ایران میں زیرحراست لڑکی کی ہلاکت پر احتجاج کا سلسلہ تھم نا سکا

ایران میں پولیس حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئی روز بعد بھی جاری ہیں۔کئی شہروں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں اب تک 76 افراد ہلاک اور 900 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ایرانی میڈیا میں ہلاکتوں کی تعداد 41 بتائی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ ایران میں پولیس کی حراست میں مہسا امینی دل کا دورہ پڑنے سے 16ستمبر کو انتقال کرگئی تھیں، 22 سالہ مہسا امینی کو تہران میں اسکارف نہ پہننے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں، مظاہرین کا مطالبہ ہےکہ حجاب پر پابندی اور خواتین کے خلاف تشدد و امتیاز ختم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں