جنوبی ایشاء میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق حل کیا جائے

برمنگھم ( سٹیٹ ویوز ) عالمی صوفی امن کانفرنس نے دنیا پر زور دیا ہے کہ مذہب کی سچی پیروی ہی انسانیت کی مشکلات کا حل ہے اسلام دنیا میں امن اور محبت کا پیغام لایا ،دہشتگردی اور انتہا پسندی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں.

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہے ،کشمیر علما اور صوفیا کی سرزمین ہے یہاں کے عوام کو بھارت زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتا عالمی صوفی امن کانفرنس کے جاری اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی ممتاز مذھبی وروحانی پیشوا آستانہ عالیہ نقشبندیہ سیفیہ بساہاں شریف کے سجادہ نشیں عالمی مبلغ اسلام پیر طریقت حضرت علامہ پروفیسر پیر سید علی رضا بخاری ممبر ازاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی تھے جبکہ ارگنائزنگ کمیٹی میں پروفیسر مسعود عالم ،خلیفہ آفتاب سرمد،محمد فیصل دین سیفی ،خلیفہ محمد اکبر بھٹی ،محمد قیصر دین ،محمد حنیف سیفی اور ملک محمد تصور و دیگر شامل تھے جنہوں نے کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ کانفرنس میں ممبر آزادکشمیر اسمبلی راجہ جاوید اقبال ،صاحبزادہ سلطان فیض الحسن چشتی، علامہ قاری محمد ساجد ،علامہ محمد نیاز صدیقی۔ علامہ فاروق چشتی،مفتی فضل قادری،سیماب حیدر شاہ،صوفی قمر الزماں ،قاری تنویر اقبال ،راجہ محمد اشتیاق چوہدری عارف،ملک فتح خان،ذوالفقار علی ،حافظ قاسم چشتی،راغب راشد،فرحان وجدانی اور عرفان طاہر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر پیر سید علی رضا بخاری نے کہا کہ تحریک پاکستان سے لے کر تحریک ختم نبوت تک علما و صوفیا کرام نے اہم کردار کیا۔

علما نے مسلمانانِ پاک و ہند کی رہنمائی فرمائی۔ پاکستان میں قیام امن ہی سب کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ قیام پاکستان فیضان اولیاء کا ثمر ہے۔ آج ملک و ملت میں مخالفین پاکستان ہی رخنہ ڈال رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور قتل و غارت کے پیچھے ملک دشمن عناصر کارفرما ہیں۔حکومت محب وطن علماء و مشائخ کے ساتھ مل کر قیام امن ، فروغِ رواداری اور نفاذِ نظام مصطفی ﷺ کیلئے حکمت عملی وضع کرے۔ آج عقیدۂ ختم نبوت کا دفاع پہلے سے بھی ضروری ہے ۔ہم استحکام پاکستان اور دفاع عقیدۂ ختم نبوت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا پاکستان میں نفاذِ نظام مصطفیؐ سے ہی قیام امن ممکن ہے۔

اسلامی تعلیمات اور عدل و انصاف کی بالا دستی خوشحالی لا سکتی ہے۔ حیاء کے کلچر کو عام کر کے فحاشی و عریانی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔سود کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کر کے معیشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ حکمران اور پاک فوج ضرب عضب اور ردالفساد آپریشنز کے ذریعے خارجیت کا خاتمہ کر کے رسول رحمتؐ کے فیضانِ روحانیہ سے مالامال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرتے ہوئے آج کی عظیم الشان عالمی نوعیت کی کانفرنس کا انعقاد کرایا ہے۔

عہد حاضر میں برطانوی مسلمانوں کو دہشت گردی سے لیکر مختلف معاشرتی و خانگی مسائل درپیش ہیں۔ نوجوان نسل سیرت نبوی ؐکی بجائے داعش اور مختلف انتہا پسند گروہوں کو جوائن کررہی ہے ایسے میں علماء، مشائخ اور کمیونٹی کے ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار اداکرے۔ مقررین نے کہا کہ آج پیر سید علی رضا بخاری کے تاریخ ساز اور سائنٹیفک خطاب سے برطانوی مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل کے لئے علم و ہنر اور شعور کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔ ہمیں سیرت اور کردار مصطفی ؐ پر کاربند ہو کر اسلام کی تبلیغ کرنا ہوگی