شرارے /رانا شاہد

اداروں کی اہمیت


خوشنود علی خان پاکستانی صحافت کا انتہائی معتبر اور معروف نام انہوں نے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز جنگ گروپ سے کیا لیکن ملک گیر شہرت خبریں گروپ کا حصہ بن کر حاصل کی
خوشنود علی خان سے جب بھی میں نے پوچھا کہ وہ دنیائے صحافت میں کس سے متاثر ہیں تو ہر مرتبہ ان کا ایک ہی جواب آیا ضیاء شاہد
خوشنود علی خان کا ماننا تھا کہ ضیاء شاہد ہی وہ صحافتی شخصیت ہیں جو ناممکن کو ممکن بنانے کا فن جانتا ہے خبریں گروپ اس کی صلاحیتوں کی ایک معمولی سی جھلک ہے
خوشنود علی خان اور ضیاء شاہد کی جوڑی نے پاکستانی صحافت اور صحافیوں کو الگ راستوں سے آشنا کیا اور صحافی کارکنوں کی بے رنگ بے کیف زندگی میں رنگ بھرے
بہر حال میں خوشنود علی خان کے بارے میں اداروں کی اہمیت کے حوالے سے بتانا چاہتا تھا لیکن بات کہیں سے کہیں نکل گئی
تو عرض یہ ہے کہ خوشنود علی خان نے صحافت کی شروعات روزنامہ جنگ سے کیں اور لازوال شہرت طاقت اور احترام خبریں گروپ کا حصہ بن کر حاصل کیا میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ خوشنود علی خان کو جو قوت طاقت عظمت بطور صحافی حاصل ہوئی شاید ہی کوئی کارکن صحافی ان کی برابری کا دعویٰ کر سکے اللہ پاک نے خوشنود علی خان کو بے پناہ دولت عزت اور شہرت سے نوازا ہے
میں خوشنود علی خان کی دولت عزت اور شہرت کی بار بار بات کر رہا ہوں اس بار بار ذکر کرنے کی بھی ایک خاص وجہ ہے کہ خوشنود علی خان نے یہ سب خبریں گروپ کا حصہ بن کر حاصل کیا جنگ گروپ میں وہ ایک کامیاب صحافی ضرور تھے لیکن ان کی شہرت پاکستان اور بیرون پاکستان کبھی بھی نہیں تھی
میں نے ایک مرتبہ خوشنود علی خان سے پوچھا کہ آپ کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی پچھتاوا کیا ہے جس پر ہمیشہ افسوس رہے گا تو انہوں نے فوراً جواب دیا جنگ گروپ کو چھوڑنا
خوشنود علی خان کا جواب سن کر میں حیرت زدہ ہو گیا کہ اس شخص کو دنیا میں نام دینے والا خبریں گروپ ہے اور یہیں سے عزت شہرت اور طاقت حاصل ہوئی لیکن پھر بھی افسوس جنگ گروپ کے چھوڑنے کا ہے
واہ یہ ہے بڑے لوگوں کی بڑی باتیں اور یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ادارے ہر حال میں مقدم اور محترم ہوتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں