نقطہ نطر/عنایہ نوید خان

عظیم عورت

یہ واقعہ ایک عورت کے یقین وایمان کا ہے۔فرعون تمام عوام سے خود کو سجدہ کراتا تھا اور خدا بنا بیٹھا تھا۔اس کے محل میں ایک خادمہ تھی جو فرعون کی خدمت کرتی تھی۔اس کے چار چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ایک دن خادمہ اپنی مالک(فرعون کی بیٹی)کے سر میں کنگھی کر رہی تھی تو اس دوران کنگھی نیچے گر گئی۔جب خادمہ نے کنگھی اٹھائی تو بسم اللہ پڑھی۔اس پر فرعون کی بیٹی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ اس نے کیا پڑھا ہے۔اس پر خادمہ نے بتایا کہ وہ حضرت موسیٰ کا دین قبول کر چکی ہے اور صرف اللہ کی عبادت کرتی ہے۔اسی کو خدا مانتی ہے۔

فرعون کی بیٹی نے جب یہ بات اپنے والد کو بتائی تو فرعون نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ ایک تانبے کی کڑائی لیکر اس میں تیل ابالا جائے۔جب تیل ابل گیا تو خادمہ اور اس کے بچوں کولایاگیا۔فرعوں نے اسے کہا کہ معافی مانگ کر اس کی اطاعت کروتو تمھیں اور تمھاری اولاد کو بخش دیا جائے گالیکن خادمہ نے فرعوں کو صاف انکار کر دیاکہ اللہ وہ مالک ہے جس نے سب کو پیدا کیا۔فرعوں کوغصہ آیا تو اس نے عورت کی آنکھوں کے سامنے اس کے تین بچوں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا۔جب چوتھے بچے کی باری آئی جو ابھی تک سات دن تک ہوگا تو اچانک وہ بچہ بول اٹھا کہ ماں تو حق پر ہے۔ فرعون یہ دیکھ کر یہ حیران ہو گیا کہ کیسے سات سال کا ایک بچہ بول سکتا ہے۔اس کے بعد فرعون نے اس بچے کو بھی کڑائی میں ڈال دیا۔

جس وقت اس عورت کو تیل کی کڑائی میں ڈالا جارہا تھا تو فرعون نے اس عورت سے اس کی آخری خواہش پوچھی۔عورت نے کہا کہ ہم سب کی ہڈیاں ایک ہی قبر میں ڈالی جائیں۔فرعون نے عورت سمیت سارے بچوں کی ہڈیاں ایک ہی قبر کھدوا کر اس میں ڈال دیں۔جب جبرائیل حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو معراج پر لے گئے تو واپسی پر ایک جگہ سے جب براق گزر رہا تھا تو بہت اچھی خوشبو آ رہی تھی۔تب حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے جبرائیل سے خوشبو سے متعلق پوچھا تو جبرائیل نے بتایا کہ یہ فرعون کی خادمہ اور اسکے بچوں کی قبر ہے جس سے خوشبو آرہی ہے۔یوں ایک عورت فرعون کے سامنے ڈٹ گئی اور دین اسلام پر ڈٹی رہی اور اللہ کے ہاں سرخرو ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں