جاگتی آنکھیں /پروفیسر سردار کامران غلام

ہمالیہ کے حضور

تو ہے محیطِ بے کراں میں ہوں زرا سی آب جو
یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے قرار کر(علامہ محمد اقبال)
جنت سے نکالا ہوا انساں حالت سفر میں ہے، ہم بھٹکتے ہیں، کیوں بھٹکتے ہیں؟ دشت و صحرا میں، شاید ہر انسان اپنی تلاش میں پوری دنیا گھوم آتاہے یا پھر اُسے کھوئی ہوئی جنت کی تلا ش ہے۔ جاویدخان کا سفر نامہ “عظیم ہمالیہ کے حضور ” جنت عرضی کشمیر کو خراجِ تحسین ہی کہا جائے گاجو کہ مصنف نے قلم کے سفر کے پہلے پڑاؤ پر لکھ ڈالا۔ جاوید خان ایک کالم نگار اور شاندار ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کا دوست بھی ہے۔ یہ اُس کی شاید بدقسمتی ہو مگر ہم اِسے اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ قلم کے بہت سارے مسافر اکثر حادثاتاً اکٹھے ہو گئے جس میں شوذیب کاشر، پروفیسر عتیق اور مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والے دوست و احباب، خوب محفل جما کرتی تھی۔

جاوید خان کا تعلق سون ٹوپہ سے ہے جس میں کچھ ایسے لوگ آباد رہے جنہوں نے سوچ و فکر اور مکالمہ کے کلچر کو فروغ دیا۔وہاں کے چند اساتذہ کرام جن میں ہیڈ ماسٹر قیوم صاحب سرفہرست ہیں، کلاس سلیبس پڑھا یا یا نہیں پڑھایا، بچوں کو لکھنے کا فن اور کتاب دوستی خوب سکھائی، یہ اسی کا اثر تھا جو جاوید خان کی بغل کے نیچے کوئی نہ کوئی کتاب دبی رہتی ہے، کتاب انگریزی کی ہو یا اُردو تراجم، جاوید خان نے مطالعہ کے شغل کو اپنائے رکھا۔ علم و ادب کے پیاسوں نے ان لوگوں کے اندر علم و ادب کی پیاس جگا دی، ان میں حسرت صاحب (مرحوم) کا نام بھی آتاہے۔ مشہور کالم نویس ارشاد محمود کا تعلق بھی سون ٹوپہ سے ہے۔

جاوید خان نے ایک خاموش طبیعت اور اپنے اندر گم سم رہنے والا عام سا خاص آدمی ہے، عام آدمی کی طرح ٹوپہ کی “کانی” ویگن پر راولاکوٹ آتا ہے اور شام کو پنچھیوں کی طرح گھر کی راہ لیتاہے، اس کے اندر کا خاص آدمی مشاہدہ میں مصروف رہتاہے، ہماری محفلوں میں موجود رہتاہے،(شادی سے پہلے میسر رہتا تھا،اب دکھائی بھی مشکل سے دیتاہے)۔ ہنسی مذاق اور مذاق کی محفلوں سے اکتا جاتاہے، خاص طور پر ہماری محفل (ہم بے ادب لوگوں کی محفل میں)، شوزیب کاشر پائے کا شاعر ہے، اُس کی شاعری سننے کے بعد روم روم کھل اُٹھتاہے اور سِری پائے ہِل جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ شوزیب کاشر مزاح کا بادشاہ ہے۔ ہماری محفل میں سردار ریباز ایڈوؤکیٹ (مرحوم)، پروفیسر عتیق، احسن ابراہیم، حکیم کم ڈاکٹر زیادہ، باقی آپ سمجھدار ہیں، سردار اشتیاق، چھوٹے چھوٹے، شروع ہوتے ہی ختم ہونے والے، بڑے معنی خیز کالم لکھنے والے سردار طاہر صاحب، سردار ساجد، ایاز قدیر اور سردار فہیم۔ سب شرار ت طبع اور مزاح سے بھرپور لوگ ہیں۔ جاوید خان خاموش اور کسی بھی مزاح سے بھرپور کہانی پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا، سردار عتیق مذاق کرتے ہیں اور اُڑاتے ہیں اور شاید ان کا کوئی کم ہی ثانی ہو گا۔ پروفیسر عتیق کے ساتھ جاوید خان کے اکثر اختلافات رہتے تھے مگر اس کے باوجود جاوید خان ہماری محفل کا ایک جاندار حصہ رہتا تھا اور اب بھی ہے۔

میری جاوید خان سے ہمیشہ سے ٹھیک ہی بنتی رہی۔ سفر نامہ لکھنے پر جب کام شروع کیا تو اکثر کال پر مختلف الفاظ پر بحث ہوتی رہتی، سفر نامے کے مختلف پہلوؤں پر بھی بحث و تکرار ہوتی رہتی۔ “عظیم ہمالیہ کے حضور ” تحریر کر ڈالی اور شرمیلے جاوید خان نے ایوارڈ بھی جیت لیا۔ “عظیم ہمالیہ کے حضور ” کو ادبی جمالیات کی معراج کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔
ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے فطری نظارے ہماری آنکھوں کو بھلے تو لگتے ہیں مگر ہم ان کی خوبصورتی کو سمجھنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان کے جمال کو اپنی رگوں میں اتارنے کے قابل نہیں ہوتے۔ جاوید خان ایک ادیب ہونے کی حیثیت سے اپنے اندر وہ تمام خوبیاں رکھتاہے جیسے بھرپور مشاہدہ، منظر نگاری، تخیل، الفاظ کا چناؤ، جمالیاتی حس اور سب سے بڑھ کر یہ صلاحیت کہ جو وہ محسوس کرتاہے ان تمام احساسات کو الفاظ دے کر ہمیشہ کیلئے کاغذ پر امر کر دیتاہے۔ آنے والی نسل کا کوئی بھی اہل ذوق و اہل نظر جب ان الفاظ کو Unlockکرے گا تو وہ احساسات پھر سے زندہ ہو کر اُس کی رگ رگ میں سما جائیں گے۔

اِسی طرح خوبصورت وادیوں، جھیلوں، پہاڑوں اور مرغزاروں کو کتاب کے سفید کاغذپر ایسے تحریر کیا گیاہے کہ تمام فطری مناظر آپ کی آنکھوں کے سامنے نظر آئیں گے۔ جاوید خان کے پاس مجھے پورا گمان ہے کہ کوئی جادوئی قلم ہے جس کے سحر سے رومانی نثر روانی سے چلتا نظر آتاہے، جاوید خان نے جب یہ سفر نامہ لکھا تو وہ کنوارہ تھا اس لیے رومانی روانی بھی خوب ہے۔ شادی کے بعد رومانس ویسے ہی قلم ہو یا دل، ایسے ہجرت کر لیتاہے جیسے خزاں میں درختوں سے پرندے۔ کنوارے جاوید خان نے “عظیم ہمالیہ کے حضور ” حاضری کی نیت پہلے ہی کر لی تھی کیونکہ جہاں وہ رہتاہے وہاں سے اُسے برف پوش پہاڑ بچپن سے ہی دکھائی دیتے رہے ہیں اور وہ جاوید خان کیلئے Fascination Factor بھی تھے، جیسا کہ وہ لکھتاہے:” مشرقی سمت میں تولی پیر کے پہاڑوں کے لمبے سلسلے کو آنکھیں ہمیشہ سے دیکھتی آئی ہیں۔ جب بھی دیکھا انہیں برف کی چادر اُوڑھے ہی دیکھا” اس کے علاوہ آپ کو سفر نامے میں تاریخی حوالے بھی ملتے ہیں جو جاوید خان کے سفر نامہ لکھنے سے پہلے گہرے مطالعہ اور تحقیق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ EF Night 1881 میں ایک مشن لے کر کشمیر آیا تھا اس نے اپنی کتاب Where Three Empires Meet میں لکھا۔ جاوید خان نے اس سفر نامہ کو تحریر کرنے کیلئے تخلیقی صلاحیتوں کے علاوہ تحقیقی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لایا۔نہایت محنت سے اس سفر نامے کو تحریر کیا۔دھیرکوٹ سے گزرتے ہوئے لکھتاہے “دھیرکوٹ کو کرشن چندر نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں بہت جگہ دی”۔ جبکہ مظفرآباد سے گزرتے ہوئے دو میل کی خوبصورتی کو نظر انداز کر دیتاہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی دلچسپی اور توجہ ہمالیہ ہی تھی۔ ابتدائی سفر سے ہی یہ نیت باندھ لی تھی کہ ہمالیہ کی خوبصورتی میں ہی غرق ہونا ہے، جاوید خان جب بھی تنقید کرتاہے تو وہ انتہائی ادبی اور مہذب انداز میں کرتاہے، گوکہ یہ سفر نامہ سیاسی آلودگی سے بالکل پاک ہے مگر سڑکوں کی حالت زار پر لکھتاہے:” ہماری بے شمار شہ رگیں زخمی ہیں اور اُکھڑی سانسیں لے رہی ہیں مگر ہم بے فکر مصروف زیست ہیں ”

جاوید کیلئے فطرت زندہ وجود رکھتی ہے اور اردگرد انسان بعض اوقات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں، اس پر میرا اکثر اس سے اختلاف بنا رہتاہے، وہ فطرت میں کھو جاتاہے، میرے نزدیک وہ ایک نثری شاعر ہے جس کی نثر شاعری تو نہیں، نہ ہی شاعری کی قید و بند، ردیف قافیہ، میٹر پائے جاتے ہیں، مگر اس کی نثر میں میٹر نہ ہونے کے باوجود ردھم موجود ہے، تخیل کی بلندیاں موجود ہیں اور جمالیاتی جاذبیت بھی۔
استعارہ اور تشبیع جاوید خان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں اور وہ انہیں اپنی مرضی پہ چھوڑ دیتاہے اور وہ نثر کی ضرورت کے مطابق خود اپنے مقام پر جا بیٹھتے ہیں ” اب کنہار بلند و بالا پہاڑوں کے قدموں میں سر رگڑتے ہوئے گر رہا تھا ” ناران شہر دو متوازی چوٹیوں کے قدموں میں آبادہے، یہاں بلند و بالا پہاڑوں نے اِس کی آزاد ی پر شب خون نہیں مارا۔ آسمان سے باتیں کرتی چوٹیوں کی بانہوں میں یہ معصوم بچے کی طرح اٹھکیلیاں کرتا ہو اآزاد ہے”، جاوید خان ہم سب کو فطرت کی آغوش میں لے جاتاہے اور مادی دور سے دور فطری حسن ہماری روح کو فرحت و تسکین بخشتے ہیں، وہ براۂ راست تو کوئی پیغام تو نہیں دیتا مگر ہماری چھلنی روحیں اس سفرنامے سے سکون ضرور پاتی ہیں۔

آلودگی جب فطری حسن کو خراب کرتی ہے تو یہ فطر ت کا مندوبین بولے بغیر نہیں رہ پاتا” اس گلیشیر کی جوانی کو آلودگی نے چر لیا تھا”، “یہ کنہار کا ساتھ ہے۔ کنہار پر سیاحت، معیشت، آب پاشی اور بجلی کا انحصار ہے۔ جب گلیشیئر کی زندگی یونہی جاتی رہے گی تو کنہار رہے گا، نہ سیاحت، نہ ٹراؤٹ مچھلی۔ “وہ ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے بڑے بڑے حادثات سے پیشگی آگاہ بھی کرتاہے۔
جاوید خان ادبی منظر کشی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، اسی طرح وہ فطر ی جھیلوں کو زندہ کردار بنا کر ہمارے سامنے کھڑا کر دیتاہے، کبھی کبھی خاموشی بھی اُس کیلئے سر بکھیرنے لگتی ہے، جھیل لولوسر،اُس کی وہی نیلی آنکھیں۔ “اُس کے اندر گرتے پتھر “ڈھوپ! چھاہ “اس کیلئے سارنگی سے بجنے والے سے بھی زیادہ خوبصورت سُر ہے، کبھی کبھی برفیلی چوٹیاں اس کیلئے ہزاروں دلہنوں کی طرح ہو جاتی ہیں، شاید وہ اُس وقت کنوارہ بھی تھا نہ، اور کنوارے دلہنوں کے خواب تو دیکھا کرتے ہیں، مگر اُس کی دلہنیں، یہ پہاڑ اور چوٹیاں تھیں ” شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہیں، ہر چوٹی شام کی دلہن معلوم ہوتی ہے”۔ جاوید خان راولاکوٹ کا سب سے تخیلاتی نثر نگار ہے، Metaphore، Similie، Imagery، Juxtaposition، غرض جتنی بھی Literary Devicesہیں ان کے فن کا بھی حصہ ہے، وہ ایک تخلیقی ذہن تو رکھتاہے اس کے علاوہ صاحب مطالعہ بھی ہے۔ قاری جب بھی اس سفر نامے کو پڑھے گا وہ اس شاہکار اور داد دیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ ایک بات جو میں وثوق سے کہہ سکتاہوں جس کو بھی ادب سے اور کتاب سے دلچسپی ہے اُس کی لائبریری کی زینت اس سفر نامے کو ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں