نقطہ نطر/عبدالرؤف چوہدری

یکساں نظام تعلیم کا نفاذ ناگزیرہے

ایم ایس او اپنا 22 واں یوم تاسیس یکساں نظام تعلیم کے عنوان سے منارہی ہے.آج سے 21 سال قبل چند دینی وعصری طلبہ نے ایم ایس او کی بنیاد رکھی.طبقاتی نظام ونصاب تعلیم کا خاتمہ اور یکساں نظام ونصاب تعلیم کا نفاذ ایم ایس او کا دیرینہ مطالبہ ہے.دو بڑے طبقات ملاومسٹر کے درمیان ڈالی گئی خلیج کا خاتمہ ایم ایس او کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے.پیارے آقا مدنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے جو مقاصد قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان مقاصد میں سے ایک مقصد ”تعلیم“ بھی تھا۔ چنانچہ سورہ جمعہ (پارہ 28) میں ارشاد ربانی ہے ”اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں میں سے ایک اُمّی کو رسول بنا کر بھیجا، جو ان پر قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے، اور ان کا تزکیہ کرتاہے اور ان کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ ”مجھے استاد بنا کر بھیجا گیا ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں تعلیم کے ذریعے سے شعور اجاگر کیا، لوگوں کو جہالت کی اندھیر نگری سے نکال کر قرآن کریم کی تعلیم کے نور سے منور کیا، خون کے پیاسے لوگوں کو انسانیت کی معراج سمجھائی اور ان کو درندگی کی زندگی سے نکال کر عبدیت کا جینا سکھایا، تعلیم کے ذریعے سے ان کو والدین،بہن بھائی، عزیز واقارب اور دوست احباب کے حقوق سے روشناس کرایا، آپس میں ہم کلام ہونے کا طریقہ سکھایا، اپنے سے بڑے سے اختلاف اور اپنے سے چھوٹے کو سمجھانے کا طریقہ بتایا، تعلیم وتربیت کے ذریعے سے ہی آدابِ زندگی سکھائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت سے ان لوگوں میں سے، جن پر کوئی حکومت کرنے کو تیار نہ تھا، ایسے افراد تیار ہوئے جو زمانے کے امام بنے، جنہوں نے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالی تو اس کا حق ادا کر دیا، جن کے عمل وکردار کو دیکھ کر لوگ ششدر اور انگشت بدنداں رہ گئے، جو حق وصداقت اور علم وعمل کے منارے بنے، جن سے لوگوں کو شعور وآگہی ملی، جنہوں نے پوری دنیا کو ایک مکمل ضابطہ حیات اور نظام مملکت دیا۔ جی ہاں وہ تعلیم ہی تھی کہ جس کے زریعے وقت کے حکمران سیدنا عمرؓ بن خطاب نے نہ صرف انسانوں بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق کو پہچانا اور عدل وانصاف کا ایسا مثالی نظام قائم کیا کہ دنیا آج تک اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ وہ عمرؓ جو اپنے بارے فرماتے تھے کہ مجھے اونٹ چرانے نہیں آتے تھے اس لیے میرا باپ مجھے سزا دیتا، آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت اور تزکیے کا یہ اثر ہوا کہ وہی عمرؓ وقت کے حکمران بنے اور فرمایا اگر دریا کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمرؓ سے سوال کیا جائے گا۔

درسگاہ محمدی سے نکلنے والے فاضلین اور ڈگری ہولڈرز میں وہ تمام صفات بدرجہ اتم موجود ہوتی تھیں جو معاشرے کی ضرورت اور وقت کا تقاضا ہوتی تھیں اگر اس درسگاہ سے سیدنا ابوہریرہ ؓ جیسے حافظ الحدیث نکلتے ہیں تو اسی درسگاہ سے سیدنا عمرؓ جیسے مثالی حکمران بھی تیار ہوئے، اس درسگاہ سے اگر سیدنا عبداللہ بن مسعود جیسے فقیہ بنے تو اسی درسگاہ سے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح جیسے جرنیل، سپاہ سالار اور خزانے کو سنبھالنے والے امانت دار بھی نکلے، علومِ محمدی سے فیض یاب ہوکر اگر سیدنا عبداللہ بن عباس مفسر قرآن بنے تو انہیں علوم کو سیکھ کر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کئی علوم وفنون کے موجد کہلائے۔ الغرض یہی وہ درسگاہ تھی جس نے حضرت انسان کی دینی ودنیاوی دونوں ضرورتوں کو پورا کیا اور معاشرے کی رہنمائی کے لیے اور مملکت کے تمام شعبہ جات کو چلانے کے لیے افراد مہیا کیے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف علوم کے ماہرین بھی عطا کیے جو ایک نظام کے لیے بنیادی کردار ہوتے ہیں۔ یہ تمام افراد درسگاہ محمدی سے تیار ہوئے تھے جہاں امیر وغریب، قریب اور دور سے آنے والا اور اپنے قبیلے کا باشندہ یا دیار غیر سے آکر شامل صف ہونے والا، سب کے لیے یکساں نظام ونصاب تعلیم تھا۔ وصالِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہندوستان میں گوروں کی آمد سے پہلے تک تمام مسلم ریاستوں میں یکساں نظام ونصاب تعلیم نافذ تھا.

تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تیسری صدی ہجری میں مراکش میں معرض وجود میں آنے والی سب سے پہلی یونیورسٹی ”جامعہ القرویین“ میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں اسلامی علوم تفسیر، حدیث اور فقہ کے ساتھ ساتھ طب، ریاضی اور فلکیات بھی شامل تھے، جن کو آج ہم عصری علوم کہتے ہیں۔ اسی طرح تیونس کی ”جامعہ زیتونہ“ یونیورسٹی تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے آج بھی زندہ وجاوید ہے۔ مصر کی جامعہ الازہر آج بھی پوری آب وتاب کے ساتھ زیور تعلیم سے لوگوں کو آراستہ کیے ہوئے ہے۔ یہ وہ تمام یونیورسٹیاں تھیں جہاں یکساں نظام ونصاب تعلیم کا نفاذ تھا۔ ان جامعات سے بیک وقت ابن رشد جیسے فلسفی، ابن خلدون جیسے محقق اور البیرونی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے تو دوسری طرف قاضی عیاض اور ابن العربی جیسے محدث وامام بھی پیدا ہوئے۔

ہمارا لمیہ یہ ہے کہ مملکت خداد پاکستان میں آج تک سامراجی نظام کے اثرات موجود ہیں۔ یہاں برطانوی سامراج کو ختم ہوئے نصف صدی سے ذیادہ عرصہ گزر گیا لیکن اپنے نقوش ایسے چھوڑ گیا کے آج تک مٹنے کا نام نہیں لے رہے۔ انہی منحوس نقوش میں ایک طبقاتی نظام تعلیم ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں کئی قسم کے مختلف نظام ہائے تعلیم رائج ہیں، حکمران طبقہ اور بیورو کریسی کے بچوں کے لیے الگ سسٹم جہاں وہ انکو اپنی جانشینی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ اشرافیہ کے لیے الگ سسٹم ہے، امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام موجود ہیں۔ مزید یہ کہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے نام پر بھی ایک علیحدہ علیحدہ نظام تعلیم موجود ہے۔ یہ تمام نظام قوم کو شعور وآگہی دینے کی بجائے تقسیم در تقسیم کرتے چلے جارہے ہیں۔

آج دینی وعصری طلبہ کا حسین امتزاج مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان بھی تعلیم وتربیت کے ذریعے سے نوجوانوں میں ایک انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے۔ وطن عزیز کے بچے بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتی ہے۔ معاشرے میں تعلیم کے زریعے شعور وآگہی کو عام کرنا چاہتی ہے، سٹوڈنٹس کو ان کی ذمہ داریوں سے روشناس کرانا چاہتی ہے اور اس کے لیے عملی طور پر جدوجہد کر رہی ہے۔ حالیہ سیلاب میں راجن پور میں اگر بچوں کو بنیادی تعلیم کی ضرورت تھی تو ایم ایس او نے خیمہ بستیوں کے ساتھ ساتھ مکتب ابوہریرہ ؓ بھی قائم کی، کوہستان میں ”مسلم ایجوکیشن سسٹم“ کے نام سے عارضی تعلیمی ادارے قائم کیے، اس سے بڑھ کر یہ کہ 50 ایسے بچے جو یتیمی کے سپرد ہوگئے تھے ان کے مکمل تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔

ایم ایس او پاکستان وطن عزیز میں رائج طبقاتی نظام تعلیم کی بجائے نظریہ پاکستان، جذبہ حب الوطنی، متوازن طرز حیات اور اسلامی اقدار ومشرقی روایات سے مزین ایک قومی طرزفکر کا حامل کردار ساز نصاب تعلیم ایم ایس او کا بنیادی مطالبہ ہے کیونکہ پاکستان میں طبقاتی نظام تعلیم جس بری طرح سے ہمارے معاشرے پر اثرات مرتب کر رہا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ ہمارے ملک میں آج بھی انگریز دور کا تشکیل شدہ طبقاتی اور سیکولر نظام تعلیم رائج ہے جو دور غلامی کی یادگار ہے۔ ایم ایس او سمجھتی ہے کہ آج ہمارے ملک میں بحرانوں کا بسیرہ ہے، ہمارے تعلیمی ادارے دین دار اور محب وطن قیادت پروان چھڑانے سے بری طرح ناکام ہوگئے اور اس میں بڑی وجہ ہمارے ملک میں قائم فرسودہ نظام تعلیم اور بے مقصد نصاب تعلیم ہے جس کو قومی آہنگی کے تناظر میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اسی لیے ایم ایس او چاہتی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا نظام ونصاب تعلیم رائج کیا جائے جو نظریہ پاکستان، جذبہ حب الوطنی، متوازن طرز حیات، اسلامی اقدار ومشرقی روایات سے مزین کردار ساز طرز فکر پر مشتمل ہو، جس سے استفاده کرکے آنے والی نسل پاکستان کو کٹھن حالات سے نکالے، طلبہ کی شخصیت کو جامع شخصیت بننے میں مدد دے، طلبہ مذہبی اسلامی، سماجی اور معاشرتی طور پر بہترین فرد بن کر میدان عمل میں اتریں، نہ کہ صرف ابن الوقت، مفاد پرست اور چند ٹکوں کے عوض اپنی شخصیت کو تباہ کر دینے والے۔

مدارس عربیہ کی کردار کشی وحاملین دینی اسناد کا استحصال ختم کرکے مدارس دینیہ کی تعلیمی، دینی، سماجی، ملی وقومی خدمات کا اعتراف کیا جائے کیونکہ مدارس دینیہ سائنسی ترقی اور جدید علوم وفنون کی تحقیقات کا بالکیۃً انکار کی بجائے حقائق کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر رکھ کر روایت اور اسلام سے رشتہ جوڑنے کا ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ مدارس اور علماء برصغیر کی خدمات عظیم الشان اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اساسی کردار کا درجہ رکھتی ہیں، دینی ومذہبی فرائض، واجبات کی ادائیگی، اہل اسلام کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری بحسن خوبی نبھا رہے ہیں، یہ مدارس ایمان واعمال کو الحاد وبے دینی سے بچانے میں مصروف ہیں، مسلمانوں کو عبادات اور عبادت گاہوں سے جوڑ رہے ہیں اور دعوت وتبلیغ کا اہم فریضہ نبھا رہے ہیں۔ دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کرام عملی سیاست، سماجی ومذہبی اور قومی خدمات اور تحاریک میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان دونوں طبقات (ملا ومسٹر) کے بیچ ڈالی گئی خلیج کا خاتمہ بھی ایم ایس او کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور اس میں ایم ایس او نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔آج عصری تعلیمی اداروں میں جس طرح کا نظام تعلیم متعارف کرایا جارہا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کو بےلگا کر دیا گیا کہ وہ جو چاہیں تعلیم کی آڑ اور انجوائے منٹ کے دھوکے میں نوجوان نسل کو جس مرضی ڈگر پر چلا دیں، یہ شتر بےمہار عمل ایک نظریاتی ریاست کے لیے کتنا بڑا زہر قاتل ہے اور مملکت کے اسلامی تشخص کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے اور اس سے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے کوئی بھی باشعور آدمی اس سے انحراف نہیں کرسکتا۔ آج اگر ایک طرف تعلیم پر یلغار ہے تو دوسری طرف بھاری بھر کم ٹی وی چینل کی مدد سے اور دوسری این جی اوز ہیں جو بےلگام ہوکر ہمارے تعلیمی مراکز کا رخ کر رہی ہیں اور سپورٹس گالا میں بےہنگم تفریح کے ذریعے قوم کی قابل عزت واحترام بیٹیوں کو مختلف ترغیبات اور رواجوں کے زریعے غیر محسوس طریقے سے بےلباس کر رہی ہیں اور انہیں آزادی کے نام پر ورغلا کر اسلامی اقدار ومشرقی روایات سے بغاوت پر اکسایا جارہا ہے۔

ملک وملت کے نظریاتی تشخص کا تحفظ، فرقہ واریت، ناانصافی، ظلم واستحصال سے پاک بطرز خلافت راشدہ اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام ایم ایس او کے کارکنوں کی دلی تڑپ، جذبہ، احساسات اور خواب ہے جس کی تعمیر ایم ایس او اپنی جدوجہد کے ذریعے تعلیمی اداروں سے مؤثر لیڈر شپ پیدا کرکے حاصل کرنا چاہتی ہے اور یہی ہر مسلم کی ذمہ داری بنتی ہے اور پاکستان میں سرمایہ دارانہ اور استحصالانہ نظام سے تنگ ہر شخص یہی تبدیلی چاہتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت انگریز عہد کا نظام عدل رائج ہے جس میں عدل پیچیدہ، طویل، مہنگا اور غیرشفاف ہے۔ چور لٹیرے اختیارات پر فائز ہیں، اقرباء پروری کی لعنت عام ہے، دولت عزت اور وقار کا پیمانہ ہے، یہ عمل اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے، تقوی کی بجائے دولت کو عزت وشوکت کا معیار بنایا گیا ہے جو نص قرآنی (ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم) کے خلاف ہے۔ اس سارے کھیل کو صرف ایک ہی صورت میں بدلا جاسکتا ہے کہ جب اس ملک کے نوجوان بیدار ہوں اور آگے بڑھنے کی امنگ اپنے اندر پیدا کر لیں۔

آئیے! غلبہ اسلام واستحکام پاکستان کی اس عظیم الشان جدوجہد میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کندھے سے کندھا ملا کر وطن عزیز کے لیے امید کی کرن بن جائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں