر رہتے، براۓ نام پڑھایا کرتے یا خراب نتائج دیتے۔ محترم ان دنوں پابندی سے کلاس لیتے۔ نا صرف کلاس لیتے بلکہ بھر پور طریقے سے کلاس کے پینتس یا چالیس منٹ یوٹیلائز کرواتے۔ ان دنوں ہیڈ ماسٹر شہزاد خان صاحب کہنہ موہری والے ہوا کرتے تھے۔ سردار عتیق صاحب جو ریاضی پڑھایا کرتے تھے اور ماسٹر شبیر مغل صاحب انگریزی کے مایہ ناز استاد ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں میٹرک میں بیشتر طلباء کی کامیابی کاسہرا انہی اساتذہ کا مرہون منت تھا۔ وقت اور حاضری کی پابندی کے ساتھ ساتھ بہترین پیشہ ورانہ خدمات ان معزز شخصیات کا امتیازی خاصہ تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو طلباء کی بہتر زندگیاں تعمیر کرنے کے لئے ہمہ وقت سرگرداں رہتے تھے۔

ان دنوں سرکاری استاد بچوں کو بہت مارا پیٹا کرتا تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مارناایک بہترین استاد کی امتیازی خاصیت سمجھی جاتی تھی۔ کچھ اساتذہ مارتے زیادہ اور پڑھاتے کم تھے۔ لیکن مندرجہ بالا اساتذہ سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور حد درجہ مار پیٹ سے پر ہیز کرتے۔ محترم خلیق صاحب نے نویں جماعت کے ابتدائی دنوں میں ایک ہی پھینٹی لگائی تھی۔جو پورے دوسال تک طلباء کے لئے ایک مفید اور بااثر ڈوز ثابت ہوئی۔ پورے دوسال تک تمام طالب علم ساتھیوں نے غلفت برتنے کی جسارت نہیں کی۔ محترم نے اولین نہم میں ہی رعب اور دبدبے کی جو دھاک بٹھائی اس سے پورے دورانیے میں سواۓ پڑھائی کے کسی دوسری سمت سوچنے کاموقع ہی نہیں دیا۔

تین چار طالب علم دوست جو ڈھلی سے سکول آیا کرتے تھے اکثر سکول سے غیر حاضر رہتے۔ ان دنوں موبائل فون یا ٹیلی فون کا کوئی منظم نظام مو جود نہ تھا۔ طویل المدتی غیر حاضری کا معمہ حل کرنے کے لئے رہڑہ اور باغ سے آنے والے اساتذہ نے مل کر چھان بین کی تو یہ راز افشاں ہوا کہ یہ تینوں طلباء صبح سویرے تیار ہو کر بستہ بغل میں دباۓ سکول نکلتے ہیں۔ سنی کس کے مقام پہ بستے کسی ہوٹل پہ رکھ کر دیگر مشاغل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ یہ تین چار لڑکے کافی ہٹے کٹے صحت مند قد کاٹھ والے تھے۔ جن کا نام لینا موزوں نہیں سمجھتا۔ ان کے معمولات کچھ یوں ہواکرتے۔ ان دنوں زیادہ تر پیدل چلنے کا ہی رواج ہوتا تھا۔ یہ گھر سے سکول کے لیے نکلتے تو ڈھلی بازار سے ہی سگریٹ کا مہنگاپیکٹ خریدتے۔ یہ راستے میں ہی سگریٹ سلگاتے اور خراماں خراماں گپیں ہانکتے سنی کس تک پہنچتے۔ سگریٹ کے نشے میں دھت یہ لوگ ایک چھوٹےسے ڈھابہ نما ریسٹورنٹ پہ پہنچتے۔

ریسٹورنٹ پہ جواں سالہ لڑکا مالک اور باورچی دونوں کے فرائض سرانجام دیتا۔ اس کے علاوہ ایک نوعمر بیرہ بھی اس کے اعانت کے لئے ہمہ وقت موجود رہتا۔ یہ چار دوست حصول علم سے بغاوت و بائیکاٹ کر کے ہوٹل میں گوشہ نشین ہو جاتے۔ ہوٹل کا مالک ان کا اچھا دوست تھا۔ اس بے تکلفانہ یارانے کے باعث سی ڈی پلئیر پہ ان کی من پسند فلم چلائی جاتی۔ بعض دفعہ تو فلم کی سی ڈی بھی یہ ساتھ لاتے۔ تین گھنٹے کی فلم سے چاروں احباب بھر پور لطف اندوز ہوتے۔ اس دوران چاۓ کے کئی دور چلتے۔ اور یوں فلم کے اختتام پہ ان کا اگلی منزل ایک قریبی جوا خانہ یا کرم بورڈ ہوتا۔ جسے مقامی زبان میں پھٹہ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ پھٹہ کھیلنے میں اپنی مثال آپ تھے اور مقامی کھلاڑیوں میں بے حد مقبول تھے۔ سنی بازار میں اس وقت چار پانچ دوکانیں ہی ہوا کرتی تھیں۔ مقامی لوگوں کو پتا تھا کہ یہ لونڈے سکول سے چھپ کر اوارہ گردی کرتے ہیں مگر کوئی بھی ان کی شکایت کرنے کی جسارت نہ کرتا۔

محترم اساتذہ جن میں خلیق الرحمن صاحب اور سردار عتیق صاحب سر فہرست تھے ضروری معلومات حاصل کرنے کے بعد وقت اور جگہ کی پوری جانکاری رکھتے ہوۓ ایک کامیاب ریڈ کیا۔ چاروں دوست اس وقت ہوٹل میں فلم دیکھ رہے تھے۔ ٹی وی پہ نیم عریاں خواتین ناچ رہی تھیں اور بہت زبردست ہندی گانا چل رہا تھا۔ چاروں احباب اپنے نشے میں ڈوبے اس تما کاروائی سے محظوظ ہو رہے تھے۔ کسی کو خبر نہیں تھی اگلے لمحے ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دونوں اساتذہ کے پاس چھڑی یہ لکڑی تھی جو ہوٹل میں جلانے کے لئے رکھی گئی تھیں ہاتھ میں لئے ان نوجوانوں پہ قہر بن کے ٹوٹے۔ اس سے پہلے کہ لوگوں کو پتا لگتا کیا ہوا ہے یہ چاروں ہوٹل سے باہر آچکے تھے۔ عتیق صاحب زیادہ دور تک ان کا تعاقب تو نہ کر سکے لیکن خلیق صاحب ہاتھ میں لکڑی لئے انہیں ہانکتے ہوئے بستوں سمیت سکول تک لے کر آۓ۔ پورے بازار نے اساتذہ کی وہ مار پیٹ ملاحظہ کی جو ان لوگوں کو نشان عبرت بنانے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ بعد ازاں ان چاروں کے والدین کو بلایا گیا اور ان کی نگرانی کرنے کی تنبیہہ بھی کی گئی۔ اس کے بعد نویں دسویں جماعت میں سکول سے چھپنے والوں کی تعداد کافی کم ہو گئی۔

کیمسٹری بائیو فزکس میتھ سیکھنے کا یہ سفر ان مہان ہستیوں کے ساتھ جاری رہا۔ سردی،گرم، بارش برف خواہ کوئی بھی موسم ہو۔ ایک سرکاری سکول میں بہترین تعلیم دینے والے یہ لوگ پیش پیش رہے۔ نویں جماعت سے قبل باقاعدہ ختم اور طلباء کی کامیابی کے لئے دعا ہوئی۔ دعا اور ختم حافظ ظریف صاحب کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ نویں کے امتحانات میں چاروں اساتذہ نے ان طلباء اپنے بچوں کی طرح فالو اپ کیا۔ ہیڈماسٹر شہزاد صاحب پیار سے اپنے دفتر بلا کر نصحیتں کرتے طلباء کو موٹیویٹ کرتے اور متعلقہ اساتذہ کی نگرانی میں پرچہ حل کرنے کے مفید ٹپس دیتے۔ یہ اساتذہ امتحانی ھال میں بھی امتحانی املہ کے ساتھ موجود رہتے اور ہماری حوصلہ افزائی کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں