مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سازشیں ، فاروق عبداللہ مودی پر پھٹ پڑے

جموں(سٹیٹ ویوز) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی ہندوتوا حکومت کو علاقے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے حد بندی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے ضلع رامبن کے علاقے بٹوٹ میں ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لئے نئی دہلی کے تشکیل کردہ حد بندی کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کی تشکیل میں جو جغرافیائی منطق پیش کی گئی ہے وہ محض ایک دھوکہ تھا اور اصل مقصد فسطائی بی جے پی حکومت کو فائدہ پہنچانا تھا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کا دوغلے پن، فریب کاری اور خود غرضی کا ایجنڈا بے نقاب ہوگیا ہے جس نے لوگوں کی زندگیوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے تمام اقدامات تعصب اور تنگ نظری کی سیاست پر مبنی ہیں۔ ان کے کسی بھی اقدام کا مقصد لوگوں کے مسائل کو حل کرنا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں میں اپنی ساکھ کھودینے کے بعد بی جے پی اب انتخابی حلقوں میں گڑبڑ کرکے اور باہر کے ووٹروں کو لا کر پچھلے دروازے سے علاقے کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی صرف اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔این سی رہنمانے کہاکہ بی جے پی کی سازشوں نے کشمیری عوام کو مایوس کردیا ہے اوراب اسے کوئی نہیں بچاسکتا کیونکہ لوگوں نے اپنے ووٹوں کے ذریعے اسے سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے لوگوں بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو اس کے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیںجن کا مقصد مقامی لوگوں بشمول کشمیریوں، گوجروں، ڈوگروں، پہاڑیوں اور دیگر برادریوں کو بے اختیاربنانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں