اتالیق /باسط علی

ایڈہاک ازم اورانسدادِ میرٹ

با شعور معاشرے میں ذہانت قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کی جاتی۔ افراد کو ان کی محنت اور کام کی بل بوتے پہ انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔ یوں یہ زرخیز معاشرہ ذہانت، قابلیت اور لیاقت کا بہترین اناج پیداکرتا ہے۔ جس سے ترقی، جدت اور خوشحالی جیسے نفوس نشونما پاتے ہیں۔ جن کے مثبت اثرات پوری بنی نوع انسان پہ مرتب ہوتے ہیں۔ اس پر اثر کیفیت کی بدولت مطلوبہ ریاست کی عزت و توقیر میں عالمی پیمانے پہ افزائش ہوتی ہے۔ انصاف اور برابری کے پیش نظر کسی بھی گروہ، طبقے، رنگ نسل یا قوم کا فرد مساوی مواقع کی بدولت ترقی کا سفر طے کرتا ہے۔ ریشوت، سفارش، اقرباء پروری اور نا انصافی جیسے ناسور اس پھلتے پھولتے گلستان کے خوبصورت پیڑوں کو نقص پہچانے کی جسارت نہیں کرتے۔

ترقی کے اس نصب العین پہ اہل مغرب کے کفار نے عمل پیراہو کر دنیا کے بہترین سائنسدان، بزنس مین، اکنامسٹ، جرنیل، آئی ٹی اسپیشلسٹ، زرعی ماہرین، کے ساتھ ساتھ بے شمار ماہرین جنم دیے۔ جس ملک نے جتنی ذہانت، قابلیت، لیاقت اور صلاحیت کی قدر کی اس نے اتنے ہی زیادہ لائق، قابل اور ہنر مند افراد پیدا کیے۔ یہ افراد ملک و قوم کا اثاثہ بنے۔ جنہوں نے اپنے ملک کو معاشی، معاشرتی اور دفاعی اعتبار سے قابل عزت اور قابل فخر بنایا۔ اس وقت دنیا کی معاشی اور دفاعی سپر پاورز کااگر تجزیہ کیا جاۓ اور ترقی کے عوامل کو کھوجا جاۓ تو اس کی جڑیں یقیناً ان کی یونیورسٹیز، ریسرچ انسٹیٹیوٹس، سکولوں اور کالجز میں ملیں گی۔

ایک طرف وہ سماج ہیں، جن میں انصاف کا بھول بھالا ہوتا ہے۔ حقدار کو اس کاحق دیا جاتا ہے۔ مقابلے اور میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہمارا اخلاقی طور پہ پسماندہ اور مفلوک الحال، تعصب زدہ معاشرہ جس میں انصاف نام کا کوئی عنصر سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ سیاست دانوں کو نعرے لگوانے، خوشامدی اور سیاسی دوکانداری چمکانے کے لئے چند چیلوں کی ضرورت رہتی تھی۔ ان میں اکثر سیاسی خاندانوں کے ساتھ غلام ابن غلام کئی نسلوں سے منسلک رہے۔ یہ لوگ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلق واسطے کا ٹینڈرز، ٹھیکوں، پیکجز کے علاوہ دیگر صورتوں میں فائدہ تو اٹھاتے رہے لیکن سرکاری نوکریوں پہ بھی کئی بچوں کا حق مارتے رہے۔

کسی سیاسی چیلے نے پرچی کرکے تعلیمی سند حاصل کی تو کسی نے جعلی ڈگری بنوا کر سیاسی اثر رسوخ کا استعمال کرکے عارضی تقرری کروا لی۔ تقرری یا اپائنمنٹ کرتے ہوۓ ایمپلائر (سٹیٹ) اور ایمپلاۓ کا عارضی اگریمنٹ بھی موجود تھا۔ کہ ان پوسٹوں پہ بعد میں امتحان لے کر اہل افراد کو تعینات کیا جائے گا۔ سیاسی پشت پناہی کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ ان لوگوں نے مقبوضہ پوزیشنز کو محکمہ کی ملی بھگت سے پبلک سروس کمیشن کے پاس نہ جانے دیا۔ اس بے ایمانی میں عارضی ملازم، متعلقہ محکمے کا ذمہ دار افسر اور پبلک سروس کمیشن برابر کے شریک ہیں۔ یوں ایک طویل دورانیہ کے لئے یہ بدعنوان عناصر ان پوزیشنز پہ قابض رہے۔ اس دوران کئی اہل اور قابل افراد تعلیم و قابلیت ہونے کے باوجود سرکاری نوکری حاصل نہ کر سکے کئی لوگ اسی انتظار میں عمر زیادہ ہونےکی وجہ سے سرکاری ملازمت کے اہل نہ رہے۔
سالہاسال غیرقانونی قابض ہونےکی وجہ سے جب یہ لوگ خود اوور ایج ہوۓ تو ہمدردیاں سمیٹتے روتے دھوتے پھر حکمران طبقے کے پاس جاتے ہیں کہ بنا امتحان ہمیں مستقل کیا جائے۔

بنا کسی امتحاں اور مقابلے کےکسی عوامی پوزیشن پہ سیاسی تعیناتی نہ صرف بہت بڑی نا انصافی ہےبلکہ قوم کے ہر نوجوان پڑھے لکھے لڑکے لڑکی کے ساتھ بہت بڑی خیانت ہے۔ یہ ریاست کسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ اپنی مرضی سے من پسند لوگوں کو عوامی عہدے اور نوکریاں بانٹ دی جائیں۔ ریاست میں سرکاری نوکریوں کے علاوہ کوئی اور زریعہ معاش نہیں ہے۔ یہ بھی اگر سیاست دانوں کےآل اولاد اور خدمت گاروں میں تقسیم ہو گئی تو غریب اور محنت کشوں کی اولادیں کہاں جائیں گی۔ یا تو این ٹی ایس، پی ایس سی اور دیگر محکموں کو غیر فعال کرکے بااثر افراد کی خوشامدی کو حصول ملازمت کی شرط قرار دے دیا جاۓ۔ وگرنہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاۓ۔ اتنے لوگوں کو غیر قانونی ملازمتیں عنایت کر کے باقی نوجوان کے لئے آئندہ پانچ سے دس سال تک ملازمت کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ساٹھ لاکھ افراد کے حقوق کی جنگ ہے۔ اس جنگ کے لئے ریاست کے ہر پڑھے لکھے نوجوان کو کمربستہ ہونا ہو گا۔ ایڈہاک ازم ایک مافیہ ہے۔ اس مافیہ کےانسداد کےلئے سب کو مل کر جدوجہد کرنے ہوگی۔ تاکہ میرٹ کی بالادستی ہو اور ہر اہل فرد کو روزگار مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں