تحریر: سردار عبدالخالق وصی
عالمی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں کشیدگی اور مفاہمت کے درمیان لکیر نہایت باریک ہو چکی ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اس امر کی واضح علامت ہے کہ دنیا بتدریج تصادم سے مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ پیش رفت محض دو ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔پہلے دور کے مذاکرات نے اگرچہ اعتماد سازی کی ایک ابتدائی فضا قائم کی، تاہم اصل آزمائش دوسرے دور میں ہی شروع ہوتی ہے جہاں بیانات کی جگہ عملی اقدامات اور مفاہمت کے امکانات کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں اور جہاں ہر قدم نہ صرف دو ممالک بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ ان میں تاریخی کشیدگی، نظریاتی اختلافات اور اسٹریٹجک مفادات کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کا تسلسل خود ایک بڑی پیش رفت ہے، جبکہ دوسرا دور اس تسلسل کو پائیداری دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیابی کی جانب بڑھتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں استحکام کی ایک نئی امید پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں عالمی مسائل کا دائرہ بھی اس عمل سے جڑا ہوا ہے۔ یوکرین تنازع، عالمی اقتصادی دباؤ، توانائی بحران اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے بڑی طاقتوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ امریکہ کے لیے بھی یہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرے، جبکہ ایران کے لیے معاشی پابندیوں سے نجات اور عالمی سطح پر دوبارہ شمولیت ایک اہم ہدف ہے۔ایسے پیچیدہ اور حساس ماحول میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتا ہے بلکہ اس کی خارجہ پالیسی میں توازن، تدبر اور سنجیدگی کے عناصر بھی نمایاں ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جبکہ نایب وزیر اعظم و وزیر جارجہ اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر ایک متحرک اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے عالمی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری استحکام نے ملک کو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔ داخلی استحکام کسی بھی مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتا ہے اور پاکستان نے اس پہلو پر خاص توجہ دی ہے۔
اس سارے سفارتی عمل کے دوران ایک اہم پہلو یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر عالمی مفاہمت کے ساتھ کچھ ایسی قوتیں بھی متحرک ہو جاتی ہیں جو امن کے بجائے کشیدگی کو ہوا دینے میں اپنا مفاد دیکھتی ہیں۔ امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے تناظر میں بھی یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مختلف سفارتی و اسٹریٹجک حربے استعمال کر سکتے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں کی پالیسیوں میں توسیع پسندانہ رجحانات اور علاقائی بالادستی کی خواہش ایک واضح عنصر کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے، جو اکثر خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک مستحکم مشرق وسطیٰ اور ایک ابھرتا ہوا پاکستان ان قوتوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں۔ خطے میں امن، اقتصادی تعاون اور سفارتی توازن کا قیام دراصل ان کے اس بیانیے کو کمزور کرتا ہے جو کشیدگی، تصادم اور عدم استحکام پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حساس مواقع پر غلط فہمیوں کو ہوا دینا، سفارتی دباؤ بڑھانا یا پراکسی تنازعات کو جنم دینا ان کے ممکنہ حربوں میں شامل ہو سکتا ہے۔تاہم اس تناظر میں یہ امر نہایت اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت ان تمام ممکنہ چیلنجز اور سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی بصیرت، اسحاق ڈار کی سفارتی مہارت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر قیادت عسکری تیاری اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان نہ صرف ان چیلنجز کا ادراک رکھتا ہے بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے فکری، نظری اور اسٹریٹجک صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی ہمہ جہت تیاری پاکستان کو ایک مضبوط، باخبر اور پرعزم ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔
یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان کو جو عزت و تکریم حاصل ہوئی ہے، وہ محض وقتی سفارتی سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا مظہر ہے۔ اس تسلسل کی بنیاد نواز شریف کی وہ فکری اور عملی پالیسی ہے جس میں پاکستان کو ایک متوازن، خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر عالمی سطح پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔نواز شریف کا وژن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پاکستان کو عالمی تنازعات میں ایک ذمہ دار اور معتدل کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے ادوار میں خارجہ پالیسی کو محض سیاسی ضرورت کے بجائے ایک اسٹریٹجک اور معاشی ضرورت کے طور پر دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب عالمی طاقتیں دوبارہ مکالمے کی طرف آ رہی ہیں تو پاکستان کا کردار ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی کامیابی کے امکانات نہ صرف موجود ہیں، بلکہ چیلنجز بھی کم نہیں۔ باہمی عدم اعتماد، علاقائی اتحادیوں کے مفادات اور عالمی طاقتوں کی ترجیحات اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ مکالمہ ہی مسائل کا واحد پائیدار حل ہے، اور یہی راستہ عالمی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔پاکستان نے اس سمت جو سیاسی و سفارتی کامیابی حاصل کی ھے اس پر پاکستان عالمی تحسین و تبریک کا مظہر بن کر ابھرا ھے پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اپنے سفارتی کردار کو مضبوط کرے بلکہ معاشی مواقع کو بھی بروئے کار لائے۔ توانائی کے شعبے میں تعاون، علاقائی تجارت کا فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے امکانات اس عمل کے مثبت پہلو ہو سکتے ہیں۔
اختتامیہ کے طور پر یہ کہنا بجا ہوگا کہ امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور ایک نئی عالمی ترتیب کی بنیاد رکھ رہا ہے، اور اس نازک مرحلے پر پاکستان کی موجودہ سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت نے جس بصیرت، ہم آہنگی اور قومی مفاد کے ساتھ فیصلے کیے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت، اسحاق ڈار کی مؤثر سفارت کاری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ عسکری حکمت عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر منوایا ہے، جبکہ اس پورے تسلسل کے پس منظر میں نواز شریف کا فکری وژن ایک مضبوط بنیاد کے طور پر نمایاں ہے۔ یہی ہم آہنگی، یہی عزم اور یہی قیادت پاکستان کے روشن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہے۔