ود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ سےنقد لین دین میں ریکارڈ اضافہ ہوا ،سٹیٹ بنک

کراچی(ویب ڈیسک) ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے باعث گزشتہ دو سال کے دوران نقد لین دین میں 30 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،معیشت کو دستاویز کرنے کی خاطر حکومت نے سال 2015 میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ کیا لیکن چھوٹے کاروبار کرنے والے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے بجائے نقد اور بانڈز کے ذریعے ہی لین دین کررہے ہیں۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے حالیہ دنوں میں جاری کیے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق چھوٹا کاروبار کرنے والوں کے بینک ڈپازٹس جو جون 2015 میں 177 اب روپے تھے مارچ 2017 میں 30 ارب روپے سے گھٹ کر 147 اب روپے تک پہنچ گئے ہیں،سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ برائے 16-2015 میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس کے نفاذ سے نقد اور پرائز بانڈز میں کاروباری لین دین بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت ٹیکس فائلرز پرایک روز میں 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر اعشاریہ 4 فیصد جبکہ نان فائلرز سے اعشاریہ 6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے،ٹیکس ماہرین کے مطابق ماضی کے تلخ تجربے کے باعث چھوٹے تاجر ٹیکس دائرے میں آنے سے دور بھاگ رہے ہیں اور بینکوں کے ذریعے لین دین کے بجائے نقد یا بانڈز کے ذریعے ہی کاروبار کررہے ہیں۔