رپورٹ/احسن حمید

2025تک پاکستان میں‌ پانی کی قلت کا خدشہ فوری حل تلاش کرنا ہوگا،رپورٹ

اسلام آباد(رپورٹ احسن حمید)پانی انسانی زندگی کیلئے نہایت مفید ہے ۔ لیکن کچھ عرصے سے یہ تصور عام ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت ہوگی اور اگلے کچھ سال بعد پانی ملنا محال ہو گا ۔ آخر یہ کیوں کہا جارہا ہے اور اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں ان کو جاننا بہت ضروری ہے۔ کیا ڈیمز تعمیر کرنے سے پانی کا مسلئہ حل ہو سکے گا؟ دراصل بات یہ ہے کہ قدرت ہمیں آ بی چکر یا پھر water cycle کے زریعے ہمیں پانی فراہم کر رہی ہے۔ جو ایک قدرتی عمل ہے جیسے ہم کسی بھی طور پر جھٹلا نہیں سکتے ۔

یہ سلسلہ لاکھوں برس سے چلتا آ رہا ہے اور آگے بھی ایسے ہی چلتا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے اندر بڑی سطح پر پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے نظام متعارف کرایا جائے جس میں بڑے پیمانے پر ڈیمز اور صوبائی سطح پر چھوٹے ڈیمز تعمیر کیے جاہیں ۔ جن سے ملکی توانائی زراعت سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا جائے اور بڑے پیمانے پر ملک میں خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کیا جائے ۔ اگر دیکھا جائے تو گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پوری دنیا کے اندر موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔جس کا خمیازہ پاکستان بھی بھکت رہا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں گزشتہ 115 سال کے ڈیٹا سے بارشوں کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ حکمران طبقے کو سوچنے کے بجائے عملی کام کرنے ہوں گے ،جس سے پانی جیسے بڑے مسائل سے پاکستان کو اور عام لوگوں کی زندگیوں کو ہر سال سیلاب جیسی تباہی سے بچایا جاسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں