نقطہ نظر/سید افراز گردیزی

آزاد کشمیر کی سیاست اور عوامی توقعات

آزاد کشمیر کی سیاست میں عمومی طور پر بول بچن پر کام چلایا جاتا ہے. زیادہ تر راہنما, منجھے, ہوئے ہیں اس لیے انہیں لفظوں سے کھیلنے کا ہنر بھی آتا ہے. متعدد وزرائے اعظم آئے سب, تجربہ کار, اور کام سمجھنے والے تھے. سب نے بلدیاتی الیکشن 6 ماہ میں کروانے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی بات کی لیکن حکومت مکمل کرنے تک اس پر اظہار تاسف بھی نہیں کیا. موجودہ وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان اقتدار میں آئے تو شروع دن سے ریجن وائز بحرانی کیفیت پیدا کی جاتی رہی.

منجھے ہوئے بھی اپنے انداز میں متحرک ہوئے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ امور سلطنت سے واقف ہی نہیں جبکہ عملا ہر گزرتے دن کے ساتھ سردار تنویر الیاس کی بیوروکریسی اور اداروں پر بڑھتی گرفت نے ان کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا. بطور مثال پریس کلب باغ کی زمین کا معاملہ سامنے موجود ہے ہم نے ہر دور کی حکومت اور وزیراعظم کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن فائلیں ہی آگے پیچھے کرتے رہے6 ستمبر کو موجودہ وزیراعظم سے وفد لے کر ملاقات کی اور انہوں نے کہا کہ آپ کو وہی جگہ ملے گی جہاں پر آپ کی عمارت کسی دور میں تھی اور پھر محض 7 دن میں یہ نوٹفیکیشن تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جاری ہو گیا.

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے منجھےہوئے کاریگر گھیرگھار کرحکومت کو بند گلی میں لے جا 15 ویں ترمیم کے ذریعے الیکشن کمشنر بحالیات بحال کروانا چاہتے تھے جسے وہ اکتوبر 2018 میں خود ہی ختم کر چکے تھے. موجودہ وزیراعظم نے بروقت حالات کا ادراک کرتے ہوئے وہ ترمیم ہی واپس لے لی اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہوں گے. یہ اپوزیشن کے لیے سنہری موقع تھا کہ وہ گراس روٹ لیول پر اپنی طاقت دکھاتے اوراسی عوامی حمایت کو جواز بنا عدم اعتماد کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کرتے لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ بلدیاتی انتخابات مؤخر کروانے کے لیے پھر سے عدم اعتماد کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں.

جس کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بھی آ رہی ہے. وزیراعظم آزاد کشمیر نے اے سی ایس ترقیات کے حوالے سے میڈیا کی موجودگی میں جس طرح بات کی وہ آزاد کشمیر کی بیوروکریسی کے لیے بھی ایک پیغام لیے ہوئے ہے. ٹکراؤ کا آغاز ہو چکا ہے. سیاست کا کھیل پیچیدہ اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کھیلنے کا ہے. منجھے ہوئے جذباتی ماحول بنا کر اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش ضرور کریں گے. آزاد کشمیر اور پاکستان کے موجودہ حالات میں سنجیدہ سیاسی طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے.

مہنگائی کا جن عوام کو نگل رہا ہے لیکن سیاستدان اس پر بات کرتے نظر نہیں آتے. جی بی میں آٹا 680 روپے من ہے جبکہ یہاں من آٹا 2600 روپے ہے. سبسڈی کے لیے اپوزیشن کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آ رہا جس کے لیے ان کا کردار اہم بنتا ہے. اطلاعات کے مطابق آزاد حکومت آٹے پر سبسڈی کے حوالے سے غور کر رہی ہے اس پر فوری عملدرآمد کروایا جائے تو یہ عوام کے لیے مشکل حالات میں بڑا ریلیف ہو سکتا ہے. کیونکہ پرائیویٹ ملوں کا آٹا 4400 روپے من تک پہنچ چکا ہے. اس وقت عوامی ایشوز پر سیاست ہی عوام کے مفاد میں ہے ورنہ اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل تماشا تو عوام برسوں سے دیکھ ہی رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں