فکرونظر: شہریا احمد خان

فیض قلندر اور ”قرب حق“ (حصہ اول)

راقم اب تک بلاشبہ تصوف پر درجنوں کتب کا مطالعہ کر چکا ہے لیکن جو لطف سید شاکر عزیر صاحب کی تصنیف ”قرب حق“ کا کر کے ملا وہ اپنی مثال آپ ہے سید شاکر عزیر پاکستان ٹیلی ویڑن سے بطور ڈائریکٹر پروگرامز 2016ء میں ریٹائرڈ ہوئے آپ نے بطور پروڈیوسر سورہ رحمن کے حوالے سے جو معرکہ آراء پروگرام ریکارڈ کیے اور جس طرح وہ معرفت کے سفر پر گامزن ہوئے، کیسے ان کی ملاقات وقت کے قلندر سے ہوئی جنہوں نے پی ٹی وی کے ایک پروڈیو سر سید شاکر عزیر کو ہمیشہ کے لئے لاکھوں کروڑوں کا ”سید بابا“ بنا دیا، ان سب کی تفصیلات کا نام ان کی تصنیف ”قرب حق“ ہے۔

یہ کتاب ہمیں فنا فی اللہ کے اصل مفہوم سے بھی آگاہ کرتی ہے اور تصوف حقیقی کو بھی سمجھنے میں اپنے قاری کی رہنمائی کرتی نظر آتی ہے یہ کتاب دراصل روداد ہے اس حسین سفر کی جو سید بابا نے اپنے مرشد حضرت سید صفدر علی بخاری کی معیت میں شروع کیا اور تاحال جاری ہے وہ سفر کیا ہے بنی نوع انسان کے لاکھوں غموں ان کی نحوستوں اور بد بختیوں کو دور کرنے کا سفر اور وہ بھی قرآن حکیم کی برکت سے سید بابا اب تک کروڑوں لوگوں کو سمجھا چکے کہ سورہئ رحمن کے سننے سے بیماریاں ختم ہوتی ہیں دکھ دور ہوتے ہیں بد بختیاں مٹ جاتی ہیں اور جیون میں اک ٹھہراؤ آجاتاہے جو انسان کو معرفت کی منزل کا راہ بتا دیتا ہے۔

سید بابا اپنے مرشد کو قلندر پاک کے نام سے یاد کرتے ہیں انہوں نے اپنی زندگی حقیقی معنوں میں اپنے عظیم مرشد کے عشق میں بسر کی ہنوز ان کی یاد اور ان کے مشن کی تکمیل میں سر گرم ہیں سید صفدر علی بخاری دراصل ایک ملامتی صوفی ہیں دنیا جنہیں پیر کاکی تاڑ کا خطاب بھی دے چکی ہے اور کمال ہے کہ سید صفدر حسین بخاری صاحب نے بڑے اہتمام کے ساتھ کاکی تاڑ خطاب قبول کیا انہوں نے کبھی کسی کی تنقید کا برا نہیں منایا۔ پیر کاکی تاڑ کا خطاب دراصل انہیں اس طرح سے ملا کہ وہ طوائفوں کے محلے میں میں بھی معرفت حق کی شمع جلانے کے متمنی رہے وہ علاقہ جہاں عام انسان جاتے ہوئے سوچتا ہے وہاں جا کر ایسے لوگوں کو حق کی بات انسانیت اور تصوف کی تعلیم دینا یقینا قلندر وقت کا ہی خاصہ تھا اس راہ میں انہیں بہت سے نا سمجھ لوگوں کی ملامت کا بھی سامنا کرنا پڑا طعنے بھی سننے پڑے لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی انہوں نے دھتکارے ہوئے حقیر اور نا پاک سمجھے جانے والے طبقے کو بھی قرآن کی روشنی سے آگاہ کرنے کے لیے بے پناہ کام کیا۔

اسی محلے کی ایک خاتون کے ہاں اپنا آستانہ بھی بنا لیا یقینا بنیاد پرست معاشرے میں ایک صوفی کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم بہت سے لوگوں ناگوار گزرا لیکن جس طرح خدا کی ذات کسی کو ناپاک اور حقیر نہیں سمجھتی اسی طرح اس کے دوست بھی کسی کو حقیر نہیں سمجھ سکتے۔ سید بابا شاکر عزیر کی اس کتاب کا مقصد دراصل سورہئ رحمن کی برکتوں اور اس کے نور کو چہار عالم پھیلانا ہے۔

انہوں نے بطور پروڈیوسر سورہ رحمن پر جو لاتعداد پروگرام ریکارڈ کیے انہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے سید بابا کی کوششوں کی بدولت سورہئ رحمن کا نور اب دنیا کے پانچوں براعظموں میں پھیل چکا ہے ان کے لا تعداد مرید یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں یہاں تک کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد دنیا بھر میں سورہ رحمن کا پیغام پھیلانے میں مصروف ہیں۔اس کی تفصیل بھی اس کتاب میں ملے گی۔زیر نظر کتاب میں بعض ایسے محیرالقول واقعات کا بھی ذکر ہے جن کو پڑھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کتاب کے مطالعے سے یہی انداز ہوتا ہے کہ اللہ پاک کا دوست کبھی اپنے جمال سے پوری کائنات میں رعنایاں بھر دیتا ہے اور کبھی اپنے جلال سے اپنے منکروں کو آن واحد میں پاتال میں گرا دیتا ہے۔

سید بابا نے اس کتاب میں اس حقیقت کا تذکرہ کیا ہے کہ تصوف نام ہے ادب کا محبتوں اور لذتوں کے سفرکا تصوف عقیدہ ہے پیار کرنے والوں کا تصوف نام ہی نرمی اور عافیت کا ہے تصوف نام ہے اس عمل کا کہ کیسے اور کیوں کر اپنے بدترین دشمنوں سے بھی پیار اور محبت سے رہا جا سکتا ہے۔

سید شاکر عزیر صاحب کے سورہ رحمن پر ریکارڈ شدہ پروگرام دنیا بھر میں دیکھے اور سنے جاتے ہیں پاکستان کے بیشمار ہسپتالوں میں سورہئ رحمن سننے سے ہزاروں مریض شفایاب ہو رہے ہیں۔

یورپ اور امریکہ کے کئی ریڈیو چینلز پر بھی سورہئ رحمن نشر ہو رہی ہے کئی یورپین ممالک میں سورہئ رحمن سے فیض پانے والے اس حوالے سے کارڈز بنا کر لوگوں میں تقسیم کروا رہے ہیں ”قرب حق“ میں تفصیلات موجود ہیں کہ کس طرح اسلام آباد کراچی لاہور وغیرہ کے ہسپتالوں میں کینسر وارڈ، دِل کے وارڈ اور گردوں کے وارڈ میں جا کر مریضوں کو سورہ ئرحمن سنائی تو چند دنوں میں ان کی اکثریت شفایاب ہو گئی۔

بظاہر یہ باتیں ناممکن نظر آتی ہیں لیکن یہاں قلندر پاک کی وہ بات یاد آتی ہے کہ عشق نا ممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے اور قرآن پاک میں برکت ہی برکت ہے نور ہی نور ہے شفا ہی شفا ہے۔

کتاب میں ایسے واقعات کا بھی ذکر ہے کہ کسانوں نے جب سورہئ رحمن اپنے کھیتوں میں سنوائی تو ان کی پیداوار میں حیران کن حد تک اضافہ ہو گیا اسی طرح کئی پولٹری فارمز میں سنائی گئی تو مرغیوں کے گوشت کی لذت دیسی مرغی جیسی ہو گئی مرغیوں کی بیماریاں ختم ہو گئیں اسی طرح سورہئ رحمن جب نفسیاتی مریضوں اور پاگلوں کو سنائی گئی تو اس کے بھی خاطر خواہ مثبت اثرات مرتب ہوئے یہاں پھر قلندر پاک کے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے کہ قرآن مجید وہ مردہ پن دور کرتاہے جو قلب کے اندر سے ڈیپریشن کی صورت میں ہمارے اندر داخل ہو گئی ہے PIMS ہسپتال میں ایک عیسائی مریض کو بھی اللہ پاک نے سورہئ رحمن کی برکت سے شفا عطا فرمائی یہاں تک کہ کوما میں گئے کئی مریض سورہئ رحمن لگانے سے ہوش میں آگئے۔ (جا ر ی ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں