کراچی میں نئے بلدیاتی انتخابات ،پی ٹی آئی کا نیا مطالبہ سامنے آگیا

پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں 15 جنوری کو ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے شہر قائد میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کر دیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر کا کہنا تھا کراچی میں پہلے انتخابات ملتوی کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر مینڈیٹ چوری کیا گیا، کراچی میں عوامی مینڈیٹ کو زبردستی اور دھاندلی سے چرایا گیا، دھاندلی الیکشن کے دن صبح کے وقت ہی شروع ہو گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی رہنما امجد آفریدی نے دھاندلی کی ویڈیو بنائی، امجد آفریدی نے ویڈیو میں بتایا کہ کیسے 1000 ووٹ پولنگ اسٹیشن لائے گئے، امجد آفریدی کی ویڈیو پر دھاندلی کرنے والوں کو نہیں پکڑا گیا، امجد آفریدی جس نے دھاندلی دکھائی اسے ہی گرفتار کر لیا گیا، امجد آفریدی اور اس کے بھائیوں کو گرفتار کر کے تشدد کیا گیا، امجد آفریدی کے بھائی کی ایک آنکھ مکمل ضائع ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتائج میں تاخیر کیوں ہوئی؟ الیکشن کہیں پہاڑوں پر نہیں ہو رہا تھا بلکہ یونین کونسل میں ہو رہا تھا، انتخابی عملے پر پریشر ڈالا گیا تھا، الیکشن کمیشن اس سارے عمل میں بے بس نظر آ رہا ہے، سب کو نظر آرہا ہے مینڈیٹ چوری ہو رہا ہے تو احتجاج ہوا، جب عوام نے احتجاج کیا تو پولیس نے پی ٹی آئی ورکرز کو حراست میں لیا، پیپلزپارٹی نے جو بدترین دھاندلی کی اس پر آواز اٹھائی تو تشدد ہوا۔

اسد عمر نے کہا کہ سندھ کے تمام اضلاع اور کراچی میں خوفناک کھیل کھیلا جا رہا ہے، کراچی کو دیوار سے لگایا گیا اور مردم شماری غلط ہوئی، یہ کراچی کی آبادی کو شمار نہیں کرتے کیونکہ سندھ اسمبلی کے رزلٹ بدل جائیں گے، ڈیجیٹل مردم شماری کا نام و نشان نظر نہیں آرہا ہے، کراچی کو اپنے حق کے مطابق پیسے نہیں دیے جا رہے، کل کراچی والے کھڑے ہوئے تو انہیں دہشتگرد کہا جائے گا، کراچی نے صوبے کی جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 2023 جنرل الیکشن کا سال ہے ہم نے الیکشن کی تیاری کرنی ہے، تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، فاروق ستار نے کہا پیپلز پارٹی معاہدے پر عمل نہیں کر رہی اور وہ ضامنوں سے بھی مخاطب ہیں، فاروق ستار تھوڑی مزید ہمت کریں اور یہ بھی بتا دیں کہ ضامن کون تھے؟

اسد عمر کا کہنا تھا کراچی کے عوام کسی صورت مقامی حکومت کے نتائج قبول نہیں کریں گے، الیکشن کمیشن کراچی میں مقامی الیکشن کرانے میں ناکام ہوا، الیکشن کمیشن کو مستعفی ہونا چاہیے اور کراچی کے بلدیاتی الیکشن کو کالعدم قرار دیکر نیا الیکشن کرانا چاہیے، پاکستان تحریک انصاف میئر اور ڈپٹی میئر کے امیدوار کے لیے نام نہیں دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں