ٹرانس جینڈر قانون شریعت کے خلاف ہے، سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر قانون شریعت کے خلاف ہے۔

سراج الحق نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خواجہ سراؤں کے حقوق کی ہمیشہ حمایت کی ہے، ہم ان کے حقوق کے خلاف نہیں، کورونا کے دنوں میں جماعت اسلامی نے ان کا پورا ساتھ دیا، ان کے گھروں میں جاکر امدادی سامان پہنچایا، سیلاب میں بھی پورا خیال رکھا۔

سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے 2018 میں جو ٹرانس جینڈر قانون بنایا وہ شریعت کے خلاف ہے، اس قانون کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے وقت مرد اور عورت اپنی جنس تبدیل کرسکتے ہیں، اس قانون کے تحت اب تک 29 ہزار مرد و خواتین نے اپنی جنس کی تبدیلی ڈکلیئر کی ہے، اس طرح کے قوانین کے پیچھے عمومی طور پر مغربی ایجنڈا ہوتا ہے، یہ ہمارے خاندانی سسٹم کو تباہ کرنے کی ایک سازش ہے، تبدیلی کا اختیار صرف اللہ تعالی کے پاس ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری جماعت کے سینیٹر مشتاق احمد نے ٹرانس جینڈر قانون میں ترمیم کی قرارداد پیش کی ہے، ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں ایک ماہر نفسیات بھی ہونا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو، یہ قانون اللہ تعالی کے غضب کا سبب بن سکتا ہے، تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد لوگ اس سیلاب سے متاثر ہوئے، یہ تباہی و بربادی ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے، مصیبت کی اس گھڑی میں قوم نے الخدمت فاؤنڈیشن اور دوسرے فلاحی اداروں کا ساتھ دیا میں ان کا مشکور ہوں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جس گرانٹ کا اعلان کیا تھا میری اطلاع کے مطابق اب تک ریلیز نہیں ہوئی، سیلاب متاثرین کے لئے ملنے والا سامان سرکاری اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا ہے یہ ظلم ہے، قوم بھوک سے مر رہی ہے لیکن سیاسی وزیروں اور مشیروں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اجلاس کے موقع پر وزیروں اور مشیروں کی کرسیاں کم پڑ جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں