نقطہ نظر/عطاالرحمن عباسی

آزادکشمیرمیں حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر

گذشتہ کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا اور اخبارات پہ غیریقینی کی صورتحال کل بالآخر یکسرتبدیل ہو گئی. وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر، صدر ہی ٹی آئی آزادکشمیر سردار تنویرالیاس خان کا دورہ مظفرآباد تمام فیس بکی فلاسفروں کی امیدوں پہ پانی پھیر گیا جو کہ عدم اعتماد کی رٹ لگا کہ اپنا سیاسی چورن بیچ رہے تھے۔ وزیراعظم نے کمال حکمت عملی سے نہ صرف عوام کی خادمت کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ انتہائی نا مساعد حالات میں اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لے لیا۔

وزیراعظم کل 12 جنوری 2023 کو اسمبلی اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں پہنچے جہاں تمام اپوزیشن رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی اور مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ وزیراعظم کے اس عمل کو سوشل میڈیا پہ زبردست پزیرائی ملی۔ جنرل الیکشن کے دوران جب ہم نے سردار تنویرالیاس خان کی ٹیم کو جوائن کیا تو میں نے ایک اصطلاح کشمیر کا کپتان سوشل میڈیا پہ متعارف کرائی جس پر شروع میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہمارے مخالف گروپوں نہ کہا کہ آپ وقت ضائع کر رہے ہو ۔

بعد میں یہی اصطلاح کشمیر کا کپتان ایک مقبول نعرہ بنا اور وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے یہ ثابت کیا کہ وہی کشمیر کے کپتان ہیں۔ کشمیری اس پار ہوں یا لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف سب لوگوں کو سردار تنویرالیاس خان سے بہت امیدیں ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا وزیراعظم ملا ہے جو بیک وقت انتظامی امور کی مہارت اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک وژن رکھتا ہے۔آزادکشمیر کیلیےحالیہ دنوں کیےگئے اعلانات گیم چینجر ثابت ہونگے اور بے روزگاری کے خاتمے سمیت یہاں میں مقامی انڈسٹری کا قیام عمل میں آئے گا ۔

وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویرالیاس خان نے اس سے قبل بھی مشکل حالات میں تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویرالیاس خان کو کشمیری عوام ، پارلیمانی پارٹی اور پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا بھرپوراعتماد حاصل ہے، 32 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا ہونا ناممکن کو ممکن بنانا اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا. سکیورٹی ایشوز, پی ڈی ایم کی بلیک میلنگ اور وفاق سے کسی بھی سپورٹ کے بغیر تن تنہا ڈٹ کر مقابلہ کرنا یہ بھی بہت مشکل تھالیکن اللہ پاک نے قائد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کو سرخرو کیا وزیراعظم آزاد کشمیر نے ہر ایک سیاسی کارکن کی جنگ لڑی خواہ وہ کسی جماعت کا تھا،سیاست عبادت ہے خلوص دل سے کی جائے آسان الفاظ میں یہ انسانیت کی خدمت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں