Doctor Syed Nazir Gilani

کشمیر کی تاریخ کا بد ترین ظلم

کشمیر میں ہندو، بدھ مت، چک، مغل، پٹھان، سکھ اور ڈوگرا حکمراں
رہے۔

ظالم ڈوگرا کی حکمرانی سے خلاصی حاصل کرنے کی جنگ کے دوران بھارت نے کشمیر کے ایک حصے میں اپنی افواج ایک عارضی معاہدے کے تحت عارضی طور داخل کر دیں۔

بھارتی فوج کا داخلہ ایک عارضی انتظام تھا اور اس کی تائید یا اس کے استرداد کی تصدیق اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیری عوام کے free and fairووٹ سے ہونا طے پایا ہے۔ اس میں ضرورت سے زیادہ تاخیر ہوئی ہے اور اب یہ فوج قابض فوج کی تشریح میں آتی ہے۔

بھارتی فوج کے اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرائے جانے والی رائے شماری تک بے ضرر کردار اور وجود کی گارنٹی مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل اور پاکستان کودی ہے۔

بھارتی فوج عارضی داخلے کی 4 شرائط اور اقوام متحدہ کی 3 شرائط کے تابع کر دی گئی ہے۔

دوسری پابندی 31مارچ 1959 تک بھارتی شہریوں کے لئے ریاست میں داخلے کے لئے entry permitکی شرط تھی۔ بھارتی حکومت نے داخلے پر پابندی کی یہ شرط وزیر اعظم غلام محمد بخشی کے ہاتھوں یکم اپریل 1959 سے ختم کرنا دی۔

بخشی غلام محمد کا انتخاب ریاست کے صرف ایک حصے سے ہوا تھا اس لئے وہ بھارتی شہریوں کو یہ رعائیت دینے کا مجاز نہیں تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ رعائیت 30 مارچ 1951 کی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار داد کی صریح خلاف ورزی بھی تھی۔

کشمیر کی قیادت اور نہ ہی حکومت پاکستان نے اس رعائیت کے مضر اثرات کو بھانپا اور نہ ہی کسی طرح کا احتجاج کیا۔

آج بھارت کا یہی فوجی سات شرائط کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی سینہ زوری میں ملوث ہے۔ اس نے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم اس بھارتی فوج کا معمول ہی نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بن گئے ہیں۔

کشمیر جسے sweet-heart of the World. کہا جاتا تھا اب ایک کشمیری مسلمان کے لئے جہنم بن گیا ہے۔

بھارتی فوج کے ظلم کی بنیاد شیخ محمد عبداللہ کی بھارتی فوج کے بے ضرر کردار کی تصدیق نے ڈالی اور اس کے بعد کشمیر کی ہر حکوت اس ظلم و بربریت میں حصہ دار رہی ہے جو بھارتی فوج کو اس پر عائید 7پابندیوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

اس وقت کشمیر میں بھارت کے وجود کا معاملہ اقوام متحدہ کی سپرداری میں ہے۔ اور اس کا کشمیر میں وجود غیر قانونی اور قابضانہ ہے۔

بھارتی فوج کے روا تاریخ کے بد ترین ظلم کے خاتمے اور ریاست کو قابض افواج کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے تمام ممکنہ وسائیل کا استعمال میں لانا جائیز ہے۔