جارجیا میں اسرائیلی شہری پر قاتلانہ حملے میں مبینہ ملوث پاکستانی گرفتار،دفتر خارجہ پاکستان تاحال لاعلم

اسلام آباد (سید فیصل علی)
جارجیا کے سیکیورٹی حکام کے مطابق 15 نومبر کے روز ایرانی اداروں کی ہدایت پر ایک پاکستانی شہری کی جانب سے ایک اسرائیلی شہری کو قتل کرنے کی حالیہ کوشش کو ناکام بنایا گیا ہے،

اس معاملے پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا تاہم ،جارجیا کی اسٹیٹ سیکیورٹی سروس کے ایک بیان کے مطابق، حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا، اور سیکیورٹی حکام نے مبینہ طور پر قتل کا حکم دینے والے شخص کی شناخت جارجیا سے باہر کام کرنے والا ایرانی شہری کے طور پر کی ہے۔

سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور کو ایک اسرائیلی کو قتل کرنے کے لیے جارجیا بھیجا گیا تھا، اور اس نے قتل کا حکم دینے والے ایرانی کی ہدایت پر خفیہ طور پر مطلوبہ ہدف کی نگرانی شروع کر دی تھی۔

جارجیا کی سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا ہے کہ اس شخص نے جارجیا میں دیگر ایرانی شہریوں سے ہتھیار خفیہ ٹھکانوں کے ذریعے حاصل کیے ۔ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں دوہری شہریت رکھنے والی جارجیائی باشندے بھی شامل ہیں جو ایران یا پاکستان کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

واضح رہے پاکستان کے دفتر خارجہ سے صحافیوں کی جانب سے بارہا پوچھنے کے باوجود تاحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آ سکی ہے ، دفتر خارجہ اسلام آباد میں جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر جارجیا میں ہم پاکستانی مشن سے رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر جلد پیشرفت سامنے لائی جائے گی،

سٹیٹ ویوز نے اس معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ سے پوچھا کہ کیا اس معاملے میں ایرانی سفارت خانے کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے جس پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا اس معاملے پر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

واضح رہے جارجیا کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایرانی تنطیموں پر اسرائیلی شہریوں اور بیرون ملک اہداف کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، جن میں حال ہی میں یونان اور ترکی کے دو مشہور سیاحتی مقامات بھی حملوں کے واقعات شامل ہیں۔

اسرائیلی اخبار “ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ” 2012 میں، جارجیا کی مقامی سیکورٹی فورسز نے ایک کار بم کو ناکارہ بنا دیا جو تبلیسی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم کی گاڑی کے نیچے رکھا گیا تھا۔

واضح رہےاسلام آبادمیں موجود ایرانی سفارتخانے اور تہران سے ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی اس معامے پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں