چٹان/ عائشہ نور

آڈیو گیٹ

وزیراعظم ہاؤس سے افشاء ہونے والی ” آڈیوز ” نے ملکی سیاسی میں طوفان برپا کررکھا ہے ۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی اہم خفیہ گفتگو افشاء ہونا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے ۔ وزیراعظم ہاؤس کا ڈیٹا اس طرح چوری ہونا ایک بڑا security breach ہےجو ہماری بلاشبہ سائبر سیکیورٹی میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ جو آڈیوز منظر عام پر آئی ہیں ، ان میں سے کچھ فون کالز ہیں ، باقی سب براہ راست گفتگو ہے۔ اور براہ راست گفتگو کے دوران مائیک شہبازشریف کے نزدیک معلوم ہوتا ہے۔ کوئی بھی ہیکر خواہ وہ کتنا ہی تجربہ کار ہو ، وہ صرف فون کالز کا ریکارڈ ہی ہیک کرسکتاہے ، جبکہ ریکارڈ کی گئ فون کالز کے علاوہ باقی آڈیوز کی ریکارڈنگ کیلئے وزیراعظم ہاؤس میں غالباً “bugging devices ” استعمال کی گئی ہیں۔ یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں ، جو وزیراعظم ہاؤس کے اندر بآسانی رسائی رکھتےہیں ۔

ایک ٹویٹر اکاونٹ OSINT Insider کے مطابق IndiShell کے نام سے ایک اکاونٹ نے ایک مشہور ہیکرز گروپ میں دعوی کیا کہ اس کے پاس پاکستان کے موجودہ و سابقہ وزراء اعظم کی 100 گھنٹے کی آڈیوز موجود ہیں۔ جس پر اس نے “بولی” لگوانے کے لیے ” ڈارک ویب” پر پیش کریں، جس کی بولی کی ابتداء 345000$ سےکی گئ۔ ثبوت کے طور پر اس نے تین آڈیوز بھی جاری کیں ۔ اس کے چند دن بعد ہی Lucy نامی ٹوئٹر اکاونٹ سے مبینہ آڈیوز لیک ہوتی ہیں۔ یہ اکاونٹ نیا ہی بنا ہے اور اس پر صرف لیکڈ آڈیوز موجود ہیں۔ یعنی کہ یہ اکاونٹ بنایا ہی اسی مقصد کے لیے ستمبر 2022 میں گیا ہے۔ اربابِ اختیار نے ہیکر سے مذاکرات کیے اور غالباً چوری شدہ ڈیٹا کے بدلے اربوں روپےکی پیشکشں کی مگر مبینہ مسٹر ہیکر نے روپے پیسے کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا اور جمعے کو مزید ویڈیوز جاری کرنے کی دھمکی دی مگر پھر اچانک مبینہ مسٹر ہیکر غیر فعال ہوکر منظرنامے سے غائب ہوگیا۔۔۔ یہ سارا واقعہ وزیراعظم ہاؤس کی سائبر سیکیورٹی کی مکمل ناکامی ہے ۔ وزیراعظم ہاؤس کی سائبر سیکیورٹی ” انٹیلیجنس بیورو یعنی IB ” کے ذمے ہے۔ آڈیو لیکس کو” آڈیو گیٹ” کہنا بےجا نہ ہوگا۔یہ ” آفیشل سیکرٹ ایکٹ ” کی بھی خلاف ورزی ہے۔

حیرت انگیز طور پر کسی نے بھی ابھی تک لیک ہونے والی آڈیوز کو فیک قرار نہیں دیا ۔ حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کے قیام کا اعلان کیاہے ، معاملے کی جوڈیشل انکوائری ضرور ہونی چاہیے۔ مبینہ آڈیو لیکس میں ایک میں مریم نواز کی داماد کیلئے بھارت سے پاور پلانٹ منگوانے کی سفارش کی ، بھارت سے ہمارے تجارتی روابط منقطع ہونے کے باوجود شریف خاندان کی بھارت سے تجارت کیوں جاری ہے؟ مریم نواز نے شہبازشریف کو تیل کی قیمتیں بڑھانے کا مشورہ دیا، جبکہ عوامی سطح پر مریم نواز تیل کی قیمتوں میں اضافے پر مگرمچھ کے آنسو بہاتی رہی ہیں۔ حتیٰ کہ غریبوں کی بھلائی کیلئے جاری کیے جانے والے” صحت کارڈ” کو بھی بند کروانے کی کوشش کی ۔

شریف خاندان کی اقرباء پروری ، بھارت نوازی اور غریب عوام کی حالت زار سے بے اعتنائی قابلِ مذمت ہے ۔ اس کےبعد سابق وزیراعظم عمران خان کی لیک آڈیو مبینہ مسٹر ہیکر نے جاری نہیں کی ، تو پھر یہ آڈیو کس نےجاری کی ، تاحال واضح نہیں ہوسکا ہے ۔ اس کو آڈیو کو سمجھنےسے کیلئےپہلے یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ “سائفر” کیا ہوتاہے؟؟؟ اس آڈیو لیک پر پی ٹی آئی کا یہ استدلال بےمعنی سا ہے کہ” یہ سائفر ایک حقیقت ہے”۔ یہ تو سب ہی پہلےسےجانتے ہیں کہ اسد مجید کی طرف سےسائفر بھیجا گیاتھا اور یہ منوانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ، اور نہ یہ پہلا سائفر ہے جو دفتر خارجہ کو موصول ہوا بلکہ ہر روکئ سائفر دفتر خارجہ وصول کرتاہے جو کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سفیر اپنے پیشہ وارانہ سفارت کاری امور کے متعلق بطور رپورٹ لکھ کر بھیجتے ہیں تاکہ حکومت پاکستان کو ان سرگرمیوں کی اطلاع بہم پہنچتی رہے۔

چنانچہ امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر اسد مجید نے اپنی الوداعی تقریب کے احوال پر مبنی سائفر بھیج دیا تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی؟ دراصل ہم تو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سائفر میں ایسا کیا تھا؟ کیا ڈونلڈلو کی مبینہ زبانی دھمکی کی اطلاع بذریعہ سائفر دی گئ ،جس کی وجہ سے بھونچال آگیا؟ اگر ایسا ہے تو بھی تو آپ اس سائفر کو امریکہ کا دھمکی آمیز خط نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ وہ اسدمجید کی تحریر تھی ، پس ثابت ہوا کہ آپ کایہ دعویٰ غلط تھا۔ آپ نے پاکستانی سائفر کو امریکہ سے منسوب کیسے کردیا؟ اب آڈیو کا جائزہ لیتے ہیں۔لیک ہونے والی آڈیو میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اپنے اس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے گفتگو میں سائفر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے ( اس سے مراد یہ ہے کہ عمران خان رجیم آپریشن کا سیاسی بیانیہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے)۔ امریکہ کا نام نہیں لینا( اگر واقعی امریکی سازش تھی تو پھر سفارتی مصلحتیں آڑے نہیں آنی چاہیے تھیں) جس پر پرنسپل سیکرٹری اعظم خان عمران خان کو کہتے ہیں کہ سائفر پر ایک اجلاس کر لیتے ہیں۔آڈیو میں اعظم خان مزید کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی (جو اس وقت وزیرِ خارجہ تھے) یہ اجلاس طلب کریں گے اور وہ لیٹر پڑھ کر سنایا جائے گا اور جب اس لیٹر کو پڑھا جائے گا تو اسے کاپی میں بدل دیں گے۔

اعظم خان کہتے ہیں کہ ’’وہ میں منٹس میں تبدیل کر لوں گا کہ سیکریٹری خارجہ نے یہ چیز بنا دی ہے۔ پھر اینلسز (تجزیہ) اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ میں ہوں۔ اینلسز یہ ہوگا کہ یہ تھریٹ (دھمکی) ہے ( گویا یہ سائفر دھمکی آمیز قرار دینا ، آپ کا اپنا تجزیہ ہوگا، تاکہ اس پر سیاست کی جاسکے ، ہوسکتاہے کہ کوئی غیرجانبدار شخص سائفر دیکھے تو اس کا تجزیہ مختلف ہو) اور سفارتی زبان میں اسے تھریٹ کہتے ہیں۔‘‘اعظم خان ایک اجلاس کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جس پر سابق وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ میٹنگ میں شاہ محمود قریشی، آپ، میں اور سہیل ( اس وقت کے سیکریٹری خارجہ) کو بلائیں، جس پر اعظم خان اثبات میں جواب دیتے ہیں۔ گویا عمران خان صاحب کو سائفر کو دھمکی آمیز قرار دینے کا مشورہ ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دیا ، کیونکہ عمران خان اس سائفر کی بنیاد پر (سیاست) کھیلنے کے خواہاں تھے۔

تو پھر ان کے ماتحت بھی ان کا ساتھ نبھانے کیلئے اظہار آمادگی کررہے تھے۔ گویا آڈیو میں اسد مجید کے سائفر کی بنیاد پر “رجیم چینج آپریشن”کی کہانی گھڑنے کی تیاری ہورہی ہے۔ آڈیو کے وہ حصے جن کی متضاد تشریح کی جارہی ہے ” اینی ہاو ، فارن ۔۔۔۔” سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے آگے جملہ مبہم اور غیر واضح ہے۔ آڈیو سبٹائٹل کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ” اینی ہاو ، ہے تو فارن سازش بنادیتے ہیں ” خودساختہ بات ہے جبکہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہےکہ عمران خان نے یہ کہا ” اینی ہاو ،یہ ہے تو فارن سازش “۔

آڈیو کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو ” اینی ہاو ، یہ تو فارن۔۔۔ اس سے آگے جملہ مکمل ہی نہیں ہے” ۔اب جو چاہے اس نامکمل جملے کی من چاہی تشریح پیش کرسکتا ہے ۔ اس متنازعہ جملے سے قطع نظر اہم سوال یہ ہے کہ وہ ” سائفر کس نے بھیجا ؟ اور اس میں کیا لکھا تھا”۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ سائفر امریکی تھا یا ڈونلڈلو نے بھیجا تھا یا اس میں ڈونلڈ لو کی دھمکی ک ذکر تھا؟ اگر اس کا ثبوت پیش کردیا جائے تو تب ہی رجیم چینج آپریشن کا دعویٰ سچ ثابت کیاجاسکتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں