Farooq haider

فاروق حیدرکا دورہ دبئی،کارکن متحد،شانداراستقبال کی تیاریاں مکمل

دبئی (راجہ اسد خالد /سٹیٹ ویوز)تیاریاں مکمل، وزیراعظم آزاد کشمیر آج شام 4 بجے دبئی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے، یو اے ای کے دور دراز علاقوں سے کشمیرکمیونٹی اور فاروق حیدر کے چاہنے والے رات گئے دبئی پہنچ گئے ،جلسہ گاہ کو خوبصور ت بینرز اور پورٹریٹ سے سجایا گیا.

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر آج دبئی میں کشمیری کمیونٹی سے خطاب کرینگے،مسلم لیگ ن یو اے ای اور گلف دونوں نے ملکر فاروق کے استقبال کے سلسلے میں بھرپور انداز میں تیاریاں مکمل کر لی ہیں، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی واحد اتحادی جماعت اسلامی نے بھی جلسہ کو کامیاب کرنے کے لیے بھرپور ساتھ دینے کا عزم کیا،دبئی دورہ سے قبل مسلم لیگ ن یو اے ای اور گلف کے درمیان شدید اختلافات تھے جو وزیراعظم کے دورہ دبئی کے اعلان کے ڈی جی وزیراعظم آزادکشمیر ملک ذوالفقار نے دونوں دھڑوں کو آپسی اختلافات ختم کروا کر مسلم لیگ ن یو اے ای اور گلف کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا.

مسلم لیگ ن یواے ای کے لیے اچھا پیغام جائے کے وزیراعظم کی موجودگی میں دونوں دھڑے اپنے اختلافات کو ختم کر کے پروگرام میں شریک ہونگے، اس سے قبل مشتاق منہاس، شاہ غلام قادر، فاروق سکندر، راجہ نثار دبئی کے دورے کر چکے ہیں لیکن مسلم لیگ دھڑوں کے اختلافات کو ختم نہیں کروا سکے تھے، دونوں دھڑوں نے الگ الگ پروگرامات ترتیب دئیے تھے جس سے واضع تقسیم نظر آ رہی تھی جو وزیراعظم کے دورہ دبئی سے ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن یہ بات دیکھناہو گی کہ آنے والے وقت میں کیا مسلم لیگ ن آزاد کشمیرمستقبل میں بھی اسی طرح آگے بڑھے گی یا پھر سے اختلافات ہونگے.

وزیر اعظم کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے کارکن اور یو اے ای اور گلف کے قائدین کی نظریں وزیر اعظم پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ دونوں دھڑوں کو دوبارہ فعال نہ ہونے اور ن لیگ کو یو اے ای اور گلف میں مضبوط بنانے کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں،بلاشبہ کسی بھی جماعت کی مضبوطی اس کے اتحاد میں ہے اگر جماعت متحد ہوگی تو ہی کارکن بہتر انداز سے اور جماعت کو مزید مضبوط کرسکیں گے،اگر ان میں اختلافات ہونگے تو کارکن بھی اپنی اپنی بولی بولتے نظر آئیں گے اس لئے راجہ فاروق حیدر کے دوری یو اے ای کو وہاں موجود قائدین اور کارکن اہم سمجھ رہے ہیں، سیاسی شنیدہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے اوورسیز گلف کی نمائندگی کے لیے گلف یا یو اے ای میں سے کسی ایک کو نمائندہ چن لیاہے، جس کا اعلان ہو نا باقی ہے،وزیر اعظم آزادکشمیر پر بھی اس وقت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ دوبارہ دھڑے نہ بن سکیں اور یو اے ای اور گلف کی ن لیگ متحد ہوکر اس کی مضبوطی کیلئے مل کر کام کرے۔