بڑھاپا ماضی کا قصہ بننے کے قریب،سائنس دانوں‌نے اہم کامیابی حاصل کرلی

بیشتر افراد بڑھاپے کے ساتھ آنے والی جسمانی کمزوریوں اور بیماریوں سے بچنے کی خواہش رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ بہت جلد ایسا ممکن ہوسکے گا۔امریکا کے ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ماہرین نے اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیا ہے کہ ہم لوگ بوڑھے کیوں ہوتے ہیں۔

ایک نئی تحقیق میں ان ماہرین نے ایسی جسمانی گھڑی کے بارے میں بتایا جو خلیات کی عمر کی رفتار کو تیز یا اسے ریورس کرسکتی ہے۔اس تحقیق میں محقق ڈیوڈ سنکلئیر اور ان کی ٹیم نے ایپی جینوم پر توجہ مرکوز کی تھی۔ایپی جینوم ہی مختلف خلیات کے لیے جینز کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ وہ نہ صرف چوہے کی عمر کی رفتار بڑھانے میں کامیاب ہوئے بلکہ وہ عمر بڑھنے سے مرتب اثرات کو ریورس کرنے اور ان جانوروں میں جوانی کے حیاتیاتی افعال بحال کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔

تحقیق کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈی این اے میں آنے والی تبدیلیاں بڑھاپے کے سفر کی بنیادی وجہ نہیں بلکہ ایپی جینوم اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈیوڈ سنکلئیر طویل عرصے سے یہ خیال پیش کررہے ہیں کہ بڑھاپے کی بڑی وجہ خلیات کو دی جانے والی اہم جینیاتی ہدایات کی کمی ہے۔اس نئی تحقیق کے نتائج ان کے خیال کو درست ثابت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہے جیسے سافٹ وئیر پروگرامز کرپٹ ہوجائیں تو انہیں ری بوٹ کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑھاپے کی وجہ خلیات میں آنے والی تبدیلیاں ہوں تو عمر کو ریورس کرنا ممکن نہیں، مگر ہم عمر کو ریورس کرنے میں کامیاب ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سسٹم ٹھیک ہے اور بیک اپ بھی موجود ہے، بس سافٹ وئیر کو ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے ایپی جینوم ہدایات کی بیک اپ کاپی کو ری اسٹارٹ کرکے خلیات کو نئی زندگی فراہم کی اور پھر خلیات کو بڑھاپے کی جانب بڑھنے کے سگنل فراہم کیے۔ایسا کرنے سے چوہوں کے جسم پر بڑھاپے کے آثار نمایاں ہوگئے، یعنی کھال کی رنگت سفید ہونے لگی، جسمانی وزن گھٹ گیا، چلنا پھرنا کم ہوگیا جبکہ جسمانی توازن بگڑ گیا۔

اس عمل کے لیے ماہرین نے جین تھراپی کی ایک قسم کی مدد لی تھی اور 3 جینز کے افعال کو ری بوٹ کیا گیا۔عمر بڑھانے کے بعد انہوں نے اس عمل کو ریورس کیا اور وہ چوہے ایک بار پھر جوان نظر آنے لگے۔محققین نے بتایا کہ ہم اسٹیم سیلز نہیں بنارہے بلکہ جسمانی گھڑی کو الٹا گھما دیا ہے اور ہم اس کے مثبت نتائج سے دنگ رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب تک ایسے خلیات کو دریافت نہیں کرسکے جس کی عمر ہم آگے یا پیچھے نہ کرسکیں۔

مگر کیا یہ طریقہ کار انسانوں پر کام کرے گا؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ڈیوڈ سنکلئیر تحقیق کو مزید آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ نئی تحقیق کے نتائج کا اطلاق کسی ایک ٹشو یا عضو پر نہیں بلکہ جانور کے پورے جسم پر ہوتا ہے۔

وہ انسانوں میں سب سے پہلے عمر سے بینائی پر مرتب اثرات کو ریورس کرنے کا کام کریں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد امراض کا علاج عمر کے اثرات کو ریورس کرکے ممکن ہوسکتا ہے مگر اس حوالے سے ابھی مزید تحقیقی کام کرنا ہوگا کیونکہ ابھی ہمیں کافی کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسی ادویات تیار کرنے کے لیے پرامید ہیں جو جسمانی اعضا کو نئی زندگی فراہم کرسکیں گی۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سیل میں شائع ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں