قلمدان قاضی/قاضی محمد عابد

بلدیاتی انتخابات

جس طرح عمارت کی مضبوطی اور پائیداری کا تعلق اُس کی بنیادوں سے ہوتا ہے. ٹھیک اسی طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ معاشروں میں رائج جمہوری نظام کی بنیاد وہاں کا فعال ، مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام ہوتا ہے جس کا تسلسل وہاں کے پارلیمانی یا صدارتی نظام کو مضبوط تر بنا کر معاشرے کو خوشحال بناتا ہے۔مقامی حکومتوں کے زیرِانتظام بلدیاتی نظام کی ایک کتاب میں درج تعریف کے مطابق ’’مقامی حکومت سے مراد ایسا ادارہ ہے جو اپنے محدود اور معین علاقے میں اختیارات کے تعین اور ان کو رُوبہ عمل لاکر عام یا خاص ضرورتوں کو پورا کرے اور حکومت کے مقابلے میں کم اختیار رکھتا ہو‘‘۔

مقامی حکومت جمہوری نظام کی اکائی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ایک بنیادی سیاسی تربیت گاہ بھی ہے جس میں عوام سیاسی تربیت کے ساتھ عملی طور پر نظم و نسق، انتظامی اُمور کا تجربہ حاصل کرتے ہیں اوراس کے ذریعے سے مستقبل کی قومی سیاسی قیادت بھی سامنے آتی ہے۔جب حقیقی جمہوری معاشروں نے جمہوریت کے تسلسل کے دوران اس کمی کو شدت سے محسوس کیا کہ بڑے قومی مسائل حل کرنے پر یکسوئی کی بدولت نچلی سطح پر عوام کے مسائل پر وہ ارتکاز نہیں کر پارہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات پیش آنے کے ساتھ عوام اور حکومتوں کے مابین فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں .

جو ملک، جمہوراورجمہوریت کے ساتھ زیادتی ہے تولہذا جمہور کی مشکلات کونچلی سطح پر حل کرکے جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی غرض سے ترقی یافتہ ممالک مقامی حکومتوں کا نظام وجود میں لائے اور اُنہیں انتخابات اور مکالمے کے ذریعے مسلسل فعال ،مستحکم اور باختیار بنا دیا جس کے سبب اُن معاشروں میں سیاسی شعور بیدار ہوا اور جمہوریت نچلی عوامی سطح تک مضبوط ہوئی نتیجتاً وہ معاشرے خوشحال ہوئے۔سال 2019ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، عوامی جمہوریہ چین،جاپان،جرمنی ،برطانیہ،بھارت،فرانس،اٹلی،برازیل اور کینیڈا کا ترقی میں دنیا بھر کے ممالک میں پہلے دس ممالک میں آنے کی ایک وجہ ان ممالک کا اپنے ملکوں میں مسلسل جمہوری اداروں اور بلدیاتی نظام کو بھی مستحکم، فعال اور بااختیار بنائے رکھنا ہے۔ ان مُہذب معاشروں میں اس حد تک مقامی حکومتوں کو اختیارات دئیے گئے ہیں کہ انفرااسٹرکچر، تعلیم، پولیس اور صحتِ عامہ بھی مئیر کے اختیار میں ہوتے ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں 1688ء میں پہلی بار بلدیاتی اداروں کا تصور متعارف کرایا تھا جس کا سہرا لارڈ رٹن کے سر جاتا ہے .انہوں نے پہلی میونسپل کمیٹی مدراس میں بنوائی تھی۔
آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو پاکستان کے زیر انتظام خودمختار خطہ ہے۔ اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین متنازع ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دار الحکومت مظفرآباد ہے اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازہ 40 لاکھ ہے۔ اور یہاں پہاڑی زبان، ہندکو، گوجری، پنجابی اور کشمیری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی شرح تعلیم 65 فیصد ہے۔

آزاد کشمیرکشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی اور دلکش مناظر کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور سیر و تفریح کے لیے لوگ بڑی تعداد میں آزاد کشمیر کا رُخ کرتے ہیں۔ انہی خوبصورت مناظر کی وجہ سے مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے کہا تھا کہ کشمیر زمین پر جنت ہے۔ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 32 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن میں ضلع باغ، ضلع بھمبر، ضلع پونچھ، ضلع سدھنوتی، ضلع کوٹلی، ضلع مظفر آباد، ضلع میر پور، ضلع نیلم، ضلع حویلی اور ضلع ہٹیاں شامل ہیں۔

یونین کونسل جنوب ایشیائی ممالک میں ایک انتظامی تقسیم ہے جو عموماً ایک تحصیل کا حصّہ ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ ایک سے زیادہ دیہاتوں پر مشتمل ہوتی ہے، پاکستانی میں اس انتظامی تقسیم کا سربراہ ناظم یونین کونسل کہلاتاہے۔یونین کونسل پاکستان میں انتظامی تقسیم کے لحاظ چھٹی اکائی ہے، یعنی سب سے پہلے وفاق پھر صوبہ پھر ڈویژن پھر ضلع پھر تحصیل اور پھر یونین کونسل۔ لیکن 2007 کے بعد ڈویژن ختم کر دیا گیا اس لیے اب یونین کونسل پانچویں اکائی بن گئی ہے۔ یونین کونسل بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) کا سب اہم حصہ ہوتا ہے۔ یونین کونسل حکومت میں 13 کونسلر ہوتے ہیں جن کی سربراہی ناظم اور نائب ناظم کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 6000 سے زائد یونین کونسلز ہیں۔

آزاد کشمیر کے بلدیاتی الیکشن 2022 کے لئے حلقہ بندی میں 10 اضلاع کو 10 ضلع کونسلوں، 5 میونسپل کارپوریشنوں، 14 میونسپل کمیٹیوں، 14 ٹاؤن کمیٹیوں اور 2080 یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جبکہ بلدیاتی نمائندگان کی مجموعی تعداد 2343 ہے۔ اس بلدیاتی الیکشن میں ووٹروں کی کل تعداد 29 لاکھ 48 ہزار 200 ہے جس میں 15 لاکھ 64 ہزار 902 مرد ووٹر اور 13 لاکھ 83 ہزار 102 خواتین شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 42 امیدواران بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں جبکہ کل 10556 امیدوار مدمقابل ہیں۔ ضلع کونسل کی نشستوں پر کل 1825، یونین کونسل کی نشستوں پر 7275، ٹاؤن کمیٹی کی نشستوں پر 275، میونسپل کمیٹی پر 381 جبکہ میونسپل کارپوریشن کی سطح پر 800 امیدوار مد مقابل ہیں۔

اکتیس سال بعد ہونیوالے الیکشن کے حوالہ سے ووٹر اور امیدوار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور آئے روز سوشل میڈیا پر الیکشن ملتوی ہونے کی خبروں نے انہیں بے سکون کر رکھا ہے ایک طرف وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے فورسز دینے سے انکار اور دوسری جانب سپریم کورٹ کے احکامات کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف آزادکشمیر بھی مشکل میں پھنس چکا ہے۔
 الیکشن کمیشن نے سیکورٹی فورسزکی صورتحال حال کو مدنظررکھتے ہوئے ڈویژن وائز مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیاہے جس کے مطابق 27نومبر کو مظفرآباد ڈویژن، 03دسمبر کو پونچھ ڈویژن جبکہ8دسمبر کو میرپور ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔جبکہ اپوزیشن جماعتیں بضد ہیں کہ انتخابات جملہ اضلاع میں ایک ہی دن ہونے چاہئیں اور الیکشن کمیشن سیکورٹی کیلئے فورسز کا بندوبست کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں