چٹان/ عائشہ نور

کالا قانون

لاہور کی احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ جاری کردیا ہے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے خاندان کی شوگر مل کو فائدہ پہنچایا،ملزمان نے دس کلومیٹر طویل نالہ بنوا کر قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔ لیکن نیب ترمیمی آرڈیننس 2022 کے تحت احتساب عدالت کے پاس مزید ٹرائل کا اختیار نہیں ہے۔لاہور کی احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس قومی احتساب بیورو (نیب) کو واپس بھجوا دیا ہے۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دئیے کہ 50 کروڑ سے کم کرپشن کا کیس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ واضح رہے کہ شریف خاندان کےخلاف رمضان شوگر ملز کیس میں 10 کم تنخواہوں والے ملازمین کے اکاؤنٹس میں 7 ہزار 404 ملین روپے موصول ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

رمضان شوگر ملز کیس وہ مقدمہ ہے جس میں شریف خاندان کے اہم ترین افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس مقدمے میں نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے اس وقت لاہور کی ایک احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا ، جب وہ نیب کی طرف سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کے العزیزیہ ریفرنس میں جیل میں ہی تھے۔مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں رہائی ملی تو نیب نے انھیں بھی رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار کرلیا۔ نیب نے شہباز شریف کو بھی آشیانہ ریفرنس میں حراست میں لیا تھا جبکہ رمضان شوگر ملز کیس سمیت دیگر مقدمات میں بھی ان کو تفتیش کے لیے طلب کیا جاتا رہا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اورسابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کا ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس ارسال کیا جاتاہے، اور نیب یہ ریفرنس متعلقہ فورم پر دائر کرے۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز متعلقہ فورم پر پیش ہوں اور وہاں اپنا مقدمہ پیش کریں جبکہ دونوں ملزمان پانچ پانچ لاکھ کے شورٹی بونڈز بھی جمع کروائیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں قومی اسمبلی نے نیب قوانین کے حوالے سے کئ ترامیم کی منظوری دی ہے ، جس کے تحت پچاس کروڑ روپے سے کم کی بدعنوانی کے مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو گئے ہیں۔ PDM حکومت نیب قوانین کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کو دبایاجا سکے ، نیب ترمیمی بل 2022 کے تحت رمضان شوگر ملز میں شریف خاندان کے اہم افراد کو ملنے والا بڑا ریلیف اس کی واضح مثال ہے۔ نیب ترمیمی بل 2022نے نیب کو مکمل طورپر بے اختیار کردیا ہے ، نیب کے دائرہ کار کو محدود کرنے کےلیے صدر مملکت سے احتساب عدالت کے ججز کی تقرری کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ بل کے تحت نیب پچاس کروڑ روپے سے کم کرپشن کیسزکی تحقیقات کرنے کا مجاز نہیں ہوگااور احتساب عدالتوں کے ججز کی تقرری کا اختیاروفاقی حکومت کے پاس رہے گا۔بل کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں3 سالہ توسیع کی جا سکے گی۔

نیب قانون کے سیکشن 16میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے ، جس کے تحت کسی ملزم کے خلاف مقدمہ وہیں کی احتساب عدالت میں چلےگاجہاں جرم کااتکاب ہوا ہو۔ نیب قانون کے سیکشن 19 ای میں بھی ترمیم کر دی گئی اور نیب کو ہائی کورٹ کی مدد سے نگرانی کی اجازت دینے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔بل کی رو سے نیب ملزمان کے خلاف تحقیقات کیلئے کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لے سکتا، ملزم کو اس کےخلاف لگائے گئےالزامات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔نیب قانون کے سیکشن 31 بی میں بھی ترمیم کر دی گئی ، جس کے تحت چیئرمین نیب فرد جرم ہونےسےقبل ریفرنس ختم کرنے کی تجویز کر سکیں گے۔بل کے مطابق پلی بارگین کے تحت رقم واپسی میں ناکامی کی صورت میں پلی بارگین کا معاہدہ ختم ہو جائے گا ، اس کا اطلاق حکومت کی ایمنسٹی سکیم کے تحت لین دین، ریاستی ملکیت کے اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر نہیں ہو گا، صدر وفاقی حکومت کی سفارش پر پراسیکیوٹر جنرل مقرر کرے گا۔

نیب ترمیمی بل 2022 خامیوں سے بھرپور ہے، یہ بل بدعنوان عناصر کو مکمل طورپر تحفظ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان ترامیم نےنیب کے ہاتھ پاؤں توڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ پارلیمان کے قانون سازی کے اختیارات کا غلط استعمال کیا جارہاہے۔ حکمران طبقہ صرف اپنے ذاتی مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر ملکی آئین و قانون میں من مانی ترامیم کررہاہے ۔ نیب ترمیمی بل 2022 کا منظور ہونا پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک بدترین اور سیاہ باب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں