آواز/شہزادعلی اکبر

اپنے بابا کی بے نظیر(بی بی کا بیٹے کے نام خط)

بلاول بیٹا آج میری برسی ہے اور آپ ملک کے وزیر خارجہ ہو۔پتہ نہیں کیوں مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہورہی.عجیب سی ایک پریشانی یا اضطراب ہے۔بیٹا میں جیسی بھی تھی یہاں تمھاری دنیا سے چلی گئی۔تم بہت چھوٹے تھے۔اس وقت تمھیں سیاست کے بارے کیا بتاتی لیکن بیٹا میں خوش ہوں کہ تم اس وقت ایک مخلوط حکومت کا حصہ ہواور اپنے نانا کی طرح تم وزیر خارجہ بنے ہولیکن بار بار میری گفتگو میں لیکن پتہ نہیں کیوں آرہا ہے۔تم جانتے ہو کہ میں لیکن اگر مگر کا استعمال کم کرتی ہوں لیکن پتہ نہیں کیوں آج بار بارلیکن کا استعمال کرنا پڑرہا ہے۔بیٹا تمھارے مستقبل کے لئے بہت فکر مند ہوں۔پاکستان میں سیاست ایک گندے نالے میں سوئمنگ کرنے کے مترادف ہے۔بہت گند گھولا گیا ہے سیاست میں .

بیٹا مجھے آج تک نہیں پتہ چل سکا کہ میں خوش قسمت ترین عورت ہوں کہ بدقسمت ترین.خوش قسمت اس وجہ سے کہ میرا باپ ملک کا وزیراعظم رہا۔میں خود دو بار وزیراعظم رہی.میرا شوہر صدر پاکستان رہااور اب میرا بیٹا کم عمر ترین وزیر خارجہ ہےلیکن دوسری طرف میرے دو جوان بھائی طبی موت نہیں مرے۔میرے باپ کو پھانسی کے پھندے پہ لٹکایا گیا۔میری ماں یہ تمام صدمے برداشت نہ کرسکی اور جیتے جی مرگئی۔پھر عرصہ بعد اس کی دھڑکن بند ہوئی اور سانسیں رک گئیں.یہ وہ باتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے میں کنفیوژ ہوں کہ کیا میں ایک خوش قسمت خاتون تھی کہ بدقسمت؟بیٹا میں اپنے ماں باپ اور دونوں بھائیوں کے ساتھ یہاں موجود ہوں۔باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن اماں ابھی بھی خاموش اور چپ چپ رہتی ہیں.

بیٹا میں تمھیں پریشان نہیں کرنا چاہتی۔تم حکومت میں ہو۔انجوائے کرولیکن بیٹا جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ لکھا جائے گا کہ تم وزیراعظم شہباز شریف کے وزیر خارجہ تھے. بیٹا بس یہی وہ بات ہے جس کے بعد میری گفتگو میں اگر ،مگر اورلیکن آجاتا ہے۔بیٹا میں تمھیں کیا بتاوں میرے ساتھ کیا ہوا۔بلکہ کیا کیا ہوا؟اور یہ سب کس نے کیا؟؟؟؟؟وہ کون تھا جو ایک مہرہ بن کے یہ سب کرتا رہا۔بیٹا تمھارا کوئی بھائی نہیں البتہ دو بہنیں ہیں۔ان دونوں سے پوچھنا کہ تم انہیں کتنے پیارے ہو؟بے شک یہ باتیں سننے کے بعد آصفہ سے پوچھنا کہ اگر وہ ایک زندگی بچا سکتی ہو اپنی یا تمھاری تو اس کا جواب مجھے بتانا۔بیٹا بہنوں کا بھائیوں سے پیار چھپا ہوا نہیں ہے اورمیرے چھ چھ فٹ کے خوبصورت بھائیوں کو جوانی میں ہی مار دیا گیا کیونکہ وہ بھٹو کے بیٹے تھے۔

بس بیٹا چھوڑو پرانی باتیں میں تمھیں پریشان نہیں کرنا چاہتی۔بس تم حکومت کرو۔اپنا سٹیٹس انجوائے کرو۔اس وزارت سے تمھارے مستقبل کی سیاست پہ کیا اثر پڑے گا یہ تم جانو اور تمھارا باپ جانے۔بیٹا آصف کا خیال رکھنا۔جو بھی ہے بہادر ہے دلیر ہے اور وفا کا پیکر ہے۔اس نے مجھ سے وفا کی ہے۔نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے لیکن اس نے قدم بہ قدم میرا ساتھ دیا ہے۔سب سمجھتا ہے۔ان شریفوں کو تو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔۔بس بیٹا باپ کی مرضی سے شادی کرلو اب .پھر آصفہ کے بھی ہاتھ پیلے ہو جائیں بس یہ میرےدل کی خواہش ہے۔

بختاورلاڈو کی لائف سے خوش ہوں۔ماشاءاللہ ماشاءاللہ وہ اپنے گھر خوش ہے۔بس یہی میری خوشی ہے۔بیٹا آج کے دور میں پریشان ہونے کے لئے نہیں خوش رہنے کے لئے اسباب پیدا کرنے پڑتے ہیں۔اللہ تمھیں خوش رکھے، آباد رکھے۔تم میرا پیار ہو۔تم میری دنیا ہو۔۔تم میری امید ہو۔۔تم میرا سب کچھ ہو۔بس بیٹا میرے بابا کی پارٹی کا عَلم تمھارے ہاتھ میں ہےاور تم ہی اب پیپلزپارٹی ہو۔جو چاہے کرو۔جیسا چاہے کرولیکن ایک بات یاد رکھنا تمھارا دشمن تمھیں برداشت نہیں کرسکتا۔تمھارے دشمن کے کئی چہرے ہیں۔ان سب کو پہچان کے رہنا۔پارٹی میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔کچھ محبت کی وجہ سےہوتے ہیں کوئی مفاد کے لئے اور کوئی نظریے اور سوچ کی وجہ سے۔یقین جانومجھے آج بھی کوئی نظریہ کوئی سوچ کوئی منشور کہیں نظر آتا ہے تو پیپلز پارٹی میں آتا ہے.

بس بیٹا اپنی قمیض کو داغ لگے بغیرشرہفوں کے دسترخوان پہ بیٹھنا۔ان کا کوئی پتہ نہیں.ان کا قبلہ شروع سے ایک ہی ہے۔نہ یہ نظریاتی تھے۔ نا ہیں اور نہ بن سکتے ہیں .نا کبھی انہوں نے پہلے ووٹ کو عزت دی نا اب دیں گے۔ نا آئندہ دینا چاہتے ہیں،ابھی بس ان کی ایک دو بار ٹرین مس ہوگئی تھی۔یہ تو پلیٹ فارم پہ ٹرین کے ساتھ ساتھ بھاگتے رہے لیکن بس ٹی ٹی نے پہلے ہی سیٹی بجا دی اور تمھیں پتہ ہے کہ یہ بیچارے کوئی سپورٹس مین تو ہیں نہیں کہ دوڑ سکتے بس جو سپورٹس مین تھا وہ بھاگ کے ٹرین پہ چڑھ گیااور یہ وہیں اسٹیشن پہ کھڑے رہ گئے.اب یہ پٹڑی پہ کان لگا لگا کہ نئی ٹرین کا انتظار کررہے ہیں.اس لئے ان کو چھوڑو بس گیو اینڈ ٹیک کے تحت ان کے ساتھ جتنا چل سکتے ہو چلو.

لیکن فوکس سندھ اوراپنی پارٹی پہ رکھو.بھٹو سے محبت کرنے والے اس ملک میں موجود ہیں۔وہ مایوس نہیں ہوسکتے البتہ خاموش ہیں اور گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔ان کو متحرک کرنا ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ تم اور آصفہ ان کو ایکٹو کرسکتے ہولیکن جو بھی کرنا اپنے بابا سے مشورہ کرکے کرنا.بیٹا آپ تو ابھی بھی بچے ہو لیکن آپ کے انکل کائرہ اور کامریڈ چوہدری منظور کی باتیں سن کے کبھی کبھی حیران ہوتی ہوں۔پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ اپنے اپنے حلقوں میں مسلسل شکست کے بعد انہوں نے ذہنی طور پہ ہار مان لی ہے۔اس لئے وہ بہت زوردے رہے ہیں کہ ن لیگ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرکے الیکشن لڑا جائے۔بیٹا الیکشن کیسے لڑنا ہے یہ تو آپ اور آپ کے بابا فیصلہ کرو گے لیکن ن کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرکے بھی آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔آپ کا ووٹر شاید ن کو ووٹ کاسٹ کردے لیکن دوسری طرف سے ایسا ہو نہیں سکتا۔میرا تجربہ تو یہی کہتا ہےآگے آپ کی مرضی.

ویسےمجھے راجہ پرویز اشرف کے سیٹ جیتنے پہ بے حد خوشی ہوئی تھی۔وہ جینوئن آدمی ہے. سچ بولتا ہے چاہے اگلے کو برا لگے۔ابھی قادر مندوخیل بھی اچھا کام کررہا ہےاور موسیٰ گیلانی کا ضمنی الیکشن جیتنا بھی خوش آئند ہے۔بیٹا تم اپنا خیال رکھنا.گڑھی خدا بخش کی قبروں کا واسطہ اپنا خیال رکھنا.باپ کی صحت کا خیال رکھنا۔اس کا ہونا تمھارے لئے بہت فائدہ مند ہے۔
خوش رہوآباد رہو۔ہاں میں ایک بات بھول گئی سوشل میڈیا پہ جس طرح دوسری جماعتیں اخلاقیات کا جنازہ نکال رہی ہیں ادھر اب اکا دکا پیپلز پارٹی کے لوگ بھی یہ کھیل کھیل رہے ہیں ان کو سختی سے منع کرو بیٹا۔یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے.ہم نے گالیاں کھا کہ بھی گالیاں دی نہیں ہیں۔امید ہے آپ اس سلسلہ میں واضح ہدایات دو گے۔
اوکے
اپنا خیال رکھنا
آصفہ کو پیار دینا
تمھاری ماں اور اپنے باپ کی بے نظیر

اپنا تبصرہ بھیجیں