چٹان/ عائشہ نور

اظہار خیال

سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کیوں نہیں کرسکی ؟ یقیناً ان سے یوں اقتدار چھین لیا جانا ایک ناخوشگوار واقعہ تھا ، جس کے پاکستانی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کئ وزرائےاعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرسکے ، جس کی مختلف توجیہات حالات و واقعات کے تناظر میں پیش کی جاتی رہی ہیں۔ عمران خان نےمبینہ امریکی دھمکی آمیز خط اور مبینہ رجیم چینج آپریشن کا دعویٰ کیا، جس سے اتفاق یا اختلاف کرنا سب ہی کا استحقاق ہے۔ درحقیقت عمران خان جس امریکی دھمکی آمیز خط کا دعویٰ کرتے رہے ہیں ، وہ امریکی خط نہیں بلکہ پاکستانی سفیر اسد مجید کا خفیہ میمو تھا ، جو کہ اسد مجید نے اپنی الوداعی دعوت میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں دفتر خارجہ کو لکھا تھا۔ الوداعی تقریب میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار اور امریکی اہلکار بھی موجود تھے۔

امریکی سیکرٹری آف اسٹییٹ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر کو مبینہ طورپر یہ کہا تھا کہ “اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا” مگر یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ ڈونلڈلو نے ایسا کہا بھی تھا یا نہیں ؟ درحقیقت ڈونلڈ لو نہیں بلکہ پاکستان کا فرسودہ سیاسی نظام عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا اصل سبب ہے ۔ کئ ممالک میں اس وقت ایسی حکومتیں موجود ہیں جو کہ امریکہ کی ناپسندیدہ ہیں مگر وہاں ڈونلڈلو جیسے لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ جب تک کسی ملک کے اندرونی معاملات کی انجام دہی میں نقائص نہیں ہوں گے ، کوئی بھی بیرونی طاقت مداخلت نہیں کرسکتی ۔

عمران خان نے اپنی تحریک کو غلط سمت میں موڑ دیاہے، عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ ملکی سیاسی نظام کی خامیوں کو اجاگر کرتے اور متبادل نظام کیلئے جدوجہد کرتے۔ مگر عمران نے ان حقائق کو نظرانداز کرکے پرکشش نعروں کا سہارا لیا، جس کے ملےجلے اثرات سامنے آرہے ہیں ۔ امریکی دھمکی آمیز خط اور رجیم چینج آپریشن کا دعویٰ تو ایک سیاسی بیانیہ ہے۔ جبکہ عملی طور پر عمران خان امریکہ سے دوستانہ روابط قائم کرنے کےلیے کافی متحرک ہیں۔ حال ہی میں عمران خان سابق امریکی سفارتکار رابن رافیل سے ایک مبینہ ملاقات کرچکے ہیں ۔ رابن رافیل امریکا کی سابق سفارتکار، سی آئی اے تجزیہ کار اور لابئیسٹ ہیں۔

عمران خان سے رابن رافیل کی ملاقات بنی گالہ میں ہوئی۔ عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس ملاقات کی تصدیق کردی تھی ،پھر اچانک تحریک انصاف نے اس ملاقات کی تردید کردی ۔ اب ہمیں بتایا جائے کہ ہم کس پر یقین کریں ؟ اس سے قبل فواد چوہدری نے بھی 8 ستمبر کو امریکی سفارت خانے میں امریکی سفیر ” ڈونلڈ بلوم “سے مبینہ ملاقات کی ہے۔ عمران خان اپنے بیانیے سے قطع نظر امریکہ سے دوستانہ روابط چاہتے ہیں مگر ان کے سیاسی بیانیے نے عوام کو اداروں سے بدظن کرنے کےلیے ذہن سازی کردی ہے جوکہ عمران خان کی سیاست کا سب سے زیادہ قابلِ اعتراض پہلو ہے ۔ چند لوگوں سے اختلاف کی بنیاد پر اداروں کو بدنام کرنا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست خود پی ٹی آئی کے سیاسی مفاد میں نہیں ہے ۔ گزشتہ دنوں قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ شاید عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ہورہے ہیں مگر چکوال جلسے میں عمران خان نے جو سخت لہجہ اپنایا ، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ عمران خان فوری نئے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں ، جوکہ موجودہ حالات میں پورا ہوتا نظر نہیں آتا ، PDM جماعتیں پارلیمان کی آئینی مدت پوری کرنے پر بضد ہیں ۔ عمران خان نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ، مگر اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہے۔ موجودہ سیاسی نظام کی قباحتوں کے سبب اقتدار سے محروم ہونے کے باوجود نظام بدلنے کی جدوجہد کرنے کی بجائے نظام کا حصہ بننے پر بضد رہ کر عمران خان محض وقت کا ضیاع کررہے ہیں ۔ آرمی چیف کی تقرری میں کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہونے کے باوجود اس معاملے میں عمران خان کی بےجا مداخلت بےنتیجہ اور لاحاصل رہی ۔

پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں کبھی عوامی اجتماعات میں آرمی چیف کی تقرری زیربحث لائی جارہی ہے تو کبھی ایک سزا یافتہ مفرور شخص سے مشاورت کی جاتی ہے ، اس حساس معاملےپر سیاست کی بجائے میرٹ / سنیارٹی کی بنیاد نیا آرمی چیف لایاجائے جو سب کیلئے قابلِ قبول ہو اور متنازعہ فیصلوں سے گریز کیاجائے تو بہتر ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں