بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ پر گنڈا سنگھ بارڈر سے بھارتی غائب ہوگئے

83

معرکہ حق بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر گنڈا سنگھ بارڈر پر رینجرز کے چاک و چوبند دستوں نے اپنی پریڈ کی گھن گرج سے شہریوں کے جذبے کو دوبالا کردیا جہاں فضا ‘پاکستان زندہ باد’ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی جبکہ دوسری جانب بھارت اپنی حدود میں پریڈ کے لیے بھی نہیں آسکا۔

ایک سال قبل جب دشمن نے بزدلانہ چالوں سے پاکستان کی سالمیت کو للکارا تھا تو ’بنیان مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار)‘ نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا اور آج اسی معرکے کی پہلی سالگرہ پر بھارت پر بنیان مرصوص کی ہیبت اس قدر طاری نظر آئی کہ بھارتی اہلکار پریڈ کے لیے بھی سامنے نہ آسکے مگر پاکستانی رینجرز کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت کا شاہکار اور تنی ہوئی گردنیں دشمن کو واضح پیغام دے رہی تھیں۔

گنڈا سنگھ بارڈر کی دوسری طرف بھارتی حدود میں خاموشی اور پریڈ سے فرار شکست کی عکاسی کر رہی تھی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے کا نیا ڈھنگ سیکھا ہے، پاک فوج کا ہر جوان اب دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے ایک ناقابل عبور فصیل بن چکا ہے۔

سرحد پر پریڈ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے شہریوں کا جوش و خروش دیدنی تھا، جنہوں نے اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ سازشیں جتنی بھی گہری ہوں، حق کے سامنے ہمیشہ مٹ جایا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گنڈا سنگھ بارڈر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پاکستان امن کا داعی ضرور ہے مگر اس کی امن پسندی کو کمزوری سمجھنا دشمن کی سب سے بڑی بھول ہوگی، ’بنیان مرصوص‘ نے تاریخ کے ماتھے پر یہ رقم کر دیا ہے کہ اب اگر کسی نے بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے مٹانے کے لیے ارض پاک کے بیٹوں کا ایک وار ہی کافی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں