امریکی سائفر سے شہرت پانےوالے اسد مجید خان کی تعیناتی بارے اہم خبرآگئی، سیاسی حلقوں میں ہلچل

اسلام آباد (سید فیصل علی)امریکہ سے پاکستان سائفر بھیجنے کے معاملے سے خبروں میں آنے والے سفارتکار اسد مجید کو سیکرٹری خارجہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسٹیبلمشنٹ ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق گریڈ 22 کے افسر اسد مجید کو فوری طور پر سیکرٹری خارجہ تعینات کر دیا گیا ہے۔اسد مجید اس وقت بلجیئم میں پاکستانی سفیر کے طور پر تعینات تھے۔

دفتر خارجہ اسلام آباد کے مطابق ڈاکٹر اسد مجید خان کو سیکرٹری خارجہ تعینات کردیا گیا ,اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے اسد مجید خان کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا,

ڈاکٹر اسد مجید اس وقت بیلجیئم ،یورپی یونین اور لگسمبرگ کے لیے بطور پاکستانی سفیر ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں,ڈاکٹر اسد مجید کا تعلق فارن سروسز  آف پاکستان سے ہے اور وہ گریڈ 22 کے افسر ہیں،اس سے قبل ڈاکٹر اسد مجید خان امریکہ میں بھی پاکستانی سفیر تعینات رہ چکے ہیں

یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں جب اسد مجید امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے تو انہوں نے امریکی دفتر خارجہ کے اہلکار ڈونلڈ لو سے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے سائفر پاکستان بھیجا تھا۔اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس سائفر کو پاکستان میں حکومت تبدیل کرنے کی امریکی سازش قرار دینے کے بعد اس معاملے نے اگلے کئی ماہ تک پاکستانی سیاست میں مرکزی حثییت حاصل کر لی تھی۔اس دوران عمران خان کے دور میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اسد مجید کو بلایا گیا تھا جس میں انہوں نے اپنی رائے دی تھی۔

اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اسد مجید نے دوبارہ بریفنگ دی تھی۔پاک فوج کے ترجمان نے امریکی سازش کے الزام کو مسترد کر دیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ چونکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی۔ اس لیے اسلام آباد میں امریکی سفیر کو ڈی مارش کیا گیا تھا.اسد مجید ایک تجربہ کار سفارتکار ہیں جنہوں نے امریکہ جاپان اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک میں اپنی سفارتی خدمات پیش کی ہیں۔

سائفر کا معاملہ تھا کیا؟
مارچ 2021 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں انکشاف کیا تھا کہ کسی ملک نے ان کی حکومت گرانے کی سازش کی ہے اور ایک سائفر بھیجا ہے۔
انہوں نے اس موقعے پر اپنے ہاتھ میں موجود کاغذ کو وہی سائفر قرار دیا تھا۔

عمران خان نے اسلام آباد میں جلسے کے دوران ’سازشی سائفر‘ آنے کا انکشاف کیا تھا اس کے بعد سے بیانات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔عمران خان مصر رہے کہ یہ سازش ہے جبکہ اپوزیشن اس معاملے کو ڈرامہ قرار دیتی رہی۔
پھر ایک آن لائن خطاب میں عمران خان نے امریکہ کا نام لے دیا اور یوں اسد مجید کا نام سامنے آیا کیونکہ جن تاریخوں کا ذکر کیا جا رہا تھا ان میں وہ امریکہ میں بطور سفیر تعینات تھے۔

اس کے بعد یہ معاملہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں لے جایا گیا جس میں اسے سازش کے بجائے ’مداخلت‘ قرار دیا گیا تھا۔
اپریل میں عدم اعتماد کے بعد حکومت سے نکالے جانے کے بعد بھی عمران خان اسی نکتے پر اصرار کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو سازش کے تحت نکالا گیا اور موجودہ حکومت کو وہ ’امپورٹڈ حکومت‘ قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ ایک سے زائد بار کسی سازش کی تردید کر چکا ہے جبکہ اسی سائفر کے حوالے سے عمران خان کی دو آڈیوز بھی لیک ہوئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں