آگہی/عمرفاروق

اورکھیل ختم ہوگیا۔۔؟

/آگہی
نئے آرمی چیف کی تقرری سے ایک دن قبل عمران خان نے فرمایاکہ اہم تقرری کی سمری سے متعلق صدر سے رابطے میں ہوں اور وہ مجھ سے مشورہ کریں گے۔اورہم اس معاملے پرکھیلیں گے ۔دوسرے دن جب عارف علوی سمری لے کر زمان پارک کے ،،انقلاب ہائوس ،،پہنچے توان کی ٹانگوں کے ساتھ ،،دانت،، بھی بج رہے تھے (اگرچہ علوی صاحب کواپنے منصب اوراس کے تقاضوں کاخیال نہیں آیاکہ وہ کیوں کرایک نااہل شخص سے یہ مشورہ کرنے گئے ہیں مگروہ صدرسے زیادہ روایتی ،،دندان ساز،،ہی نکلے )۔

صدرمحترم کی طرف سے جب ،،کھلاڑی ،،کواصل صورتحال سے آگاہ کیاگیاتووہ دانت پیس کررہے گیاجوکھیل انہوں نے کھیلنے کامنصوبہ بنایاتھا وہ کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا ۔کرکٹ کاکھلاڑی ہونے کی وجہ سے وہ ہرکام کوکھیل سمجھ کرکرتے ہیں،چارسال حکومت میں ہوتے ہوئے عوام سے کھیلتے رہے اپوزیشن میں تھے توایمپائرسے مل کرکھیلتے رہے،ایمپائرکے بغیروہ سات ماہ میں نہیں چل سکے یہی وجہ ہے کہ وہ ایمپائرسے مل کرکھیلنازیادہ پسندکرتے ہیں ایمپائرنیوٹرل ہوجائے تووہ ایمپائرسے ہی لڑپڑتے ہیں اس کے خلاف محاذکھول دیتے ہیں ،جب ایمپائران کاساتھ نہ دے تو ایمپائربدلنے کی سازش کرتے ہیں اور اپنی مرضی کاایمپائرلانے کے لیے وہ تن من دھن لگادیتے ہیں۔

اسی لیے جب عارف علوی نے انہیں بتایاکہ ،،نیوٹرل ایمپائر،،نامزدہوگیاہے تواب کیسے کھیلیں گے ؟توخان صاحب کے اوسان خطاہوگئے ۔دیواروں سے ٹکرانے کی بجائے موصوف نے ہتھیارڈالنے میں ہی عافیت سمجھی(ہتھیارڈالناخاندانی روایت جوہوئی) ،ہتھیارڈالنے کی بجائے ان کے پاس اورکوئی راستہ تھا بھی نہیں ، انہیں احساس ہوگیاتھا کہ آج وہ مکمل ،،یتیم ،،ہی نہیں ہوئے بلکہ اس ،،فیض ،،سے بھی محروم ہوگئے ہیں جس کے بل بوتے پروہ گزشتہ پانچ سال(بلکہ دس بارہ سال ) سے دندنارہے تھے ۔اس سائے تلے عمران خان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیئے کہ تاریخ میں یادگارکے طورپرمحفوظ رہیں گے ،دھرنوں سے لے کردوسری جماعتوں کے الیکٹیبلزپرشب خون مارنے تک ،ووٹ چوری سے جعلی مینڈیٹ کی سینہ زوری تک ،ایک طویل داستان ہے یہ سب اس سائے کاہی تو،،فیضان ،،تھا مگرآج ان کی حالت یہ ہوچکی تھی کہ
بے فیض رفاقت میں ثمر کس کے لئے تھا
جب دھوپ تھی قسمت میں تو شجر کس کیلئے تھا
یوں شام کی دہشت سر دشت ارادہ
رکنا تھا، تو پھر سارا سفر کس کے لئے تھا
یہی وجہ ہے کہ خان صاحب نے اس،، فیض،، کاسایہ تاحیات اپنے سرپررکھنے کے لیے لاکھ جتن کیے بلکہ جان کی بازی تک لگادی مگر،،فیض ،،کاوہ سلسلہ برقرارنہیں رکھ سکے ۔یہ قدرت کاکھیل تھا یاان کی غلطیاں تھیں مگرجوہوناتھا وہ ہوچکاتھا ،زمان پارک میں عمران خان مایوسی اورناامیدی کے عالم میں گھرکی چھت کوگھوررہے تھے اورعارف علوی کی نظریںبلکہ دل ودماغ سمری پراٹکے ہوئے تھے ۔
کیا ہو گیا گلشن کو ساکت ہے فضا کیسی
سب شاخ و شجر چپ ہیں ہلتا نہیں پتا بھی
لو جس سے لگائی تھی وہ آس بھی مدھم ہے
دل جس سے چراغاں تھا بجھتا ہے وہ شعلہ بھی
خان صاحب کومعلوم تھا یہ چندلائنوں کی ایک سمری ان کی حقیقی آزادی مارچ کاموت کاپروانہ تھی یہ سمری خان صاحب کے لیے ایک واضح پیغام بھی تھا کہ بس بہت ہوگیا اب مزید آپ کے گناہوںونااہلیوں کابوجھ ہم نہیں اٹھاسکتے اب بیساکھیوںکے بغیر چلنے کاطریقہ سیکھو،کھیلناہے توطے کردہ اصولوں کے مطابق کھیلو۔تمھاری پارسائی کابھانڈہ بیچ چوراہے کے پھوٹ چکاہے۔ تمھاری نااہلی کی سزاقوم بھگت چکی ہے تمھارا جھوٹ پرمبنی بیانیہ اپنی موت آپ مرچکاہے لہذایہ ملک اوراس کے ادارے مزیدتمھارے دام فریب میں نہیں آسکتے ۔تھاری طاقت عوام دیکھ چکے کہ تم ا پنی صوبائی حکومت سے ایک ایف آئی آرتک درج نہیں کرواسکے ،
جھوٹ پرکب تک عوام کوگمراہ کرتے رہوگئے پچاس لاکھ گھراورایک کروڑنوکریوں سے شروع ہونے والاسفرآخرکب اختتام کوپہنچے گا امریکی سازش اوررجیم چینج کی من گھڑت کہانیاں کب تک لوگوں کوسنائوگئے ؟چورچورکاشورمچاکرکب تک اپنی چوریاں چھپائوگے ؟دوسرں کوعدالتوں اورمقدمات سامنانہ کرنے کاطعنہ دینے والاآخرکب تک عدالتوں سے بھاگوگئے؟کب تک عدلیہ کے فیصلوںسے روگردانی کرتے رہوگے ؟دوسروں کے گلوں پرپھندہ فٹ کرنے والاایک دن خود اس پھندے میں فٹ ہوجاتاہے ہماری سیاسی تاریخ ایسی مثالوںسے بھری پڑی ہے ۔

یوں خان صاحب کوسمجھ آجاناچاہیے کہ اب مزیدجھوٹ کاسفرجاری نہیں رکھاجاسکتااس لیے جب وہ بھرپورتیاری ،چارصوبائی حکومتوں کے سرکاری وسائل ،سات ماہ کی محنت ،سازشی بیانیوں کی بھرپورتشہیر،سوشل اورالیکٹرانک میڈیاکی بھرپورکوریج ،وزیرآبادحملے کی مظلومیت کی داستان ،زخمی ٹانگ اوراس ٹانگ سے اترنے والے پلسترکے ساتھ راولپنڈی میں داخل ہوئے تووہ سوائے ایک روایتی جلسی کے کسی کوحیران کرنے کاساماں نہیں کرسکے،اسلام آبادکی بجائے راولپنڈی میں دھرنے کااعلان کرکے انہوں نے جوتھرتھری مچانے کی کوشش کی تھی وہ سب کچھ چندسطروںپرمشتمل ایک سمری کی مارنکلا۔شایدخان صاحب یہ سمجھتے تھے کہ وہ پنڈی سے ایک طوفان اٹھائیں گے اوراسلام آبادکوبہاکرلے جائیں گے مگرپنڈی والوں نے بھی بہت ہی باعزت طریقے سے انہیں بے عزت کرکے واپس بھیج دیااس لیے پنڈی کے عوام کاشکریہ توبنتاہے ۔

امسال 27مارچ کوپریڈگرائونڈسے شروع ہونے والاجھوٹ کاسفر26نومبرکوجی ایچ کیوکے گیٹ نمبر4کے بالکل سامنے اختتام کوپہنچا۔مولانا فضل الرحمان نے بالکل درست نشاندہی کہی کہ ملک میں سازش کا کوئی نام ہے تو وہ عمران خان ہے جس نے دفاعی قوت کو بھی تقسیم کرنے کی سازش کی۔اورآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے بھی یوم شہداء کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیابجلیاں گرائی ہیں انہوں نے کہاکہ جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی، سینئر ملٹری لیڈر شپ کو مختلف القابات سے نوازا گیا، صبر کی حد ہوتی ہے، فوج نے درگزر سے کام لیا، اب اِس جھوٹے بیانیے سے راہِ فرار اختیار کی جا رہی ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ غیر ملکی سازش ہو اور فوج ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہے؟یہ ناممکن ہے،گناہِ کبیرہ ہے۔

حکومت ہمت کرے اورعمران خان کامحاسبہ کرے کہ اس نے کن طاقتوں کی ایماء پرملک کے خلاف یہ جھوٹا بیانیہ گھڑا ؟پہلے ساڑھے تین سال ملک کانقصان کیااوراس کے بعدجوکسررہ گئی تھی وہ ان سات ماہ میں پوری کرکے چھوڑی ،یہ کھوج بھی لگاناضروری ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کومتنازع بنانے کے پیچھے کون سی سازش کارفرماتھی ؟ یہ یہ پتاچلناچاہیے کہ داستان گوئی اور حقائق میں بڑا فرق ہے…..گفتگو کے بھی کچھ آداب ہیں اور زبان کے لیے بھی ایک…سرخ لکیر….طے ہے….لہجہ توازن کھودے تو” بیانیے” مبہم ہی نہیں ہوجاتے بلکہ وہ بیانیے سازش کاروپ بھی دھارلیتے ہیں۔آخراس سب کے پیچھے کس کاسرمایہ استعمال ہوا؟کون سازہن کارفرماتھا ؟

خان صاحب کے پاس جب سارے پتے ختم ہوگئے توانہوں نے صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کاڈھونگ رچایا؟ابھی تک توان کے ممبران کاقومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کاطے نہیں ہوسکا۔عمران خان کوبڑاسیاستدان کہنے والے بتائیں گے کہ اس نے ان سات ماہ میں کیاحاصل کیا حتی کہ وہ اپنی مرضی کاآرمی چیف نہیں لگاسکے۔الیکشن کمشنرکونہ ہٹاسکے۔حکومت کومتزلزل نہ کرسکے ۔اسحق ڈارکی واپسی کونہ روک سکے،نوازشریف واپس آنے کوتیاربیٹھے ہیں وہاں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکے نیب کے قوانین میں ترامیم کونہ روک سکے ۔حتی کہ 25مئی کادھرنالے کراسلام آبادمیں داخل ہونے والادوسری مرتبہ اسلام آبادمیں بھی داخل نہیں ہوسکا۔وزیرآبادحملے کی ایف آئی آردرج نہیں کرواسکا وہ صرف کھیلتارہااوریہ کھیل بالآخرختم ہوگیا۔۔؟

خان صاحب بھی جانتے ہیں کہ آگے کاسفرکٹھن ہے یتیمی میں اپنے بھی ساتھ چھوڑجاتے ہیں اس لیے انہیں بہت پھونک پھونک کرقدم رکھناہوں گے۔خان صاحب تازہ تازہ یتیم ہوئے ہیں اوروہ جن کے سہارے پرچل رہے تھے وہ بھی ساتھ چھوڑگئے ہیں اس لیے اب پتہ لگے گا کہ وہ سیاسی میدان میں کیسے مقابلہ کرتے ہیں ۔میرادوست عابی مکھنوی جودل سے شاعرہے مگردماغ سے یوتھیاہے اس نے شایداسی موقع کے لیے کہاتھا ۔
یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ عابی
سنا ہے باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چبھتے

اپنا تبصرہ بھیجیں