نقطہ نظر/سید افراز گردیزی

جماعت نہم کے نتائج

ایسا شور ہے کہ صیح اورغلط کو سمجھنا بھی آسان نہیں ہے. نمبرات لینے والے اس معراج پر کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے. رزلٹ کو اپنی حمایت میں پیش کرنے والے ایسے کہ, رخ روشن, سامنے اور باقی دوسری طرف تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہی جواب دے جاتی ہے. ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق, تجزیہ کاری, میں مصروف ہے. مبارکبادوں اور نقادی کا ایسا سلسلہ کہ جواب الجواب کا ماحول بنا ہوا ہے. کچھ نمبرات کو معیار اہلیت اورباقی کتنے فیصد رزلٹ کو معیار بنا کر باتیں کر اور بنا رہے ہیں.

پرائیویٹ اور سرکاری سیکٹر کی کامیابی اور ناکامی کی بحث بھی ہر رزلٹ کے بعد کی طر ح چل نکلی ہے. میرے خیال میں موجودہ نظام میں نمبرذریعہ افتخار تو ہیں لیکن معیار قابلیت ماپنے کا پیمانہ نہیں. چند سالوں بعد کم فیصد والے عملی زندگی میں کامیاب جبکہ بینرزپرنمایاں نظر آنے والے مختلف مقابلوں کے امتحانات کی چکی میں پستے پستے منظر سے ہی غائب ہو جاتے. اس طرح کی دوڑ اور رجحان کی حوصلہ افزائی سے بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں.جس کے مضمرات مرحلہ وار نظر آنے لگے ہیں. جن اداروں کے اساتذہ اور بچوں نے, مخصوص انداز میں تیاری اور محنت کی وہ نمبروں کی دوڑ میں نمایاں ہیں. انہیں ان کی محنت پر تحسین ان کا حق ہے لیکن وہ بڑی تعداد جو کل کی عملی زندگی میں کامیاب نظر آئے گی اسے یکسر نظر انداز نہ کیا جائے.

کسی بھی طالب علم کی زندگی میں جماعت نہم کا رزلٹ اس لیے اہم ہوتا ہے کہ عام طور پراس کے نظر آنے والے تعلیمی کیریئر کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے لیکن بہت نمایاں نظر آنے والے بچے ہمارے نظام کا شکار ہو کر آج کل کہاں ہیں؟ اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے. ہمارے ہاں نظام تعلیم اور نظام امتحان میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے. اس کے لیے تعلیمی ماہرین پر مشتمل ایسا کمیشن یا تھینک ٹینک تشکیل دیا جائے جو زمینی حقائق کے مطابق پالیسی وضع کرے اور اسے 10 سال تک بغیر کسی تبدیلی کے نافذ کرتے ہوئے اس کے معاشرے پر اثرات کا جائزہ لیا جائے. بصورت دیگر ہر رزلٹ کے بعد جو جھاگ نظر آتی ہے وہ بیٹھنے کے بعد کسی کو نظر نہیں آتی. تعلیم کے معاشرے پر نظر آنے والے اثرات مرتب نہ ہوں تو ایسا نظام ملازمت کے حصول میں نفسیاتی بیمار دانشور تو پیدا کر سکتا ہے تعمیری کردار ادا کرنے والے انسان پیدا کرنا اس کے بس میں نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں