Sudia kashmiri

سعودیہ میں مقیم کشمیری بھارت سےآزادی کیلئےاٹھ کھڑے ہوئے

سعودیہ(سٹیٹ ویوز) پاک و ہند کے مسلمان اور خاص کر کشمیر کے مسلمانوں کے لیے13 جولائی یوم سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1922 میں ڈوگرہ حکومت نے جیل میں بے قصور مسلمانوں پر فائرنگ کرکے ان کو شہید کردیا۔ جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز سعودی عرب۔ جدہ نے اسی حوالے سے”یوم شہداء” کی تقریب کا انعقاد مقامی ریسٹورنٹ میں کیا۔ چیئرمین سردار اقبال یوسف اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب سردار عنایت اللہ عارف نے شرکت فرمائی۔دیگر مقررین میں چیف آرگنائزر سردار عبدالطیف عباسی، سیکرٹری جنرل چوھدری خورشید متیال، قاری ارشاد الحق، صاحب راجہ زرین خان، راجہ شمروز خان، راجہ پرویز ، سردار آزاد خان، ارشد بٹ، ملک شفیق، سردار وقاص، سردار مصطفی، مشتاق مغل، افتخار احمد، اور چوھدری عارف نے شہدائے کشمیر اور 8 جولائی 2016 کو شہید ہونے والے برھان وانی کو خراج تحسین پیش کیا۔

مقررین نے پرزور انداز میں مطالبہ کیاکہ اقوام متحدہ، عالمی برادری اور بلخصوص انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں جارحیت اور قتل عام کا فوری طور پر بند کرنے کا نوٹس لے۔ آزادی کی لہر جو پچھلے چند ماہ سے اپنے عروج پر ہےہندوستانی فوج نہ صرف انکو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے بلکہ عورتوں کی عزت اور عصمت کو پامال کر رہی ہے۔ انکے گھروں اور دکانوں کو آگ لگا رہی ہے۔ پوری وادی کو قید خانے میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ربڑکی گولیوں سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جس سے نہ جانے کتنے معصوم اپنی آنکھوں سے محروم ہو گئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں اس وقت سات لاکھ سے زائد فوجی تعینات ہیں جو اقوام متحد کے قرارداد کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں 69 سال گزر جانے کے باوجود اپنی ہی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کرانے سے قاصر ہے۔ جموں کشمیر کمیونیٹی اوورسیز “او ۔آئی ۔سی” سے بھی پرزور مطالبہ کرتی ہے کشمیری مسلمانوں کا قتل عام بند کرائے اور اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

مقررین نے” پی آر سی” کے کنوینئر انجینئر احسان الحق کا شکریہ ادا کیا جو کشمیری بھائیوں کے لیے اپنے فورم پر آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔