پاکستان میں سیلاب کی تباہی اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: تعظیم یاسین

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق پاکستاں میں آنے والے حالیہ سیلاب سے 16 لاکھ 88 ہزار مکانات اور 5 ہزار 735 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئی ہیں ۔سندھ اور بلوچستان بُری طرح متاثر ہوئے ہیں جن میں 81 اضلاع کی 6615 یونین کونسلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ متاثرہ علاقں میں بلوچستان کے 32 سندھ کے 23 خیبر پختونخوا کے 17، گلگت بلتستان کے 6 اور پنجاب کے 3 اضلاع شامل ہیں۔

’پاکستان میں گذشتہ 30 سال کی نسبت امسال مون سون میں 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، جبکہ سندھ میں اس کی شرح 465 فیصد اور بلوچستان میں 437 فیصد رہی ہے۔‘رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت 1325 لوگ جان بحق ہوئے۔ ان میں سندھ کے 522، خیبر پختونخوا کے 289، بلوچستان کے 260، پنجاب کے 189، کشمیر کے 42 اور گلگت بلتستان کے 22 افراد شامل ہیں۔مجموعی طور پر پورے ملک میں اب تک 12 ہزار 703 افراد زخمی ہوئے جن میں سندھ کے 8321، پنجاب کے 3844، خیبر پختونخوا کے 348، بلوچستان کے 164، کشمیر کے 21 اور گلگت بلتستان کے 5 افراد شامل ہیں۔مون سون بارشوں سے 16 لاکھ 88 ہزار گھر، 246 رابطہ پُل، 5 ہزار 735 کلومیٹر پر محیط سڑکیں اور 7 لاکھ 50 ہزار مویشی سیلابی ریلوں کی نذ رہوگئے

ایسے مخدوش خالات میں امدادی اداروں نے ابتدائی طور پر اہم رول اداکر رہے ہیں لیکن آفت اتنی بڑی ہے کہ اس سے اکیلے میں نمٹنا کسی ادارے یا ملک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں حکومتی ادارےبحالی کے لیے خود مددکے منتظر ہیں ۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران آنے والا سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب بتایا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سونامی سے ہونے والی تباہ کاری سے بھی اس سیلاب کی تباہ کاریوں کا دائرۂ زیادہ وسیع ہے۔راجہ فاضل خان پاکستان کے ایک معروف رفائی ادارے عہد فاونڈیشن کے چیرمین ہیں انکا 2005 کے زلزلے سمیت ملک آنے والی کئی قدرتی آفات میں بحالی اور امدادی سرگرمیوں 30 سال سے زائد کا تجربہ ہے ان کا کہنا ہے کہ کہ پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ابھی تک صورتحاک گھمبیر ہے۔

بلو چستان اور سندھ کے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک پانی کھڑا ہے درجنوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ تا حا بحال نہیں ہو سکا ہے۔متاثرہ علاقے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی شدی قلت ہے۔جبکہ متاثرہ علاقوں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ادویات کی شدید قلت ہے۔سینکڑوں افراد طبی سہولیات سے محروم ہیں۔تعلیمی نظام بھی مکمل طور پر مفلوج چکاہے۔ اسلام آباد میں متاثرہ علاقوں کے حوالے سے ایک بریفنگ کے دوران ر اجہ فاضل خان نے بتا یا کہ ان کا ادارہ بلوچستان کے علاقوں جعفرآباد، ڈیرہ اللہ یار، ڈیری مراد جمالی،جہل مکسی،صوبت پور جبکہ سندھ کے علاقوں خیر پور،عمرکوٹ،پکا چانگ میں بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔عہد فاونڈیشن نے بلوچستان میں ایک ہزار جبکہ سندھ میں 3سو سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کا سروے مکمل کر لیا ہے۔عہد فاونڈیشن نے ابتدائی مر حلے میں 8 سو خانداوں میں خشک راشن۔ مچھر دانیاں اور خیمے تقسیم کیے ہیں جبکہ فری موبائل ایمبولنس کے ذریعے 12 میڈکل کیمپوں میں متاثرین کو طبی امداد کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

جس سے اب تک 5ہزار کے قریب مریض استفادہ حاصل کر چکے ہیں،جبکہ دو واٹر ٹنک 16ہزار گیلن روزانہ کی بنیاد پر پینے کے صاف پانی تقسیم کر رہے ہیں۔ چیرمین عہد فاونڈیشن کا مزید کہنا تھا کہ عہد فانڈیشن ٓآنے والے دنوں میں بلوچستان کے متاثرہ علاقوں جعفرآباد، جہل مکسی،صوبت پور اور سندھ کے علاقوں خیر پور،عمرکوٹ،پکا چانگ میں گھروں کی تعمیراور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے 100 ہیڈ پمپ لگانے منصوبے پر کام جلد شروع کر رہی ہے۔اس موقع پر راجہ فاضل خان نے امدادی اداروں اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ راجہ فاضل خان نے کہا کہ ان کا ادارہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کا کام کرنے والے فلاحی اداروں اور افراد کو ضروری معلوما ت فراہم کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دے رہا ہے۔ عہد فاونڈیشن امدای اداروں سے بحالی کی سرگرمیوں کے لیے ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

راجہ فاضل خان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مسقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے جامع اور پائیدار منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ آفات میں امداد کے لے بار بار پکارنا مسئلہ کا حل نہیں ۔ہے ضروری ہے کہ سیلابوں اوردوسری قدرتی آفات کے حوالے سے مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جائے ۔ اگر ایک بڑا ڈیم سیلابوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے تو اس بارے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ Sمحکمہ موسمیات کو جدید بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسموں کے حوالے سے قبل از وقت ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کر سکے اور اگر شدید بارشوں کی پیش گوئی ہو تو جن علاقوں میں سیلاب آنے کا خطرہ ہو وہاں سے لوگوں اور ان کے مال مویشیوں کو نکالنے کے لئے بروقت کام ہونا چاہئے ان کے ڈوب جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔دوسری طرف اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب زدہ علاقہ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ ایثار، ہمدردی ہی نہیں انصاف کا تقاضہ ہے کہ دنیا پاکستان کی مدد کرے۔

نتونیو گوٹیریئس نے کہا کہ اب تک اس کے نقصانات اور تباہ کاریوں کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں، ہم اس حوالے سے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے، ہم اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دیں گے اور ان ممالک سے تعاون کی اپیل کریں جو پاکستان کی امداد کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے عوام کے ساتھ ہیں اور ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، عالمی برادری اس وقت پاکستان کی مدد کے لیے آگے آئے کیونکہ پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو فرنٹ لائن میں ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں