آگہی/عمرفاروق

آزادکشمیربلدیاتی الیکشن کس کی جیت ۔۔؟

آزادکشمیرمیں بلدیاتی الیکشن کادوسرامرحلہ بھی نہایت خوشگوارطریقے سے مکمل ہواپہلے دونوں مرحلوں میں آزادکشمیرکے عوام نے پرامن طریقے سے اپنے ووٹ کااستعمال کرکے باشعورشہری ہونے کاثبوت دیاہے،بلدیاتی ایکشن کاپہلے مرحلے میں تمام تر مسائل اور چیلنجز کے باوجود مقامی پولیس اور انتظامیہ نے پرامن الیکشن کروائے ،عمران خان کے لانگ مارچ کے اختتام کے بعد دوسرے اورتیسرے مرحلے کے لیے وفاقی حکومت نے سیکورٹی بھی فراہم کردی ہے ، پہلے دونوں مرحلوں میں کوئی بڑاناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیا جویہ ثابت کرتاہے کہ کشمیرکے عوام ووٹ کی پرچی کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں اوروہ اس سوچ کومستردکرتے ہیں جس کے ذریعے کشمیری عوام کوتشددپرابھارنے یاریاست سے متنفرکرنے کی سازش کی جارہی تھی ۔

اکتیس سال بعد ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں آخری وقت تک رکاوٹیں کھڑی کی گئیں سوشل میڈیاپرپروپیگنڈہ کرکے کشمیری عوام کواس الیکشن سے دورکھنے کی کوششیں کی گئیں،قوم پرستوں کی طرف سے باربارالیکشن کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی مگر آزادکشمیر کے عوام نے ان باتوں پرتوجہ نہیں دی اورنہایت خوش اسلوبی سے پہلے دومرحلوں میں اپناحق رائے دہی استعمال کیا اپنے اپنے علاقوں کے نمائندے منتخب کیے ۔

بلدیاتی الیکشن کے ملتوی کروانے کے حوالے سے آخری وقت تک سازشیں چلتی رہیں ،شوشے چھوڑے جاتے رہے بیرون ملک بیٹھے ،،مفروروں ،،نے پروپیگنڈہ کیا بھارتی لابیاں بھی متحرک رہیں ،درپردہ قومی سلامتی کے اداروں کو بہت بھڑکایا گیا کہ بلدیاتی الیکشن سے قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ قوم پرست سیاسی منظرنامہ پر چھا جائیں گے۔ پاکستان کے خلاف سیاسی فضا بن جائے گی۔لہذا وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے الیکشن ملتوی کرائیں لیکن وہ اس فریب میں نہ آئے۔ اقتدار کو نچلی سطح پر منتقلی کے عمل کی انہوں نے حوصلہ افزائی کی۔اورحکومت کوالیکشن کے انعقادکے لیے بھرپورتعاون بھی کیا ۔

ان بلدیاتی الیکشن میں سخت اصول وضابطے طے کیے گئے تھے جس کے تحت کاغذات نامزدگی میں ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق پر یقین رکھنے کا حلف نامہ جمع کروانے کی شرط کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ وابستگی، پاکستان اور آزادکشمیرکی سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ وفاداری کا بھی حلف نامہ جمع کروانے کی شرط رکھی گئی تھی۔اس شق کی وجہ سے بہت سے لوگوں کوتکلیف ہوئی مگراس شق کے علاوہ کوئی چارہ کاربھی نہیں تھا ۔یہی وجہ ہے کہ خود مختار کشمیریاالحاق پاکستان کے علاوہ بات کرنے والوں نے ان انتخابات کابائیکاٹ کیاہے بلکہ عوام سے بھی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے مگر آزادکشمیرکے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیاہے اورقوم پرستوں کے مئوقف کومستردکردیا، الحاق پاکستان کی شرط پرہونے والے الیکشن میں عوام کی بھرپورشرکت اس بات کی غمازی ہے کہ عوام قوم پرستوں پراعتمادنہیں کرتے ہیں اورنہ ہی ان کے موقف کوتسلیم کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواران کا مسلمان ہونا اور ختم نبوت پر یقین رکھنے کا حلف جمع کروانا بھی ضروری قراردیاگیاتھا جوکہ ایک خوش آئند بات تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریہ پاکستان کی تخلیق کی بنیادی وجہ قرار دیکر اس پر یقین اور وابستگی کا بھی حلف لیا جانا کاغذات نامزدگی میں شامل کیا گیا تھا اگرچہ ان شرائط کی وجہ سے لبرل اورسیکولرطبقے کے پیٹ میں مروڑتواٹھے مگرہماری ریاست اب ایسے کسی فتنے کی متحل نہیں ہوسکتی کیوں کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرہڑپ کرنے کے بعد اس کی نظریں آزادکشمیراورگلگت بلتستان پرجمی ہوئی ہیں ،اوریہاں سیکولرطبقہ ان کے لیے پہلے سے ہی راستہ ہموارکیے بیٹھاہواہے ،ایسے نازک حالات میں ہماری سٹیبلشمنٹ ،سیاسی جماعتوں اورحریت رہنمائوں کوپھونک پھونک کرقدم اٹھاناہوں گے تاکہ سوشل میڈیاکے اس دورمیں کسی فتنے کوسراٹھانے کاموقع نہ مل سکے ۔

یہ الیکشن جہاں مختلف جماعتوں ،امیدواروں کی جیت ہے وہاں پاکستان کی بھی جیت ہے کہ کشمیری عوام نے ووٹ کی پرچی کے ذریعے پاکستان کے حق میں ووٹ دیاہے ،آزادکشمیرکے عوام کویادہے کہ دوتین سال قبل آزادکشمیرکے عوام کوبھڑکایاگیا اورعوامی ایشوزکی آڑمیں غیرملکی ایجنڈہ کے تکمیل کی کوشش کی گئی ،شہروں اورراستوں کوبندکرکے پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے ،پاکستان کے خلاف فضاء بنائی گئی اوریہ کہاگیاکہ ان مظاہروں میں کشمیر سے ہزاروں افراد کی شرکت ایک ریفرنڈم ہے کہ ہم انڈیا اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ ہیں بلکہ ایک آزاد و خود مختار، خوشحال اور استحصال سے پاک ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں۔آزادکشمیرکے عوام نے ان بلدیاتی الیکشن میں ایسے تمام نعروں کومستردکردیا۔

بلدیاتی الیکشن کروانے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجہ سعیداکرم خان کاجرات مندانہ فیصلہ ،الیکشن کمیشن کی طرف سے حدبندیوں پرسیاسی جماعتوں کے اعتراضات دورکرنے کے حوالے سے مثبت کرداراوروزیراعظم آزادکشمیرسردارتنویرالیاس کابلدیاتی الیکشن پراصرار اورعزم مصمم نے یہ اہم ترین مرحلہ مکمل کروایا یوں تاریخ میںسردارتنویرالیاس کی حکومت کایہ بہت بڑاکارنامہ یادرکھاجائے گا کہ انہوں نے اکتیس سال بعداقتدارنچلی سطح پرمنتقل کیا ورنہ تین دھائیوں بعد ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے راستے میں بہت روڑے اٹکائے گئے۔ایک منصوبے کے تحت سیاسی قیادت کوسامنے نہیں آنے دیاگیا۔ مختلف شوشے چھوڑے گئے آزادکشمیرکی اپوزیشن جماعتیں آخری وقت تک تذبذب کاشکاررہیں اگراپوزیشن جماعتیں اپنے ووٹروں کوکنفیوزنہ کرتیں تواس سے بھی بہترنتائج دے سکتی تھیں ۔

ماضی میں حکومت کرنے والے تمام وزارائے اعظم نے اس حوالے سے سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیاجس کانقصان ریاست کے عوام کواٹھاناپڑا،ادارے تباہ ہوگئے عوامی مفادکے متعددکام نہیں ہوسکے نئی سیاسی قیادت سامنے نہیں آسکی کئی سالوں سے ایک حلقے میں چندمخصوص چہرے ہیں جوپانچ سال بعدحلقے میں نظرآتے ہیں ،شہریوں کوگلی محلوں کے کاموں کے لیے بھی ایم ایل اے اوروزیرکی طرف دیکھناپڑتاتھا ۔

ان انتخابات کے بعد نئی سیاسی قیادت اورنئے چہرے سامنے آرہے ہیں ،ہرعلاقے کے عوام نے تعلیم یافتہ ،نوجوان اورانسانی ہمدردی رکھنے والے تجربہ کارافرادکولوگوں نے کامیاب کروایاہے یہی نوجوان کل قوم کی قیادت کریں گے جس سے لیڈرشپ کابحران ختم ہوگا ورنہ کئی حلقے ایسے تھے کہ مختلف جماعتیں ٹکٹ کے لیے امیدوارتلاش کرتی رہتی تھیں اب یہ بحران بھی ختم ہوگا بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں گے عوامی مسائل جلدحل ہوں گے اورلوگوں کوحکومتوں سے جوشکایات تھیں وہ کم سے کم ترہوتی جائیں گی۔
بلدیاتی الیکشن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کوکام کرنے کاتجربہ حاصل ہوگا اوروہ مستقبل کی بہترمنصوبہ بندی کرسکیں گے ۔اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کوبغاوت اورمتنفرکرنے کی سازشیں ختم ہوں گے نئی قیادت نئی سوچ کے ساتھ ریاست کی ترقی کے لیے کام کرے گی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگی ،روزگارکے راستے تلاش کیے جائیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں