برساتی جنگل سےدیوہیکل مینڈک کی دریافت نے ماہرین کو حیران کر دیا

کوئنزلینڈ: آسٹریلیا کے ایک برساتی جنگل میں ایک دیوہیکل مینڈک کی دریافت نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی شمالی ریاست کوئنزلینڈ کے ایک برساتی جنگل میں رینجرز اہل کاروں کو ایک دیوہیکل ’کین ٹوڈ‘ ملا ہے، جسے انھوں نے گوڈزیلا کی مناسبت سے ’ٹوڈ زیلا‘ کا نام دے دیا ہے۔

یہ دیوہیکل مینڈک کانوے نیشنل پارک میں میں 12 جنوری کو نگاہوں میں آیا تھا، رینجر اہل کار کائلی گرے کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے مینڈک کو دیکھ کر انھیں بہت حیرت ہوئی۔دریافت شدہ مینڈک کا وزن 2.7 کلو گرام تھا، واضح رہے کہ سب سے بڑے مینڈک کا گنیز ورلڈ ریکارڈ (1991) سویڈن کے ایک پالتو مینڈک کے پاس ہے، جو 2.65 کلو گرام کا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا مینڈک ایک نوزائیدہ انسانی بچے کے وزن جتنا ہے۔ کوئنز لینڈ کے محکمہ ماحولیات و سائنس نے جمعہ کو کہا کہ ممکنہ طور پر اس مینڈک کا وزن ایک نیا عالمی ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پکڑے گئے ٹوڈزیلا کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ یہ عام کین ٹوڈز سے بہت خوراک کھاتا ہے، اور انھیں کانوے نیشنل پارک سے ہٹانے کی بڑی وجہ اس کے ماحول پر مضر اثرات ہیں۔رینجرز کائلی گرے نے بتایا کہ کین ٹوڈ کی مادہ 35 ہزار انڈے دیتی ہے، جو پورے عمل کے ہر مرحلے پر دوسرے جانوروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، اور یہ 15 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔تاہم، اے بی سی نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ پکڑے گئے دیوہیکل مینڈک کو ماحول بچانے کے لیے موت کے حوالے کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں