شہریاریاں/شہریار خان
شہریاریاں/شہریار خان

بغیر ٹکٹ سفر

ایک مرتبہ ایک سردار جی ٹرین میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بنا ٹکٹ سفر کر رہے تھے۔ ٹکٹ چیکر آیا تو سردار جی نے بہت بدتمیزی سے جواب دیا چل آگے چل۔۔
ٹکٹ چیکر نے بہت تحمل کے ساتھ پھر ٹکٹ کا کہا تو سردار جی نے غصے میں کھڑے ہو کر کہا جاندا ایں یا نئیں؟۔
ٹکٹ چیکر نے کہا او بد تمیز انسان، تمیز کر ورنہ ایک تھپڑ ایسا ماروں گا کہ سب بدمعاشی بھول جاؤ گے۔ سردار جی نے اکڑ کے کہا اچھا جی،ہمت ہے تو ہاتھ لگا۔
ٹکٹ چیکر نے ایک زوردار تھپڑ مارا تو سردار جی اوندھے ہو گئے، منہ کھڑکی سے جا کر لگا۔ کپڑے جھاڑ کر اٹھے اور بولے میں تیار نہیں تھا اب مار کے دکھا۔۔ ٹکٹ چیکر نے اب کی مرتبہ الٹے ہاتھ کا ایک رسید کیا۔۔ سردار جی کھڑے ہوئے اور بولے مجھے تو مار لیا، میں بڑے دل والا ہوں معاف کر دیا لیکن اگر میری بیوی کو ہاتھ لگایا تو میں تیرے ہاتھ توڑ دوں گا۔

ٹکٹ چیکر نے ایسا زناٹے دار تھپڑ سردار کی بیوی کو مارا کہ بے چاری سیٹ سے نیچے گر گئی۔ سردار جی کا پارہ آسمان پہ پہنچ گیا۔ بولے میری بیوی کو مار لیا تو میں نے برداشت کر لیا اب اگر میرے چھوٹے بھائی کو تھپڑ مارنے کا سوچا بھی تو میں تمہارے سارے دانت توڑ دوں گا۔چھوٹے بھائی نے یہ سنتے ہی دروازے کی طرف دوڑنے کی کوشش کی مگر بھاگ نہیں سکا۔ ٹکٹ چیکر کی گرفت ہی بہت مضبوط تھی، بس پھر کیا تھا ٹکٹ چیکر نے سردار جی کے چھوٹے بھائی کوگریبان سے پکڑا اور ایک نہیں پورے تین تھپڑ مارے۔
یہ صورتحال دیکھ کر سردار جی کے تمام رشتے دار دوڑ کے دوسرے ڈبے میں جا کر چھپ گئے۔ سردار جی کے کانوں میں شائیں شائیں کی آوازیں آ رہی تھیں انہوں نے گال کو سہلاتے ہوئے خاموشی کے ساتھ جیب سے پیسے نکال کر ٹکٹ چیکر کو پکڑائے۔
ٹرین میں سوار ایک شخص نے سردار جی سے پوچھا کہ اگر پیسے تھے تو ٹکٹ پہلے کیوں نہیں خریدا؟۔ اور اگر نہیں خریدا تو ٹھیک مگر تمہیں تھپڑ لگ گیا تو تم نے باقی رشتے داروں کو کیوں تھپڑ پڑوائے؟۔

سردار جی نے تحمل کے ساتھ جواب دیا کہ میں نے پہلے پیسے بچانے کی کوشش کی اور سوچا کہ ٹکٹ چیکر ڈر جائے گا مگر اس نے تو مجھے تھپڑ مار دیا۔ مجھے یقین تھا گھر جاتے ہی میری بیوی میرا مذاق اڑائے گی کہ بہت اکڑتے تھے مگر ایک پتلے سے ٹکٹ چیکر سے مار کھا کر خاموشی سے بیٹھ گئے، اس لئے ایک تھپڑ اپنی بیوی کو لگوایا۔رہ گیا میرا چھوٹا بھائی تو یہ سب ہوا ہی اس منحوس کی وجہ سے ہے، چھوٹے بھائی نے گھر سے نکلتے ہوئے ہی کہا تھا کہ میرا بغیر ٹکٹ سفر کرنے کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ ٹکٹ خریدوں یا نہیں مگر مار ضرور پڑ جائے گی۔ اس لئے اسے بھی تھپڑ لگوائے تاکہ اس کی بھی طبیعت درست ہو جائے، آئندہ سے میری بات میں بولنے کی کوشش نہ کرے، گھر جا کے اس نے بھی کہنا تھا کہ ویکھیا اے ناں؟۔ میری گل نئیں منی، ایس لئی ویر جی نوں کٹ پئی، چنگا ہویا۔ ہن کرے گلاں، چپیڑاں تے انوں وی پیاں نیں۔ (دیکھا ناں؟۔ میری بات نہیں مانی، اس لیے بڑے بھائی کو مار پڑی، اچھا ہوا۔اب کرے باتیں، تھپڑ تو اسے بھی پڑے ہیں)۔

ہمیں اپنے معاشرے میں بھی ایسے کردار بہت دکھائی دیتے ہیں جو اپنی مار سامنے دیکھ کر کوشش کرتے ہیں کہ سب کو مار پڑ جائے اور بے عزتی بھی سب کی ہو تاکہ وہ اس بے عزتی میں اکیلا دکھائی نہ دے، اب دور کیا جانا، پی ٹی آئی کی مثال لے لیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک علامہ موجود ہے۔ سب مل کر سردار جی کی طرح بڑھکیں مار رہے ہیں، جب مار پڑنے لگے گی تو نام لے لے کر اپنے ساتھیوں کو بھی مار پڑوائیں گے تاکہ اس پٹائی میں اکیلے نہ رہ جائیں۔

آج پی ٹی آئی کے راہنماؤں کے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں مختلف بیانات دیکھ کر یہی خیال گزرا کہ یہ بھی اونچی آواز میں بڑھکیں مار رہے ہیں کہ ہاتھ لگا کر دکھاؤ ہم دیکھ لیں گے۔۔ کون ہے جو عمران خان کو ہاتھ لگائے، ہم ہاتھ توڑ دیں گے۔ کوئی کہتا ہے کہ کسی مائی کے لعل نے عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو انجام اچھا نہیں ہو گا۔ ایک کہتا ہے عمران خان کے سامنے قوم دیوار بن کر کھڑی ہو گی، اگر کپتان کو کسی نے گرفتار کرنے کا سوچا بھی تو لوگ ترکی کو بھول جائیں گے۔ایسی بڑھکیں سن کر ہنسی آ جاتی ہے یعنی یہ کاندھوں پر سوار ہو کر آنے والے اپنے آپ کو انقلابی سمجھنے لگے ہیں؟۔ لیڈر ان کا کہتا ہے کہ مجھے کسی طرح دوبارہ اقتدار میں بٹھا دو مگر یہ ساتھ بیٹھے ڈھیر سارے ” سردار جی” جیسے کردار جیسے صلح ہونے ہی نہیں دینا چاہتے۔

یہ کپتان کو ٹارچ کی روشنی پر بٹھا کر اس انتظار میں دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے ہی وہ بلندی پر پہنچے یہ نیچے سے ٹارچ بند کر دیں اور وہ دھڑام سے نیچے آ گرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل عمران خان نے عوام کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دی، وہ ابھی چونکہ ماضی میں جی رہے تھے اس لیے اندازہ نہ لگا سکے کہ اس مرتبہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ ہیں۔ یہ کارکن جو ناز و نعم میں پلے ہیں، جن کو تھوڑی دیر کے لیے بھی دھوپ برداشت نہیں ہوتی اسی لیے یہ جلسہ بھی رات کا ہی پسند کرتے ہیں، ان بے چاروں کو ایک ایک ڈنڈا لگا تو یہ سب گھر بیٹھ کر دوسروں کو سوشل میڈیا پر ترغیب دیتے رہے کہ شاباش باہر نکلو۔۔ مگر حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ اسی لیے کپتان نے اسلام آباد پہنچ کر جب دیکھا کہ لوگ نہیں آئے تو وہ ایک مرتبہ پھر تیاری کے ساتھ آنے کا اعلان کر کے پتلی گلی سے نکل گئے۔
اب اس وقت تک مختلف مقدمات میں عمران خان صاحب پھنسے ہوئے ہیں مگر ان کے ساتھی ہیں کہ ان کی بڑھکیں ختم نہیں ہو رہیں۔ کوئی ہاتھ لگائے گا تو عوام کا سمندر عمران کے سامنے کھڑا ہو گا۔۔ مجھے یہ لطیفہ یاد آ گیا۔ عمران صاحب۔۔: یقین مانیں یہ اسد عمر، یہ حماد اظہر، فواد چوہدری، یہ افتخار درانی بالکل سردار جی والا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔ یہ آپ کو تھپڑ لگوا کر خاموشی سے اپنا ٹکٹ خرید لیں گے۔ ذرا سوچ لیجئے، ابھی بھی وقت ہے۔

۔۔۔ شہریار خان

اپنا تبصرہ بھیجیں