سیلاب متاثرین کی مشکلات ،مسائل کے حل کے لیے سٹرکوں پر آنے کا افیصلہ

امداد کے منتظر ٹھٹھہ کے سیلاب متاثرین کا صبر جواب دے گیا اور متاثرین نےکراچی ٹھٹھہ شاہراہ کو 4 سے 5 گھنٹے تک احتجاجاً بلاک رکھا۔ امداد نہ ملنے پر عورتیں اور بچے بھی سڑکوں پر آگئے اور کراچی ٹھٹھہ شاہراہ کو کئی گھنٹوں تک بلاک رکھا جس سے ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

سندھ کے سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب نے انہیں برباد کر دیا ہے لیکن انتظامیہ بھوک اور بیماری کے ہاتھوں مرنے سے تو بچائے۔ادھر دادو میں بھی متاثرین امداد کے لیے پریشان ہیں اور انتظامیہ سے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ علاج کی فراہمی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھان سعید آباد اور میہڑ کے ریلیف کیمپوں میں دو خواتین اور ایک بچہ چل بسا جبکہ سیلاب متاثرین گیسٹرو، ڈائریا اور ملیریا سمیت طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔دوسری جانب کوٹری بیراج پُل پر سیلاب متاثرین نے ڈپٹی کمشنر جام شورو کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ گاؤں سے پانی نہیں نکال رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں