انرجی ڈرنکس کا استعمال نشہ آور اشیاء سے زیادہ خطرناک ہے

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک ) انرجی ڈرنکس کا استعمال کیفین کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

یو ایس ائیر فورس میڈیکل سینٹر کی تحقیق کے مطابق کافی مقدار میں انرجی ڈرنک کا استعمال بلڈ پریشر اور دل کے ردھم میں دو گھنٹوں کے اندر غیر معمولی تبدیلیاں لانے کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک لیٹر کے قریب اس مشروب کا استعمال دل کی الیکٹریکل سرگرمیوں اور بلڈ پریشر میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ عام طور پر اس مشروب میں چینی اور کیفین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ اس میں دیگر اجزاءبھی شامل ہوتے ہیں۔

اس مشروب کا استعمال دل پر اتنی ہی مقدار میں کیفین یا کافی پینے کے مقابلے میں زیادہ اثرارت مرتب کرتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے دوران ہم نے انرجی ڈرنکس کے دل کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران اٹھارہ نوجوانوں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو 946 ملی لیٹر انرجی ڈرنک دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو 320 ملی گرام کیفین ، 40 ملی لیٹر لیموں کا جوش اور 140 ملی لیٹر چیری سیرپ کاربونٹیڈ واٹر دیا گیا۔ بعد ان نوجوانوں کے بلڈ پریشر اور دل کا ایک، دو، چار، چھ اور چوبیس گھنٹے بعد جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ انرجی ڈرنک پینے والے گروپ کے افراد کا دل دھڑکن کے دوران اضافی دس ملی سیکنڈ تک ‘تھم’ گیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ اس روکنے کے نتیجے میں دل کی الیکٹریکل سرگرمیاں متاثر ہوئیں جبکہ دھڑکن غیرمعمولی ہوگئی اور طویل المعیاد بنیادوں پر یہ زندگی کے لیے خطرناک مرض کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی تحقیق ہے اور ان نتائج کی تصدیق کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے

کیٹاگری میں : صحت