ٹرانس جینڈر بل پرسینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کا مزید مشاورت کا فیصلہ

اسلام آباد: سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی نے ٹرانس جینڈر بل پر مزید مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔سینیٹر ولید اقبال کی زیرصدارت سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کمیٹی کو بتایا قانون مجریہ 2018 میں ٹرانس جینڈر کو حقوق دیے گئے ہیں شادی کا تو ذکرہی موجود نہیں۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے پہلے بل کے حق میں رائے دی اور بعد میں کہا وہ ان کی ذاتی رائے تھی، ادارہ جاتی نہیں، ٹرانس جینڈربل سال 2018 میں غور و خوض کے بعد تیار ہوا، وفاقی محتسب نے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی تھی یہ سب غیر اسلامی نہیں ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے چارسال پہلے بنے ٹرانس جینڈر قانون کو غیر اسلامی قراردیا تاہم کمیٹی نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل اور سینیٹ کے ایوان کو نہ بھیجنے کی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اپنا اختیار کسی اور کو نہ دے اور معاملے پر پہلے خود غورکرے۔اس کے بعد کمیٹی نے اتفاق رائے سے ٹرانس جینڈربل پر مزید غور کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں