جنرل عاصم منیر کون اور کیوں؟

سیدخالدگردیزی
24 نومبر2022

راولپنڈی کے علاقے لال کڑتی کے ایک سرکاری سکول کے سابق پرنسپل سیدسرور منیر بخاری کے تین بیٹے ہیں۔ قاسم منیر، ہاشم منیر اور عاصم منیر۔ یہ تینوں بھائی حافظ قرآن ہیں۔ عاصم منیر فوج میں بھرتی ہونے سے پہلے حافظ تھے۔عاصم منیر کو سپہ سالار بننا تھا، یہ مقام پاک فوج میں کسی بھی افسر کی خواہش ہو سکتی ہے۔

عاصم منیر نے 1985 میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔پیشہ ورانہ زندگی میں بااصول اور نظم و ضبط کے سخت پابند جب کہ عوامی معاملات میں اعتدال پسند سپہ سالار کا پیشہ ورانہ پس منظر شاندار ہے۔

جنرل عاصم منیر نے فرنٹیر فورس رجمنٹ کی 23 ویں بٹالین میں کمیشن حاصل کیا اور اعزازی تلوار پائی۔آرمی چیف تعینات ہونے سے پہلے تھری سٹار جنرل کے طور پر جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات تھے۔وہ ستمبر 2018 میں لیفٹیننٹ جنرل ترقیاب ہوئے جبکہ دو ماہ بعد نومبر 2018 کو آئی ایس آئی کے سربراہ تعینات ہوئے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر ان کا دور تاریخ کا مختصر دور کہلاتا ہے جو صرف نو ماہ بعد ہی انکی کورکمانڈر گوجرانوالہ تعیناتی پر ختم ہوا جبکہ ان کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے اچانک ہٹائے جانے پر ہندوستان میں جشن منایا گیا۔

قبل ازیں وہ ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی رہے۔عسکری تاریخ میں جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو دو انٹیلی جنس ایجنسیوں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) کی قیادت کرچکے۔

وہ فورس کمانڈر نادرن ایریاز رہے۔بطور بریگیڈیر سعودی عرب میں بھی رہے۔

پاکستان کے جغرافیائی اور تزویراتی حالات کے پیش نظر سیاسی عدم استحکام کے دوران پیشہ ورانہ مہارت اور سینارٹی کی بنیاد پر غالباً وہ بہترین انتخاب ہیں جو پاکستان کی بنیادی طاقت کو سیاسی دلدل سے نکال کر فوج کے عزت و وقار کو بحال اور اضافہ کرنے سمیت گلوبل ویلج کے اندر بیانیہ کی جنگ میں قوم کا دفاع مضبوط کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں