اتالیق /باسط علی

صرف ایک روٹی کا سوال ہے

پاکستان گندم پیدا کرنے والا دسواں بڑا ملک ہے۔ جغرافیائی اور رقبے کے تناسب کو مد نظر رکھ کے دیکھا جاۓ تو شاید عالمی رینکنگ میں اعداد وشمار اسےمزید اوپر لے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں چائنہ پہلے، انڈیا دوسرے، کنیڈا تیسرے، امریکہ چوتھے، اسٹریلیا پانچویں، یوکراین چھٹے، جرمنی ساتویں، روس آٹھویں، فرانس نویں اور پاکستان دسویں نمبر پہ ہے۔ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں بجا ہیں۔ لیکن سیلاب نے فصلِ خریف کو نقصان پہنچایا تھا۔ اور یہ عُذر پیش کرنا محض ایک بہانا ہے کہ گندم کا بحران سیلاب کا پیش خیمہ ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ خوراک کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ فصل کی کٹائی پہ سال بھر کا اناج خرید کر ذخیرہ کر لیا جائے اور عوام کو خوراک کی کمی کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہر ریاست عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اسی انداز پہ کام کرتی ہے۔ تاکہ کسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لئے قبل از وقت بندوبست کیا جائے۔ ملک پاکستان چوروں،لٹیروں ،بدمعاشوں ذخیرہ اندوزوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ عوام نہ چاہتے ہوۓ بھی پتا نہیں کیوں انہی بدعنوان عناصر کو منتخب کرتی ہے۔

آٹے کا بحران محض مصنوعی بحران ہے پس پردہ محکمہ خوراک کے اہلکاران حکومتی عہدیداران سمیت بے شمار کردار ذخیرہ اندوزی منافع خوری جیسے گناؤنے عوامل کے ذریعے دیہاڑی لگا رہے ہیں۔ ایک دن صبح ڈیوٹی پہ جاتے ہوۓ، دو لوگوں کے درمیان کی گفتگو سن کر ششدر رہ گیا۔ ان میں سے ایک عام دوکاندار تھا۔ جو اپنے ساتھی کو اپنی بے ایمانی اور حرام خوری کی روداد سنا رہا تھا۔ دوکاندار بتا رہا تھا؛ میں نے سپلائی سے ایک سو بیگ آٹا بارہ سو روپے فی کس کے حساب سے خرید کر بائیس سو روپے فی کس کے حساب سے فروخت کیۓ۔ اور ایک لاکھ کا حرام منافع کمایا۔ ایک معمولی سے دوکاندار کی بات ہے۔ بڑے بڑے کاروباری حضرات، بااثر شخصیات اور محکمے کے چھوٹے بڑے عہدیداران کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے تو بے شمار کچے چٹھے کھلیں گے۔

یہاں کرسی پوزیشن اور عہدے کا استعمال کر کے محفوظ چوریاں کی جاتی ہیں۔ عوام کا نوالہ چھین کر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آسائشیں سمیٹی جاتی ہیں۔ حضور والا! سرکار یہاں کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی ریشوت لیتی ہے۔ عوام کو بے رحم چوروں لٹیروں اور ذخیروں اندازوں کے رحم کو کرم پہ چھوڑ کر ذمہ داران تماش بینی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہاں سرکار اور سرکاری ملازمین عوامی خدمت کے لئے نہیں بلکہ لوٹ کھسوٹ کے لئے آتے ہیں۔ یہ طبقہ مال و متاع جمح کرتا ہے اور پھر کسی دوسرے ملک کوچ کر جاتے ہیں۔ اشیاۓ خوردنوش میں انواع اقسام ایک طرف سادہ روٹی کامیسر ہونا محال ہو چکا ہے۔حضور والا صحت تعلیم روزگار انرجی انفراسٹرکچر تو تو بعد کی بات ہے عوام پچہتر سال سےایک روٹی کا ہی سوال کر تی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں