شہریاریاں/شہریار خان
شہریاریاں/شہریار خان

میرا مطالبہ ،عمران خان کو بادشاہ بنایا جائے

ابھی کہیں خبر پڑھ رہا تھا، کسی محترم شخصیت کا دعویٰ تھا کہ بہت جلد عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہوں گے۔۔ میں یہ سوچ رہا تھا صدر مملکت کا عہدہ تو ایسا ہوتا ہے جس میں بولنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔۔ یہاں کبھی کوئی دندان ساز صدر ہوتا ہے تو کبھی کوئی دہی بھلے، گول گپے بنانے والا۔۔اور عمران نے تو ہمیشہ باؤنسر مار کے دانت ہی توڑے ہیں، دانت جوڑے نہیں یا پھر کسی کے پیسے سے گول گپے اور دہی بھلے کھائے ہیں کبھی بھی بنائے نہیں۔۔ہمیشہ جب بھی کبھی عمران خان کسی ون ڈش پارٹی کا پروگرام بناتے تو ایک دوست بتاتے کہ وہ کباب بنائیں گے، کوئی کہتا وہ کڑاہی بنائے گا، کوئی کہتا وہ بریانی بنائے گا، آخر میں جب عمران سے پوچھا جاتا کہ آپ کیا بنائیں گے تو وہ جواب دیتے کہ میں باتیں بناؤں گا۔۔ اس لیے ایسے شخص کے لیے ایوان صدر مناسب نہیں۔

میری رائے پوچھی جائے تو عمران خان کو ان کی طبیعت کے مطابق خلیفہ وقتیعنی بادشاہ سلامت بنا دیا جائے۔۔ وہ صرف ارشاد کیا کریں اور سب جی حضور کہہ کر سر تسلیم خم کیا کریں۔۔کیا زبردست ماحول ہو گا، ؓبادشاہ عمران کا جو ش خطابت ہو گا، تمام درباری ہوں گے۔۔ کسی سپہ سالار کو، کسی وزیر کو، کسی طبیب کو۔۔ کبھی بھی خلیفہ وقت کی حکم عدولی کی ہمت نہ ہو گی۔۔ خلیفہ وقت کو یہ بھی ضرورت نہیں ہو گی کہ وہ ووٹ مانگنے ٹکے ٹکے کے لوگوں کے پاس جایا کریں۔۔ ایک بار جب اعلان ہو گیا کہ بادشاہ سلامت تخت نشین ہو چکے ہیں تو انہیں ہٹانے کے لیے کوئی تحریک عدم اعتماد لانے کی ہمت کیسے کر سکتا ہے وہ بھی کسی اور ملک کے ساتھ مل کر۔۔ کس امریکی سفیر کی ہمت ہو گی کہ وہ بادشاہ وقت کے مقابلے میں کھڑا ہو کر مخالفین کی حمایت میں بات کر سکے

سپہ سالار، دربار کے ساتھی اگر کبھی مخالفت میں بات بھی کریں تو ان کے سر قلم کرنے کا حکم جاری ہو سکتا ہے، اس لیے صدارت کا منصب تو مناسب نہیں۔۔ بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ہو۔۔ کسی کی کیا جرات وہ بادشاہ سلامت کو ملنے والے تحائف پہ سوال اٹھا سکے؟۔۔ ایسے صحافی تو دربار میں کیا ملک میں رہنے کے لائق نہیں چھوڑے جائیں گے۔۔ تاریخ مرتب کرنے کی ڈیوٹی ارشاد بھٹی کی ہو گی، وہ لکھیں گے کہ بادشاہ سلامت کو تحفہ ملا جو ان کے شایان شان نہیں تھا تو انہوں نے اس تحفہ کو اپنی ملکہ عالیہ کی کنیز فرح گوگی کو بخش دیا۔۔ سبحان اللہ۔کسی شاہزیب خانزادہ کی کیا ہمت کہ وہ خریدار کے حوالہ سے پروگرام کر کے کسی کو یہ بتائے کہ دبئی میں موجود ایک معروف بزنس مین نے خلیفہ وقت کی فرنٹ وومن سے تحائف خریدے اور ان تحائف کی قیمت جو وصول کی گئی وہ سرکاری خزانہ میں جمع نہیں کرائی گئی۔ بادشاہ سلامت کے تاریخ نویس ارشاد بھٹی جب یہ کہہ دیں گے وہ تحائف اس قابل ہی نہ تھے کہ بادشاہ سلامت اسے اپنے پاس رکھتے تو اخبارات اور چینلز کی کیسے اتنی ہمت ہو کہ وہ اندرونی کہانی تلاش کر کے مرشد اور مصاحب خاص زلفی بابو کی ٹیلی فونک گفتگو اپنے چینل پر چلا سکے اور جاسوسی کے شاہی ادارے کے کسی رکن کی اتنی ہمت کہ وہ محل کے اندر ریکارڈنگ کے آلات لگوائے؟۔ ایسے آلات اور تمام تر جاسوسوں کی ڈیوٹی تو ان قید خانوں میں ہو گی جہاں نواز شریف، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری قید ہوں گے۔

جاسوس ان سے ملنے کے لیے آنے والوں پر نظر رکھیں گے یا محل میں آنے والے تحائف کی تصاویر بنائیں گے؟۔ ان کی قیمتیں بتائیں گے؟۔۔ یہ کبھی بھی ممکن نہیں ہو گا کیونکہ بادشاہ وقت کے خلاف سوچنا بھی گناہ ہو گا۔۔ ملکہ عالیہ نے کون سے زیورات کس سے وصول کیے؟، وہ کس برانڈ کے تھے؟، کون لایا تھا؟، کتنی مالیت کے تھے؟۔کتنے قیراط کے ہیرے تھے؟۔ کس پراپرٹی ٹائیکون نے دئیے اور کیوں دئیے؟۔ یہ سب سوالات پوچھنے والے قابل تعزیر ٹھہرائے جائیں گے۔ بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کے تحفے، ان کی مرضی۔۔ وہ چاہے او ایل ایکس پہ فروخت بھی کر دیں۔۔ یا کسی دوسرے ملک کے تاجر کو فروخت کریں، کوئی حساب کتاب پوچھنے کی ہمت نہ کرے، ورنہ دربار کے درمیان ہی اس گستاخ کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

میں تو دربار کا منظر سوچ سوچ کر ہی لطف لے رہا ہوں۔۔ بادشاہ کے “بیربل” یعنی وزیر خاص ہوں گے شیخ رشید۔۔ سنا ہے بیربل بھی گنجا تھا اور بڑا سا پگڑ باندھ کے رکھتا تھا تاکہ گنج پن کا راز نہ کھل پائے۔۔ بادشاہ کے مصاحب خاص ہوں گے مراد سعید اور زلفی بخاری۔۔ یہ بادشاہ سلامت کے دربار کے اندر اور باہر، حرم کے اندر اور باہر تمام رازوں کے پہرے دار ہوں گے۔۔حرم کی کہانیاں لکھنے کے لیے چوہدری غلام حسین تاریخ دان ہوں گے۔۔ کیونکہ وہ وضو کی حالت میں بھی جھوٹ لکھنے اور بولنے میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔

مملکت کے قاضی مولانا طارق جمیل ہوں گے۔۔ وہ بادشاہ سلامت کی شان میں قصیدے اور خطبات لکھ کر دیں گے، اسلامی ٹچ کے لیے بھی مشورہ دینا قاسم سوری کے بجائے ایم ٹی جے کی ذمہ داری ہو گی۔ ان کی برانڈ شاہی محل تک ہی محدود ہو گی، بادشاہ سلامت بھی ان کی بنائی ہی پوشاک زیب تن فرمایا کریں گے کیونکہ وہ سوئی میں دھاگہ بھی وضو کی حالت میں داخل کیا کرتے ہیں۔۔ کپڑے کو دھونے سے لے کر کاٹنے تک ہر مرحلہ پر دو دو نفل پڑھتے ہیں۔۔ اسی لیے اس کی قیمت اتنی ہے کہ عام آدمی کی تو اس برانڈ تک جانے کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔درباری مسخروں کی تعداد زیادہ ہو گی کیونکہ عمران کے تمام سابق وزرا جگت بازی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔۔ فواد چوہدری، اسد عمر، شاہ فرمان، حماد اظہر، فرخ حبیب سمیت تمام درباری مسخرے ہوں گے۔۔ ان کا کام بس بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کو ہنسانا نہیں ہو گا بلکہ روتے ہوئے عوام کو ہنسانا بھی ان ہی ذمہ داری ہو گی۔

اس لیے میری تمام صاحبان اختیار سے درخواست ہے کہ اب جب بات ایک شخص کے لیے نظام تبدیل کرنے تک پہنچ چکی ہے تو پھر صدارتی نظام میں بھی تو عوام کے سوالات کے جواب دینا ہوتا ہے، وہاں بھی فوج نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے، وہاں بھی سیاسی جماعتیں مخالف اتحاد بنا سکتی ہیں تو پھر کیا فائدہ؟۔ عمران خان کو بادشاہ سلامت، خلیفہ وقت یا امیر المومنین بنانے کا اعلان کیا جائے ورنہ یہ سیاپا اسی طرح جاری رہے گا۔ مہربانی ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں