چٹان/ عائشہ نور

آخری وار

سنا ہے کہ خاندان شریفیہ نے لندن چھوڑ دیا ہے ، ہمارے مفرور قومی چور نوازشریف میلان ، اٹلی کے ایک شراب خانے سے برآمد ہوئے ہیں۔ نواز شریف پانچ یورپی ممالک کے دس روزہ دورے کیلئے نکلے ہوئے ہیں۔ اس اچانک تفریحی پروگرام کی آخر وجہ کیا بنی ؟ کہیں وہ وجہ تسنیم حیدر شاہ کے تہلکہ خیز انکشافات تو نہیں ؟؟؟

جی ہاں تسنیم حیدر شاہ کے مطابق وہ 20 سال سے ن لیگ سے وابستہ ہیں اور گزشتہ 5 سال سے پارٹی ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، تسنیم حیدر نے الزام لگایا کہ ارشد شریف اور عمران خان کو قتل کرنے کا منصوبہ نواز شریف کی قیادت میں لندن میں تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایسی 3 میٹنگز میں شرکت بھی کی ، تسنیم حیدر کے بقول انہیں شارپ شوٹرز لانے کا بھی کہا گیا۔ تسنیم حیدر شاہ نے یہ معلومات لندن پولیس کو بھی فراہم کردی ہیں ۔ کیا اس معاملے پر لندن پولیس کی متوقع تحقیقات کا خوف شریف خاندان کے سیاحتی دوروں کا محرک بنا یا پھر تسنیم حیدر شاہ ایک پلانٹڈ کردار ہے ؟ یہ فیصلہ تو وقت آنے پر ہی ہوگا۔ تاہم ان سوالات کے جوابات ضرور تلاش کرنا ہوں گے۔‏اگردیکھاجائےتوتسنیم حیدر شاہ کے بیانات نوازشریف خلاف اہم گواہی بھی ثابت ہوسکتےہیں۔۔۔

اتفاق سے ایک اور معاملہ بھی آج کل زیربحث ہے۔ حالیہ دنوں وزارتِ خزانہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کے ٹیکس ریکارڈ کے غیر قانونی اور غیر ضروری طور پر لیک ہونے اور “مکمل رازداری قانون” کی خلاف ورزی پر تحقیقات کا حکم جاری کیا ۔ جنرل باجوہ کے ٹیکس گوشواروں پر مبینہ تحقیقاتی مواد جاری کرنے والی ویب سائٹ فیکٹ فوکس اپنا تعارف ڈیٹا پر مبنی تحقیقاتی خبروں پر کام کرنے والی پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا نیوز آرگنائزیشن کے طور پر کرواتی ہے۔

اس ویب سائٹ نے اس سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق صدر مملکت جنرل پرویز مشرف سمیت کئی شخصیات سے متعلق فنڈز کے غلط استعمال کے بارے میں مبینہ تحقیقاتی خبریں بھی شائع کی ہیں۔اسی ویب سائٹ نے 2020 میں سی پیک اتھارٹی کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کی مبینہ آف شور جائیدادوں اور کاروبار کے حوالے سے کئ دعووں پر مبنی ایک رپورٹ بھی جاری کی تھی۔ فیکٹ فوکس نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سزا دینے کے حکم کی آڈیو حاصل کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ منگل کے روز وزارت خزانہ کو موصول ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گوشوارے لیک کرنے والوں میں سے ایک شخص کا تعلق لاہور جبکہ دوسرے کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔

امکان ہے کہ ملوث افراد ٹیکس گوشوارے دیکھنے کے مجاز ہیں۔ تاہم قانون کسی بھی فرد کے ٹیکس گوشوارے پبلک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر جنرل باجوہ کے مبینہ تحقیقاتی گوشوارے جاری کرنے والے تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کی کریڈیبلٹی کی بات کی جائے تو یہ موصوف اس سے قبل یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ عمران خان نے بھی اپنی آف شور کمپنی بنائی ،اپنے اثاثے اور بینک اکاؤنٹ چھپائے، احمد نورانی نے توشه خانہ کیس کو بھی بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ احمد نورانی کا طرزِ صحافت ہمیشہ ہی Pro PMLN رہاہے ۔ پی ٹی آئی کارکنان عمران خان سے متعلق احمد نورانی کی تحقیقاتی رپورٹس مسترد کرتے رہے ہیں ۔ اصل میں احمد نورانی نے FBR کے دولت اور جائیداد سے متعلق جو ٹیکس گوشوارے پبلک کیے ہیں ، ان سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کے سب اثاثے جائز اور ڈیکلیئرڈ ہیں ، اور یہ کوئی بےنامی یا خفیہ جائیداد نہیں ہے اور سب کچھ ریکارڈ پر ہے اور یہ تمام معلومات ازخود قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کی جانب سے جمع کروائی گئ ہیں۔ اس کے باوجود احمد نورانی نے محض افواہ سازی کیلئے یہ معلومات شائع کردیں۔

تسنیم حیدر شاہ کے بیانات اور احمد نورانی کے دعووں کی ٹائمنگ محض اتفاق نہیں ، ایسا لگتاہےکہ بااثر شخصیات میں ایک جنگ چھڑ گئ اور مدمقابل حریفوں​ نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے نتائج کس کے حق میں نکلتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں