شکوے شکایت کرنے والی بیگم کیسے صحت پر مثبت اثرات ڈالتی ہے؟

نیویارک ( ویب ڈیسک ) امریکی یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی خاتون ایسوشی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہوئی لیوکا کہنا ہے کہ میاں بیوی کےکشیدہ تعلقات شوہر میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ہوئی لیو نے ایک ہزار سے زائد شادی شدہ جوڑوں کا 5 سال تک مطالعہ کیا اور پایا کہ جھگڑالو بیویوں والے شوہر حضرات میں دیگر شوہروں کے مقابلے ذیابیطس کے خطرات بہت کم تھے۔

خاتون پروفیسر کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ شادی کے بعد نوک جھونک اور بیوی کی شکایتیں ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتیں بلکہ اس کے صحت پر اچھے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق میں 57 سے 85 سال کی عمر والے ایک ہزار سے زائد جوڑوں نے حصہ لیا۔

ماہرین نے اپنے 5 سالہ مطالعے میں نوٹ کیا کہ منفی ازدواجی زندگی نہ صرف مردوں میں ذیابیطس کو روکتی ہے بلکہ اگر کوئی اس مرض کا شکار ہو تو وہ اس کی بہتر نگرانی اور علاج میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جھگڑالو بیویاں شوہر کے کھانے پینے اور صحت کے معاملات پر بھی نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں اور اس طرح سے شوہر شوگر کے مرض سے دور رہتے ہیں۔جبکہ اس کے برخلاف شادی شدہ خواتین کی پرسکون زندگی ذیابیطس کو 5 سال کیلئے ٹال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی بیوی جھگڑالو اور شکوہ کرتی رہتی ہے تو اس سے آپ کے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ایسے مرد ذیابیطس جیسے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق خواتین میں اس کا الٹ اثر ہوتا ہے یعنی خوشگوار زندگی گزارنے والی خواتین میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خدشہ بہت کم کم ہوتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت