” سیاست کشمیر کے دو کردار “

میں نے دستیاب لیڈر شپ پہ نظر دوڑائی ۔۔۔ !!
دو دو تین تین ، بلکہ چار اور پانچ مختلف سیاسی پارٹیوں کے مزے چھکنے والے آج بھی سرخرو و شادماں ہیں ۔۔۔۔ لوگ انہیں سیاست کے سرخیل اور کامیاب چال چلنے کا ماہر تصور کرتے ہیں ۔۔۔
بیرسٹر سلطان صاحب تو اس ring کے king ہیں ۔۔۔۔ پانچ پارٹیاں تبدیل کر کے گینیز بک آف ورلڈ میں اپنا نام درج کروانے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں ۔۔۔
مرجوم کرنل نسیم صاحب مختصر دورانیہ کی سیاست میں پہلے مسلم کانفرنس پھر ن لیگ اور وہاں سے ان کی آخری اوڑان تحریک انصاف میں ہوئی ۔۔۔۔
اسی دوڑ میں سردار الحاج یعقوب صاحب بھی شامل ہیں ، آزاد حیثیت سے ،مسلم کانفرنس اور اب پیپلزپارٹی
راجا فاروق حیدر مسلم کانفرنس س ق کے بعد ن میں جا کر رکے
حالیہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیری کے مزے چھکنے والے الیکشن سے چند ہفتے قبل تحریک انصاف میں کود گئے تھے

کس کس کا نام لیا جائےاور کس کس کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ کیا جائے ؟
تحریک انصاف کے کیمپ میں تو دو چار پارٹیاں بدل کر آنا شرف و اعزاز کا باعث سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔
ایسے میں دو کردار
ایک عبدالرشید ترابی جو 1996 سے 2001 ء تک ممبر اسمبلی رہے ۔۔۔۔طلباء تنظیم کے آزادکشمیر کے ناظم رہے ۔۔۔ ایک بردبار اور منجھے ہوئے سیاستدان ۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے ایک توانا آواز ۔۔۔۔ جنھیں 2001 ء سے متعدد بار ایک ہی ڈیمانڈ کی گئی ۔۔۔ ہماری برادریوں میں گری سیاست ۔۔۔۔۔ برادری کے بڑوں کی طرف سے ۔۔۔۔۔ پارٹی بدل کر آو ، اسمبلی کو اپنا مسکن بناو
حتی کہ بہت چھوٹی سی ڈیمانڈ کی گئی کہ نام کے سابقےلاحقے کو تھوڑا بدل لیں ۔۔۔ !
لیکن اس مرد درویش نے ہار کے طوق کو گلے میں لٹکائے رکھا لیکن کبھی گلہ تک نہیں کیا ۔۔۔۔ لیکن جماعت اسلامی سے کیا ہوا عہد کسی طور توڑنا گوارا نہ کیا

اسی سے ملتا جلتا کردار ، پونچھ کا مرد قلندر سردار اعجاز افضل تین مضامین میں ماسٹر ڈگری ہولڈر ۔۔۔۔ ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی قانونی ڈگریوں کیساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پہ ایک معرکہ آراء کتاب کے مصنف ، طلباء یونین کے آزادکشمیر کے ناظم ، ایم ایم اے آزادکشمیر کے سابق صدر و سابق امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر ممتاز قانون دان ، شعلہ بیاں مقرر !
یہاں بھی وہی تقاضے اور واپسی وہی معذرت ۔۔۔۔ جماعت اسلامی تو اس کی نس نس میں رچی بسی ہوئی ہے ۔۔۔۔ اس کا خواب ہے ۔۔۔ اس کا تخیل ہے ۔۔۔۔ اس کی منزل ہے ۔۔۔ اس کی مراد ہے ! بھلا وہ کیسے اور کیونکر چھوڑ سکتا ہے
اور اس سب کے سامنے کرسی تو ہیچ ہے ، کم تر ہے اور گھاٹے کا سودا ہے

اب ان دونوں کرداروں نے حالص ایک جمہوری انداز میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد کی سیاست کا آپشن چنا ۔۔۔۔۔ نیتوں سے واقف تو رب کی ذات ہے لیکن بظاہر جو مقصد کارفرما ہے وہ عوامی فلاح و بہبود ہے اور اس کے ذریعے سے جماعت کو مزید تقویت پہنچانا ہے تاکہ مستقبل قریب میں بغیر کسی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ کے جماعت اپنا پارلیمانی وجود نہ صرف برقرار رکھ سکے بلکہ اسے مزید تقویت بھی پہنچا سکے ۔۔۔

اور یہ آپشن کوئی انہونی بات بھی نہیں حالیہ الیکشن کیلئے بھی مسلم کانفرنس کا تحریک انصاف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مابین کزن ایڈجسٹمنٹ ہے ۔۔۔۔ ن کا جماعت اسلامی کے علاوہ جے کے پیپلزپارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے ۔۔۔

لیکن جماعت کے اس فیصلہ پہ ایک طوفان برپا ہو گیا ۔۔۔۔۔ ساکھ کا طعنہ ، کریڈیبلٹی کی طنز اور گڈ ول کے ڈوب جانے کا واہ ویلا اور اس میں ہر کس و ناکس اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ دار ہے ۔۔۔۔ جب کہ دوسری طرف جنھوں نے کرسی اور اقتدار کیلئے سب کچھ تج کر دیا ، اصول و ضوابط کا کھلواڑ کیا اور میرٹ کو جوتی کی نوک پہ رکھا وہ لوگ سیاست کشمیر میں آج بھی معزز و محترم شمار کئے جاتے ہیں وہ جدھر جاتے ہیں تیس چالیس ہزار ووٹ ان کے ساتھ ساتھ جاتا ہے اور ہمارا بھی جانچ پڑتال کا معیار اسمبلی کی ایک کرسی ہی ٹھہرا ۔۔۔

راقم اس حق میں ہے کہ سیاست دانوں کی غلط پالیسیوں کا کڑا احتساب کیا جائے لیکن اس کے لئے گزارش صرف یہ کرنا ہے کہ ایک میرٹ بنایا جائے اس پہ سب کو ناپا تولا جائے یہ نہیں کہ ایک کیلئے فرشتوں والی کسوٹی اور دوسرے لئے بشری معذوری ۔۔۔ !!
حق تنقید تمیں ہے مگر اس شرط کے ساتھ
جائزہ لیتے رہو ۔۔۔۔ اپنے بھی گریبانوں کا

اپنا تبصرہ بھیجیں