تحریر :سردار شعیب حیدری
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک نہایت حساس مگر امید افزا مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر اسلام آباد میں منعقد ہونے کا قوی امکان ہے، اگرچہ جنیوا جیسے روایتی سفارتی مراکز بھی زیر غور ہیں۔ تاہم پاکستان کی حالیہ فعال سفارت کاری اور عسکری و سیاسی قیادت کے کردار نے اسلام آباد کو ایک قابلِ قبول اور غیر متنازع مقام کے طور پر نمایاں کیا ہےپاکستان کی جانب سے ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ماضی کی روایتی پالیسیوں سے ہٹ کر ایک متوازن اور فعال خارجہ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق ایسے مواقع کسی بھی ملک کے عالمی مقام کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور پاکستان اس وقت اسی سمت میں پیش رفت کرتا نظر آ رہا ہے۔
عارضی جنگ بندی جو 22 اپریل تک مؤثر ہے، اس میں توسیع کے امکانات روشن ہیں۔ اگر یہ توسیع عمل میں آتی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ مشرق وسطیٰ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور دیگر ایشیائی باشندوں کے لیے یہ صورتحال غیر یقینی سے استحکام کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ کے ذیلی فورمز بھی اس پیش رفت کو علاقائی کشیدگی میں کمی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اور بینجمن نیتن یاہو کے مابین پالیسی اختلافات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ماضی میں جان کیری اور ہلیری کلنٹن جیسے اعلیٰ عہدیداران اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اقدامات کے لیے امریکی قیادت پر دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے ان کی جانب سے مبینہ طور پر تقریباً 270 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ ایک اہم سفارتی چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے مطالبات نہ صرف مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ علاقائی اتحادیوں کو بھی ایک متوازن راستہ فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ براہ راست مالی یا عسکری دباؤ سے بچ سکیں۔اگر یہ سفارتی عمل ایک جامع معاہدے کی صورت اختیار کرتا ہے تو امکان یہی ہے کہ اس کا سیاسی کریڈٹ خود ڈونلڈ ٹرمپ لینے کی کوشش کریں گے، جبکہ جے ڈی وینس جیسے ابھرتے ہوئے رہنما اس عمل میں پس منظر میں رکھے جا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں کریڈٹ اور بیانیہ سازی ہمیشہ سے اہم عنصر رہے ہیں، اور اس معاملے میں بھی یہی رجحان غالب نظر آتا ہے۔مجموعی طور پر، یہ سفارتی عمل نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ پاکستان کا کردار اگر اسی تسلسل سے جاری رہا تو وہ ایک ذمہ دار اور مؤثر عالمی ثالث کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ تاہم ابھی بھی کئی معاملات طے طلب ہیں، اور آنے والے دن اس پورے عمل کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ پاکستان زندہ باد