پیاس/سید مظفرحسین بخاری

قلندر پاک بابا بخاری رحمۃ اللہ علیہ سسکتی انسانیت کیلئے مسیحا(قسط4)

وارث قلندر پاک سید بابا جان سید شاکر عزیر فرماتے ہیں کہ قرب حق کو بہت لوگوں نے پڑھا اور راقم الحروف سے ملاقات بھی کی۔اس تحریر کی توفیق قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی عطا ء اور نظر کرم سے ہوئی۔اس لئے یہ پڑھنے والے پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔فقیر کی صحبت بھی ایک رحمت ہے اور اسی رحمت سے قلب میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور روح کو ایسی تڑپ دیتی ہے جو نفس کی ہیجان خیزی کو لگام ڈالتی ہے۔قرب حق کو لکھنے کا مقصود قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دینا تھا۔یہ تو آگے نصیب کی بات ہے کہ کس کے دل میں درد کی دولت روشن ہو جائے۔نفس کے جال میں الجھنے کیلئے ،ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ چاہیئے۔ہم سچ کو الفاظ کے آئینے میں پڑھتے تو ہیں لیکن متابعت کا فقدان ہمیں دوسروں سے افضل ہونے کے خیال میں رواں رکھتا ہے۔ اور یوں سچ کی لذت سے محرومی ہمیں بے سکون کر دیتی ہے۔

فقیروں کا معاملہ بہت ہی حسین ہے اور عطائے ربانی کا حسن ہے۔جب ہم اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر گردانتے ہیں تو کسی کی عظمت کی پہچان کیسے ہو گی۔خود ستائیشی کا جہنم نفس امارہ کا تخلیق کردہ ہے۔اور یہ ایک تاریکی ہے اور جب قلب کے اوپر غلبہ نفس ہو تو صاحب روشن کیسے نظر آئے۔سماعت سورہ الرحمن ہم پر نفس کے عیوب ظاہر کرتی ہے اور اپنی نفی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ لہذا یکسوئی سے سنیں اور دیوانگی کی حد تک پھیلائیں۔اللہ پاک اپنے محبوب حضور پر نور ۖ کے صدقے توفیق عطا فرمائے آمین

اللہ پاک کا احسانِ عظیم ہے جو ہمیں اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔اور مادی جہاں کی محبت و لذت سے بچنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔نفسی خواہشات اور ابلیسی وسوسوں کے باوجود ہماری ناکامی کی صورت میں ہماری دعا کو سنتا ہے ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرماتا ہے۔اللہ عزوجل کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے اور اسی صفت کا حسن ہمارے لئے نجات کا سبب بنتا ہے۔قلندر بابا بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا الرحمن ، بن مانگے برسات کا نام ہیحضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی بندوں کے دلوں سے اتنا ہی قریب ہوتا ہے جتنا وہ بندوں کے دلوں کو اپنے سے قریب پاتا ہے اور تم یہ دیکھو کہ وہ تمہارے دل سے کتنا قریب ہے۔اللہ کے قریب ہونے کا احساس دل سے جڑا ہے۔اور اگر دل مادی خواہشات سے لبریز ہو گیا تو گویا اللہ کا حسین خیال دل میں ٹھہر نہیں سکتا۔کیونکہ دل ایک پیالے کی طرح ہے اگر اس میں دنیا کی محبت بھر گئی تو پھر کوئی دوسری محبت سما نہیں سکتی۔

جیسے پیالے میں پانی بھرا ہو تو اس میں سے ہوا کا گزر ممکن نہیں۔دلوں میں بسنے والی فانی دنیا کی محبت ہمیں اللہ سے دور کر دیتی ہے۔ اور ہمارے اوپر یہ خیال غالب آ جاتا ہے کہ اللہ ہماری دعا نہیں سنتا۔وہ تو ہر ایک کی دعا کو سنتا ہے اور عطا فرماتا ہے۔صرف قلبی تاریکی کے سبب نفس ہمارے اندر مایوسی کے خیال کو مضبوط کرتا ہے۔اللہ تعالی تو گنہگاروں کا ہی رب ہے۔صرف اس کو پکارتے رہنا ہی نجات کی نوید ہے۔قرآن پاک ہی تاریک قلوب میں روشنی پیدا کرتا ہے ، جونہی کرم کی عطا قلب کو روشن کرتی ہے اللہ کی محبت کا نور نفس اور ابلیس کے مکرو فریب سے نجات دیتا ہے اور ہم خود کو اللہ کے قریب محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔کتاب و حکمت کی اطاعت میں ہی ہماری نجات ہے۔ قلندر بابا بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا فیض سماعت سورہ الرحمن ظاہری اور باطنی امراض کے لئے نوید رحمت ہے ۔جہاں اس سماعت سے ہماری ظاہری بیماریاں ٹھیک ہوتی ہیں وہیں قلبی تاریکی بھی دور ہو جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں